السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: قدر الصدقة فيما أخرجت الأرض. باب: زمین کی پیداوار میں زکوٰۃ (عشر) کی مقدار کا بیان۔
حدیث نمبر: 7495
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أنَّهُ سَأَلَهُ عَنِ الْأَرْضِ تُسْقَى بِالسَّيْحِ ثُمَّ تُسْقَى بِالدَّوَالِي أَوْ تُسْقَى بِالدَّوَالِي ثُمَّ بِالسَّيْحِ عَلَى أَيِّهِمَا تُؤْخَذُ الزَّكَاةُ؟ قَالَ: " عَلَى أَكْثَرِهِمَا تُسْقَى بِهِ ". قَالَ يَحْيَى بْنُ آدَمَ تُزَكَّى بِالْحِصَّةِ.حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ، عطاء رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ ان سے پوچھا گیا: اس زمین کی پیداوار کی زکوٰۃ کس طرح ہوگی جسے بہتے ہوئے پانی سے سیراب کیا گیا اور پھر اسے رہٹ وغیرہ سے سیراب کیا گیا یا پہلے رہٹ وغیرہ سے، پھر نہری پانی سے سیراب کیا گیا؟ تو انہوں نے کہا: جس کے ساتھ زیادہ سیراب کیا گیا۔ یحییٰ بن آدم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے حصے کے برابر زکوٰۃ وصول کی جائے گی۔