حدیث نمبر: 7487
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ⦗٢١٩⦘ أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أنَّهُ كَانَ يَقُولُ: صَدَقَةُ الثِّمَارِ وَالزَّرْعِ مَا كَانَ مِنْ نَخْلٍ أَوْ عِنَبٍ أَوْ زَرْعٍ مِنْ حِنْطَةٍ أَوْ شَعِيرٍ أَوْ سُلْتٍ وَسُقِيَ بِنَهْرٍ أَوْ سُقِيَ بِالْعَيْنِ أَوْ عَثَرِيًّا يُسْقَى بِالْمَطَرِ فَفِيهِ الْعُشْرُ مِنْ كُلِّ عَشَرَةٍ وَاحِدٌ، وَمَا كَانَ يُسْقَى بِالنَّضْحِ فَفِيهِ نِصْفُ الْعُشْرِ مِنْ كُلِّ عِشْرِينَ وَاحِدٌ، وَكَتَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ إِلَى الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ وَمَنْ مَعَهُ مِنْ مَعَافِرَ وَهَمْدَانَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ فِي صَدَقَةِ الثِّمَارِ أَوْ قَالَ: " الْعَقَارُ عُشْرُ مَا تَسْقِي الْعَيْنُ وَمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَعَلَى مَا يُسْقَى بِالْغَرْبِ نِصْفُ الْعُشْرِ " قَالَ الشَّيْخُ: هَكَذَا وَجَدْتُهُ مَوْصُولًا بِالْحَدِيثِ وَفِي قَوْلِهِ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كَالدَّلَالَةِ عَلَى أَنَّهَا لَا تُؤْخَذُ مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ پھلوں اور غلے کی زکوٰۃ وہی ہے جو کھجور، انگور، گندم، عام جو اور بغیر چھلکے والے جو میں سے ہے، اور جو (پیداوار) چشموں سے یا نہر سے سیراب کی گئی ہو یا بارانی ہو جسے بارش نے سیراب کیا ہو یعنی ہر دس میں سے ایک ہے، اس میں عشر ہے اور جو پانی کھینچ کر پلائے جائیں اس میں نصف عشر ہے یعنی ہر بیس میں سے ایک ہے، اور نبی کریم ﷺ نے اہل یمن کو تحریر بھیجی: ”حارث بن عبد کلال اور جو ان کے ساتھ معافر و ہمدان کے مومنین ہیں، ان پر پھلوں میں زکوٰۃ ہے اور گھاس وغیرہ جنہیں چشموں سے پلایا جاتا ہے ان میں بھی عشر ہے، جسے آسمان پلائے اس میں بھی عشر ہے اور جسے کنویں سے پلایا جائے اس میں نصف عشر ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7487
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه الشافعي»