أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أنَّهُ سَنَّ فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالْعُيُونُ أَوْ كَانَ عَثَرِيًّا الْعُشْرَ وَفِيمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفَ الْعُشْرِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ..
حافظ ثناء اللہ
سالم بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جسے آسمان یا چشمے سیراب کریں یا وہ بارانی ہو تو اس میں عشر ہے، اور جسے پانی کھینچ کر سیراب کیا جائے تو اس میں نصف عشر ہے۔“
وَرَوَاهُ هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، بِإِسْنَادِهِ هَذَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالْأَنْهَارُ وَالْعُيُونُ أَوْ كَانَ بَعْلًا الْعُشْرُ وَفِيمَا سُقِيَ بِالسَّوَانِي أَوِ النَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْهَيْثَمِ الْأَيْلِيُّ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابنِ وہب رحمہ اللہ اسی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کو آسمان، نہریں یا چشمے پلائیں یا وہ بارانی ہو اس میں عشر ہے، لیکن جسے پانی کھینچ کر یا کنویں وغیرہ سے پلایا جائے تو اس میں نصف عشر ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ⦗٢١٩⦘ أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أنَّهُ كَانَ يَقُولُ: صَدَقَةُ الثِّمَارِ وَالزَّرْعِ مَا كَانَ مِنْ نَخْلٍ أَوْ عِنَبٍ أَوْ زَرْعٍ مِنْ حِنْطَةٍ أَوْ شَعِيرٍ أَوْ سُلْتٍ وَسُقِيَ بِنَهْرٍ أَوْ سُقِيَ بِالْعَيْنِ أَوْ عَثَرِيًّا يُسْقَى بِالْمَطَرِ فَفِيهِ الْعُشْرُ مِنْ كُلِّ عَشَرَةٍ وَاحِدٌ، وَمَا كَانَ يُسْقَى بِالنَّضْحِ فَفِيهِ نِصْفُ الْعُشْرِ مِنْ كُلِّ عِشْرِينَ وَاحِدٌ، وَكَتَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ إِلَى الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ وَمَنْ مَعَهُ مِنْ مَعَافِرَ وَهَمْدَانَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ فِي صَدَقَةِ الثِّمَارِ أَوْ قَالَ: " الْعَقَارُ عُشْرُ مَا تَسْقِي الْعَيْنُ وَمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَعَلَى مَا يُسْقَى بِالْغَرْبِ نِصْفُ الْعُشْرِ " قَالَ الشَّيْخُ: هَكَذَا وَجَدْتُهُ مَوْصُولًا بِالْحَدِيثِ وَفِي قَوْلِهِ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كَالدَّلَالَةِ عَلَى أَنَّهَا لَا تُؤْخَذُ مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ پھلوں اور غلے کی زکوٰۃ وہی ہے جو کھجور، انگور، گندم، عام جو اور بغیر چھلکے والے جو میں سے ہے، اور جو (پیداوار) چشموں سے یا نہر سے سیراب کی گئی ہو یا بارانی ہو جسے بارش نے سیراب کیا ہو یعنی ہر دس میں سے ایک ہے، اس میں عشر ہے اور جو پانی کھینچ کر پلائے جائیں اس میں نصف عشر ہے یعنی ہر بیس میں سے ایک ہے، اور نبی کریم ﷺ نے اہل یمن کو تحریر بھیجی: ”حارث بن عبد کلال اور جو ان کے ساتھ معافر و ہمدان کے مومنین ہیں، ان پر پھلوں میں زکوٰۃ ہے اور زمین (کی پیداوار) جسے چشمے پلائیں اس میں بھی عشر ہے، جسے آسمان پلائے اس میں بھی عشر ہے اور جسے کنویں سے پلایا جائے اس میں نصف عشر ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَكَ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فِيمَا سَقَتِ الْأَنْهَارُ وَالْغَيْمُ الْعُشْرُ وَفِيمَا سُقِيَ بِالسَّانِيَةِ نِصْفُ الْعُشْرِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَارُونَ بْنِ سَعِيدٍ وَغَيْرُهُ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس فصل کو نہریں یا بادل پلائیں، اس میں عشر ہے اور جسے رہٹ (کنویں) وغیرہ سے پلایا جائے اس میں نصف عشر ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ الثِّقَةِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، وَعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالْعُيُونُ وَالْبَعْلُ الْعُشْرُ وَفِيمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ " رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِ الْقَدِيمِ عَنْ مَالِكٍ وَقَالَ فِي الْجَدِيدِ: بَلَغَنِي أَنَّ هَذَا الْحَدِيثَ يُوصَلُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي ذُبَابٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ أَعْلَمْ مُخَالِفًا وَإِنَّمَا أَرَادَ بِهِ الْحَارِثَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ فَإِنَّهُ يَرْوِيهِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ وَبُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَوْصُولًا.
