حدیث نمبر: 7494
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " فَرَضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ أَوْ سُقِيَ بِالسَّيْلِ وَالْغَيْلِ وَالْبَعْلِ الْعُشْرُ وَمَا سُقِيَ بِالنَّوَاضِحِ فَنِصْفُ الْعُشْرِ ". قَالَ حَاتِمٌ: الْغَيْلُ مَا سُقِيَ فَتْحًا وَالْبَعْلُ هُوَ الْعَذْيُ الَّذِي يَسْقِيَهِ مَاءُ الْمَطَرِ. قَالَ يَحْيَى بْنُ آدَمَ: وَسَأَلْتُ أَبَا إِيَاسٍ يَعْنِي الْأَسَدِيَّ فَقَالَ: الْبَعْلُ وَالْعَثَرِيُّ وَالْعَذْيُ هُوَ الَّذِي يُسْقَى بِمَاءِ السَّمَاءِ قَالَ يَحْيَى: الْعَثَرِيُّ مَا يُزْرَعُ لِلْسَحَابِ لِلْمَطَرِ خَاصَّةً لَيْسَ يُسْقَى إِلَّا بِمَاءٍ يُصِيبُهُ مِنَ الْمَطَرِ فَذَلِكَ الْعَثَرِيُّ وَالْبَعْلُ مَا كَانَ مِنَ الْكُرُومِ قَدْ ذَهَبَتْ عُرُوقُهُ فِي الْأَرْضِ إِلَى الْمَاءِ فَلَا يَحْتَاجُ إِلَى السَّقْيِ الْخَمْسَ السِّنِينَ وَالسِّتَّ يَحْتَمِلُ تَرْكَ السَّقْيِ فَهَذَا الْبَعْلُ، وَالسَّيْلُ مَاءُ الْوَادِي إِذَا سَالَ، ⦗٢٢١⦘ وَأَمَّا الْغَيْلُ فَهُوَ سَيْلٌ دُونَ السَّيْلِ الْكَثِيرِ إِذَا سَالَ الْقَلِيلُ بِالْمَاءِ الصَّافِي فَهُوَ الْغَيْلُ، وَالْعَذْيُ مَاءُ الْمَطَرِ.
حافظ ثناء اللہ

جعفر بن محمد رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”جسے آسمان پلاتا ہے یا سیلاب یا نہریں یا بارانی زمین کی پیداوار ہے اس کا دسواں حصہ «عُشْرٌ» مقرر فرمایا اور جسے رہٹ وغیرہ سے پلایا جائے اس میں «نِصْفُ الْعُشْرِ» مقرر فرمایا۔“
حاتم فرماتے ہیں کہ «الْغَیْلُ» وہ زمین ہے جسے رہٹ وغیرہ سے پلایا جائے اور «الْبَعْلُ» وہ ہے جسے بارش سیراب کرے۔ یحییٰ بن آدم کہتے ہیں: میں نے ابو ایاس سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ «الْبَعْلُ» عشری ہے اور «الْعَذْیُ» وہ ہیں جنہیں بارش کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہے۔ یحییٰ کہتے ہیں: عشری وہ ہے جسے صرف بارش سے کاشت کیا جائے، یعنی بارش کے بغیر پانی نہ پلایا جائے اور «الْبَعْلُ» جو انگور کی بیلیں ہیں ان کی جڑیں زمین میں گہری پانی تک چلی جائیں اور پانچ سال تک بھی اسے پانی پلانے کی ضرورت پیش نہ آئے جس سے پانی ترک کرنے کا احتمال ہو اور «السَّیْلُ» وادی کا پانی ہے جب بہہ نکلے، لیکن جو سیل (سیلاب) ہے یہ زیادہ سیلاب سے کم ہوتا ہے، جب تھوڑا صاف بہے تو وہ «السَّیْلُ» ہے اور بارش کا پانی «الْعَذْیُ» ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7494
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه عبد الرزاق»