السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
جماع أبواب جزاء الطير -- باب: ما جاء في جزاء الحمام وما في معناه باب: 0پرندوں کے شکار کی جزا (فدیہ) کے ابواب کا مجموعہ۔ -- باب: کبوتر اور اس کے حکم میں آنے والے پرندوں کی جزا کے بارے میں جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 10006
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ رَجُلٍ أَظُنُّهُ أَبَا بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهِكٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، فِي رَجُلٍ أَغْلَقَ بَابَهُ عَلَى حَمَامَةٍ وَفَرْخَيْهَا يَعْنِي فَرَجَعَ وَقَدْ مُوِّتَتْ فَأَغْرَمَهُ ابْنُ عُمَرَ ثَلَاثَ شِيَاهٍ مِنَ الْغَنَمِ.حافظ ثناء اللہ
یوسف بن ماہک، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ اس نے کبوتری اور اس کے دو بچوں پر دروازہ بند کر دیا، پھر وہ واپس آیا تو وہ مر چکی تھیں، تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس پر تین بکریاں چٹی ڈالیں۔