حافظ ثناء اللہ
بسر بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جسے آسمان یا چشمے سیراب کرتے ہیں یا جو بارانی (بعل) ہو اس میں عشر ہے اور جس زمین کو پانی کھینچ کر (رہٹ) وغیرہ سے سیراب کیا جائے تو اس میں نصف عشر ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ یہ حدیث ابن ابی ذباب کی روایت سے نبی ﷺ تک متصل بیان کی جاتی ہے، اور میں اس کا کوئی مخالف نہیں جانتا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ یہ حدیث ابن ابی ذباب کی روایت سے نبی ﷺ تک متصل بیان کی جاتی ہے، اور میں اس کا کوئی مخالف نہیں جانتا۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْمَدِينِيِّ، يَقُولُ: تَرَكَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ الرِّوَايَةَ عَنِ ابْنِ أَبِي ذُبَابٍ، فَلَيْسَ فِي كِتَابِهِ ذِكْرُهُ وَلَمْ يَرْوِ عَنْهُ شَيْئًا قَالَ: وَحَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْأَشْجَعِيُّ حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ ⦗٢٢٠⦘ يَسَارٍ وَبُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ الْعُشْرُ وَفِيمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ ". قَالَ عَاصِمٌ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ قَالَ: خُبِّرْتُ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ وَبُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ وَتَرَكَ ابْنَ أَبِي ذُبَابٍ لِلْمُنْكَرَاتِ الَّتِي فِي رِوَايَتِهِ. قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا الْحَدِيثُ مُسْتَغْنٍ عَنْ رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي ذُبَابٍ فَقَدْ رُوِّينَاهُ بِإِسْنَادَيْنِ صَحِيحَيْنِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَوْلُ الْعَامَّةِ لَمْ يَخْتَلِفُوا فِيهِ، وَحَدِيثُ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ قَدْ مَضَى ذِكْرُهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم بن اسحاق حربی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے علی بن مدینی رحمہ اللہ سے سنا کہ مالک بن انس رحمہ اللہ نے ابن ابی ذباب سے روایت کرنا ترک کر دیا تھا، چنانچہ ان کی کتاب میں ان کا ذکر نہیں ہے اور نہ ہی انہوں نے ان سے کچھ روایت کیا۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس زمین کو آسمان پانی پلائے اس میں عشر ہے اور جسے رہٹ (کنویں) وغیرہ سے پلایا جائے اس میں نصف عشر ہے۔“
عاصم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمیں مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ مجھے سلیمان بن یسار رحمہ اللہ اور بسر بن سعید رحمہ اللہ سے (یہ روایت) خبر دی گئی ہے، اور انہوں (امام مالک) نے ابن ابی ذباب کو ان منکر روایات کی وجہ سے ترک کر دیا جو ان کی روایت میں ہیں۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ حدیث ابن ابی ذباب کی روایت کی محتاج نہیں، ہم نے اسے دو صحیح اسناد سے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطے سے نبی ﷺ سے اور ایک صحیح سند سے جابر رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی ﷺ سے روایت کیا ہے۔ یہی عام (اہل علم) کا قول ہے، اس میں ان کا کوئی اختلاف نہیں، اور عمرو بن حزم کی حدیث کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس زمین کو آسمان پانی پلائے اس میں عشر ہے اور جسے رہٹ (کنویں) وغیرہ سے پلایا جائے اس میں نصف عشر ہے۔“
عاصم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمیں مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ مجھے سلیمان بن یسار رحمہ اللہ اور بسر بن سعید رحمہ اللہ سے (یہ روایت) خبر دی گئی ہے، اور انہوں (امام مالک) نے ابن ابی ذباب کو ان منکر روایات کی وجہ سے ترک کر دیا جو ان کی روایت میں ہیں۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ حدیث ابن ابی ذباب کی روایت کی محتاج نہیں، ہم نے اسے دو صحیح اسناد سے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطے سے نبی ﷺ سے اور ایک صحیح سند سے جابر رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی ﷺ سے روایت کیا ہے۔ یہی عام (اہل علم) کا قول ہے، اس میں ان کا کوئی اختلاف نہیں، اور عمرو بن حزم کی حدیث کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: " بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ وَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِمَّا سَقَتِ السَّمَاءُ وَمَا سُقِيَ بَعْلًا الْعُشْرُ وَمَا سُقِيَ بِالدَّوَالِي نِصْفُ الْعُشْرِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اہل یمن کی طرف بھیجا اور مجھے حکم دیا کہ: ”میں ان زمینوں سے جنہیں آسمان پلاتا ہے اور نہری پانی والی زمینوں سے عشر وصول کروں اور جو زمینیں رہٹ وغیرہ سے پلائی جائیں ان سے نصف عشر وصول کروں۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ وَحْدَهُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَمَا سُقِيَ فَتْحًا الْعُشْرُ وَمَا سُقِيَ دَلْوًا فَنِصْفُ الْعُشْرِ ".
