السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
جماع أبواب جزاء الطير -- باب: ما جاء في جزاء الحمام وما في معناه باب: 0پرندوں کے شکار کی جزا (فدیہ) کے ابواب کا مجموعہ۔ -- باب: کبوتر اور اس کے حکم میں آنے والے پرندوں کی جزا کے بارے میں جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 10007
وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ رِوَايَتَهُ عَنْهُ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ الْفَقِيهِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ ⦗٣٣٧⦘ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، وَيُوسُفَ بْنِ مَاهِكٍ، وَمَنْصُورٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّ رَجُلًا أَغْلَقَ بَابَهُ عَلَى حَمَامَةٍ وَفَرْخَيْهَا ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى عَرَفَاتٍ وَمِنًى فَرَجَعَ وَقَدْ مُوِّتَتْ فَأَتَى ابْنَ عُمَرَ فَذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ فَجَعَلَ عَلَيْهِ ثَلَاثًا مِنَ الْغَنَمِ وَحَكَمَ مَعَهُ رَجُلٌ.حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب مکہ کے کبوتروں میں سے کسی کو قتل کر دیا جائے تو اس کے عوض ایک بکری ہے۔