السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
جماع أبواب جزاء الطير -- باب: ما جاء في جزاء الحمام وما في معناه باب: 0پرندوں کے شکار کی جزا (فدیہ) کے ابواب کا مجموعہ۔ -- باب: کبوتر اور اس کے حکم میں آنے والے پرندوں کی جزا کے بارے میں جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 10005
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، ثنا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ حُمَيْدٍ، قَتَلَ ابْنٌ لَهُ حَمَامَةً فَجَاءَ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " يَذْبَحُ شَاةً فَيَتَصَدَّقُ بِهَا ". قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: فَقُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَمِنْ حَمَامِ مَكَّةَ؟ قَالَ: نَعَمْ. وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " فِي الْحَمَامَةِ شَاةٌ لَا يُؤْكَلُ مِنْهَا يُتَصَدَّقُ بِهَا " وَعَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " فِي الْخُضَرِيِّ وَالدِّبْسِيِّ وَالْقُمْرِيِّ وَالْقَطَاةِ وَالْحَجَلِ شَاةٌ شَاةٌ ".حافظ ثناء اللہ
یوسف بن مالک، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ اس نے کبوتری اور اس کے بچوں پر دروازہ بند کر لیا اور خود لوٹ گیا۔ وہ مر گئیں تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس پر تین بکریاں چٹی ڈالیں۔