حافظ ثناء اللہ
عاصم بن ضمرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جسے آسمان پلائے اور جو نہروں وغیرہ سے پلائی جائیں ان میں عشر ہے اور جو ڈول وغیرہ سے سیراب کی جائیں ان میں نصف عشر ہے۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا إِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " مَا سَقَتِ السَّمَاءُ فَمِنْ كُلِّ عَشَرَةٍ وَاحِدٌ وَمَا سُقِيَ بِالْغَرْبِ فَمَنْ كُلِّ عِشْرِينَ وَاحِدٌ ".
حافظ ثناء اللہ
عاصم بن ضمرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جسے آسمان پلائے اس کی ہر دس میں سے ایک ہے اور جسے رہٹ وغیرہ سے پلایا جائے اس کے بیس میں سے ایک ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " فَرَضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ أَوْ سُقِيَ بِالسَّيْلِ وَالْغَيْلِ وَالْبَعْلِ الْعُشْرُ وَمَا سُقِيَ بِالنَّوَاضِحِ فَنِصْفُ الْعُشْرِ ". قَالَ حَاتِمٌ: الْغَيْلُ مَا سُقِيَ فَتْحًا وَالْبَعْلُ هُوَ الْعَذْيُ الَّذِي يَسْقِيَهِ مَاءُ الْمَطَرِ. قَالَ يَحْيَى بْنُ آدَمَ: وَسَأَلْتُ أَبَا إِيَاسٍ يَعْنِي الْأَسَدِيَّ فَقَالَ: الْبَعْلُ وَالْعَثَرِيُّ وَالْعَذْيُ هُوَ الَّذِي يُسْقَى بِمَاءِ السَّمَاءِ قَالَ يَحْيَى: الْعَثَرِيُّ مَا يُزْرَعُ لِلْسَحَابِ لِلْمَطَرِ خَاصَّةً لَيْسَ يُسْقَى إِلَّا بِمَاءٍ يُصِيبُهُ مِنَ الْمَطَرِ فَذَلِكَ الْعَثَرِيُّ وَالْبَعْلُ مَا كَانَ مِنَ الْكُرُومِ قَدْ ذَهَبَتْ عُرُوقُهُ فِي الْأَرْضِ إِلَى الْمَاءِ فَلَا يَحْتَاجُ إِلَى السَّقْيِ الْخَمْسَ السِّنِينَ وَالسِّتَّ يَحْتَمِلُ تَرْكَ السَّقْيِ فَهَذَا الْبَعْلُ، وَالسَّيْلُ مَاءُ الْوَادِي إِذَا سَالَ، ⦗٢٢١⦘ وَأَمَّا الْغَيْلُ فَهُوَ سَيْلٌ دُونَ السَّيْلِ الْكَثِيرِ إِذَا سَالَ الْقَلِيلُ بِالْمَاءِ الصَّافِي فَهُوَ الْغَيْلُ، وَالْعَذْيُ مَاءُ الْمَطَرِ.
