❮
❯
حدیث نمبر: 10005
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، ثنا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ حُمَيْدٍ، قَتَلَ ابْنٌ لَهُ حَمَامَةً فَجَاءَ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " يَذْبَحُ شَاةً فَيَتَصَدَّقُ بِهَا ". قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: فَقُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَمِنْ حَمَامِ مَكَّةَ؟ قَالَ: نَعَمْ. وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " فِي الْحَمَامَةِ شَاةٌ لَا يُؤْكَلُ مِنْهَا يُتَصَدَّقُ بِهَا " وَعَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " فِي الْخُضَرِيِّ وَالدِّبْسِيِّ وَالْقُمْرِيِّ وَالْقَطَاةِ وَالْحَجَلِ شَاةٌ شَاةٌ ".
حافظ ثناء اللہ

حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عثمان بن عبیداللہ بن حمید کے بیٹے نے ایک کبوتری قتل کردی۔ وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، ان سے بات کی تو ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: ایک بکری ذبح کرو جو صدقہ کی جائے۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا: کیا مکہ کے کبوتروں میں سے تھی؟ فرمانے لگے: ہاں۔
(ب) عطاء رحمہ اللہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ کبوتری کے عوض ایک بکری ہے، اس میں سے کھایا نہ جائے، اسے صدقہ کر دیا جائے۔
(ج) عطاء رحمہ اللہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ”خضری“ (ایسا پرندہ جس کا رنگ سبزی مائل ہوتا ہے، اس کو اخیل بھی کہتے ہیں)، دبسی (کبوتروں کی ایک قسم جس کا رنگ خاکی ہوتا ہے)، قمری (فاختہ کی شکل کا ایک خوش آواز پرندہ)، قطاۃ (بھٹ تیتر) اور چکور کے عوض ایک ایک بکری ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10005
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبه 8273»