کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: مسلمان خراجی زمینوں میں سے کسی زمین پر کاشت کرے تو اس کی پیداوار پر اسے عشر (دسواں حصہ) یا نصف عشر (بیسواں حصہ) ادا کرنا ہوگا۔
حدیث نمبر: 7497
قَالَ اللهُ تَعَالَى: {خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ} [التوبة: 103] وَقَالَ: {وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ} [الأنعام: 141] وَقَالَ: {وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ} [البقرة: 267] وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ "، وَقَالَ: " فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالْعُيُونُ الْعُشْرُ وَفِيمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ "..
حافظ ثناء اللہ
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ﴾ ”آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ وصول کیجیے جو انہیں پاک کر دے۔“ [سورة التوبة: 103]
اور فرمایا: ﴿وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ﴾ ”اور اس کی کٹائی کے دن اس کا حق ادا کرو۔“ [سورة الأنعام: 141]
اور فرمایا: ﴿وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ﴾ ”اور اس میں سے جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالا ہے۔“ [سورة البقرة: 267]
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”پانچ وسق سے کم (پیداوار) میں کوئی زکوٰۃ نہیں ہے۔“
اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس (زمین) کو آسمان (کی بارش) اور چشمے سیراب کریں اس میں دسواں حصہ (عشر) ہے، اور جسے اونٹوں (یا مصنوعی ذرائع) کے ذریعے سیراب کیا جائے اس میں بیسواں حصہ (نصف عشر) ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7497
حدیث نمبر: 7497
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، قَالَ: سَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ مُسْلِمٍ يَكُونُ فِي يَدَهِ أَرْضُ الْخَرَاجِ فَيُسْأَلُ الزَّكَاةَ فَيَقُولُ: إِنَّ عَلَيَّ الْخَرَاجَ. قَالَ: " الْخَرَاجُ عَلَى الْأَرْضِ، وَفِي الْحَبِّ الزَّكَاةُ " قَالَ: وَسَأَلْتُهُ مَرَّةً أُخْرَى فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن میمون بن مہران رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ سے اس مسلمان کی زکاۃ کے بارے میں پوچھا جس کے پاس ٹیکس والی زمین ہو اور اس سے زکاۃ پوچھی جاتی تو وہ کہتا کہ میرے ذمے اس کا ٹیکس بھی ہے، تو وہ کہتے کہ ٹیکس زمین پر ہے اور زکاۃ پیداوار پر۔ وہ کہتے ہیں: میں نے ایک مرتبہ پھر پوچھا تو انہوں نے یہی جواب دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7497
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه ابو عبيد»
حدیث نمبر: 7498
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، قَالَ: سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنْ زَكَاةِ الْأَرْضِ الَّتِي عَلَيْهَا الْجِزْيَةُ فَقَالَ: " لَمْ يَزَلِ الْمُسْلِمُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَعْدَهُ يُعَامَلُونَ عَلَى الْأَرْضِ وَيَسْتَكْرُونَهَا وَيُؤَدُّونَ الزَّكَاةَ مِمَّا خَرَجَ مِنْهَا فَنَرَى هَذِهِ الْأَرْضَ عَلَى نَحْوِ ذَلِكَ " وَالْكَلَامُ فِي سَوَادِ الْعِرَاقِ مَوْضِعُهُ كِتَابُ الْجِزْيَةِ. ⦗٢٢٢⦘ فَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي.
حافظ ثناء اللہ
یونس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے زہری رحمہ اللہ سے اس زمین کی زکوٰۃ کے بارے میں پوچھا جس پر ٹیکس ہو، تو انہوں نے فرمایا: مسلمان ہمیشہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں اور اس کے بعد بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے اور کرائے پر لیا کرتے تھے مگر زکوٰۃ بھی ادا کیا کرتے تھے، ہم اس زمین کو بھی ویسے ہی تصور کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7498
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ هذا اسناد صحيح الي الزهري»
حدیث نمبر: 7499
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى السَّرَخْسِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَنْبَسَةَ، ثنا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَجْتَمِعُ عَلَى الْمُسْلِمِ خَرَاجٌ وَعُشْرٌ ". فَهَذَا حَدِيثٌ بَاطِلٌ وَصْلُهُ وَرَفْعُهُ، وَيَحْيَى بْنُ عَنْبَسَةَ مُتَّهَمٌ بَالْوَضْعِ، قَالَ أَبُو سَعْدٍ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ إِنَّمَا يَرْوِيهِ أَبُو حَنِيفَةَ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ مِنْ قَوْلِهِ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ عَنْبَسَةَ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ فَأَوْصَلَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَيَحْيَى بْنُ عَنْبَسَةَ مَكْشُوفُ الْأَمْرِ فِي ضَعْفِهِ لِرِوَايَاتِهِ عَنِ الثِّقَاتِ بِالْمَوْضُوعَاتِ.
حافظ ثناء اللہ
علقمہ رحمہ اللہ عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسلمان پر ٹیکس اور عشر دونوں جمع نہیں ہوتے۔“ سو یہ حدیث باطل ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7499
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «موضوع۔ أخرجه ابن عدي في الكامل»