حافظ ثناء اللہ
جعفر بن محمد رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”جسے آسمان پلاتا ہے یا سیلاب یا نہریں یا بارانی زمین کی پیداوار ہے اس کا دسواں حصہ «عُشْرٌ» مقرر فرمایا اور جسے رہٹ وغیرہ سے پلایا جائے اس میں «نِصْفُ الْعُشْرِ» مقرر فرمایا۔“
حاتم فرماتے ہیں کہ «الْغَیْلُ» وہ ہے جسے بہتے پانی (نالیوں) سے سیراب کیا جائے اور «الْبَعْلُ» وہی «الْعَذْیُ» ہے جسے بارش کا پانی سیراب کرے۔ یحییٰ بن آدم کہتے ہیں: میں نے ابو ایاس اسدی سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ «الْبَعْلُ»، «الْعَثَرِیُّ» اور «الْعَذْیُ» وہ ہے جسے آسمان کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہے۔ یحییٰ کہتے ہیں: «الْعَثَرِیُّ» وہ ہے جو خاص طور پر بادل یعنی بارش کے لیے کاشت کیا جائے، اسے صرف بارش کا وہی پانی ملتا ہے جو اس پر برسے، اور «الْبَعْلُ» انگور کی وہ بیلیں ہیں جن کی جڑیں زمین میں پانی تک پہنچ چکی ہوں، تو انہیں پانچ چھ سال تک پانی پلانے کی ضرورت نہیں پڑتی، وہ پانی نہ پلانے کو برداشت کر لیتی ہیں، اور «السَّیْلُ» وادی کا پانی ہے جب وہ بہہ نکلے، اور «الْغَیْلُ» بڑے سیلاب سے کم بہاؤ ہے، جب تھوڑا سا صاف پانی بہے تو وہ «الْغَیْلُ» ہے، اور «الْعَذْیُ» بارش کا پانی ہے۔
حاتم فرماتے ہیں کہ «الْغَیْلُ» وہ ہے جسے بہتے پانی (نالیوں) سے سیراب کیا جائے اور «الْبَعْلُ» وہی «الْعَذْیُ» ہے جسے بارش کا پانی سیراب کرے۔ یحییٰ بن آدم کہتے ہیں: میں نے ابو ایاس اسدی سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ «الْبَعْلُ»، «الْعَثَرِیُّ» اور «الْعَذْیُ» وہ ہے جسے آسمان کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہے۔ یحییٰ کہتے ہیں: «الْعَثَرِیُّ» وہ ہے جو خاص طور پر بادل یعنی بارش کے لیے کاشت کیا جائے، اسے صرف بارش کا وہی پانی ملتا ہے جو اس پر برسے، اور «الْبَعْلُ» انگور کی وہ بیلیں ہیں جن کی جڑیں زمین میں پانی تک پہنچ چکی ہوں، تو انہیں پانچ چھ سال تک پانی پلانے کی ضرورت نہیں پڑتی، وہ پانی نہ پلانے کو برداشت کر لیتی ہیں، اور «السَّیْلُ» وادی کا پانی ہے جب وہ بہہ نکلے، اور «الْغَیْلُ» بڑے سیلاب سے کم بہاؤ ہے، جب تھوڑا سا صاف پانی بہے تو وہ «الْغَیْلُ» ہے، اور «الْعَذْیُ» بارش کا پانی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أنَّهُ سَأَلَهُ عَنِ الْأَرْضِ تُسْقَى بِالسَّيْحِ ثُمَّ تُسْقَى بِالدَّوَالِي أَوْ تُسْقَى بِالدَّوَالِي ثُمَّ بِالسَّيْحِ عَلَى أَيِّهِمَا تُؤْخَذُ الزَّكَاةُ؟ قَالَ: " عَلَى أَكْثَرِهِمَا تُسْقَى بِهِ ". قَالَ يَحْيَى بْنُ آدَمَ تُزَكَّى بِالْحِصَّةِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ، عطاء رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ ان سے پوچھا گیا: اس زمین کی پیداوار کی زکوٰۃ کس طرح ہوگی جسے بہتے ہوئے پانی سے سیراب کیا گیا اور پھر اسے رہٹ وغیرہ سے سیراب کیا گیا یا پہلے رہٹ وغیرہ سے، پھر نہری پانی سے سیراب کیا گیا؟ تو انہوں نے کہا: جس کے ساتھ زیادہ سیراب کیا گیا۔ یحییٰ بن آدم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے حصے کے برابر زکوٰۃ وصول کی جائے گی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنُ بَالَوَيْهِ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أنَّهُ كَانَ يُخْرِجُ لَهُ الطَّعَامَ مِنْ أَرْضِهِ فَيُعْطِي صَدَقَتَهُ ثُمَّ يَحْبِسُهُ السَّنَةَ أَوِ السَّنَتَيْنِ وَلَا يُزَكِّيهِ وَهُوَ يُرِيدُ بَيْعَهُ. قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ: ثُمَّ سَمِعْتُهُ أَنَا بَعْدُ مِنَ ابْنِ الْمُبَارَكِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن طاؤس رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کی زمین میں سے ضرورت کا غلہ نکالا جاتا تو وہ اس کی زکاۃ ادا کرتے، پھر اسے سال یا دو سال رکھتے مگر اس میں سے عشر وغیرہ نہ دیتے حالانکہ وہ اسے فروخت کرنا چاہتے تھے۔