السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: قدر الصدقة فيما أخرجت الأرض. باب: زمین کی پیداوار میں زکوٰۃ (عشر) کی مقدار کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " فَرَضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ أَوْ سُقِيَ بِالسَّيْلِ وَالْغَيْلِ وَالْبَعْلِ الْعُشْرُ وَمَا سُقِيَ بِالنَّوَاضِحِ فَنِصْفُ الْعُشْرِ ". قَالَ حَاتِمٌ: الْغَيْلُ مَا سُقِيَ فَتْحًا وَالْبَعْلُ هُوَ الْعَذْيُ الَّذِي يَسْقِيَهِ مَاءُ الْمَطَرِ. قَالَ يَحْيَى بْنُ آدَمَ: وَسَأَلْتُ أَبَا إِيَاسٍ يَعْنِي الْأَسَدِيَّ فَقَالَ: الْبَعْلُ وَالْعَثَرِيُّ وَالْعَذْيُ هُوَ الَّذِي يُسْقَى بِمَاءِ السَّمَاءِ قَالَ يَحْيَى: الْعَثَرِيُّ مَا يُزْرَعُ لِلْسَحَابِ لِلْمَطَرِ خَاصَّةً لَيْسَ يُسْقَى إِلَّا بِمَاءٍ يُصِيبُهُ مِنَ الْمَطَرِ فَذَلِكَ الْعَثَرِيُّ وَالْبَعْلُ مَا كَانَ مِنَ الْكُرُومِ قَدْ ذَهَبَتْ عُرُوقُهُ فِي الْأَرْضِ إِلَى الْمَاءِ فَلَا يَحْتَاجُ إِلَى السَّقْيِ الْخَمْسَ السِّنِينَ وَالسِّتَّ يَحْتَمِلُ تَرْكَ السَّقْيِ فَهَذَا الْبَعْلُ، وَالسَّيْلُ مَاءُ الْوَادِي إِذَا سَالَ، ⦗٢٢١⦘ وَأَمَّا الْغَيْلُ فَهُوَ سَيْلٌ دُونَ السَّيْلِ الْكَثِيرِ إِذَا سَالَ الْقَلِيلُ بِالْمَاءِ الصَّافِي فَهُوَ الْغَيْلُ، وَالْعَذْيُ مَاءُ الْمَطَرِ.جعفر بن محمد رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”جسے آسمان پلاتا ہے یا سیلاب یا نہریں یا بارانی زمین کی پیداوار ہے اس کا دسواں حصہ «عُشْرٌ» مقرر فرمایا اور جسے رہٹ وغیرہ سے پلایا جائے اس میں «نِصْفُ الْعُشْرِ» مقرر فرمایا۔“
حاتم فرماتے ہیں کہ «الْغَیْلُ» وہ ہے جسے بہتے پانی (نالیوں) سے سیراب کیا جائے اور «الْبَعْلُ» وہی «الْعَذْیُ» ہے جسے بارش کا پانی سیراب کرے۔ یحییٰ بن آدم کہتے ہیں: میں نے ابو ایاس اسدی سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ «الْبَعْلُ»، «الْعَثَرِیُّ» اور «الْعَذْیُ» وہ ہے جسے آسمان کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہے۔ یحییٰ کہتے ہیں: «الْعَثَرِیُّ» وہ ہے جو خاص طور پر بادل یعنی بارش کے لیے کاشت کیا جائے، اسے صرف بارش کا وہی پانی ملتا ہے جو اس پر برسے، اور «الْبَعْلُ» انگور کی وہ بیلیں ہیں جن کی جڑیں زمین میں پانی تک پہنچ چکی ہوں، تو انہیں پانچ چھ سال تک پانی پلانے کی ضرورت نہیں پڑتی، وہ پانی نہ پلانے کو برداشت کر لیتی ہیں، اور «السَّیْلُ» وادی کا پانی ہے جب وہ بہہ نکلے، اور «الْغَیْلُ» بڑے سیلاب سے کم بہاؤ ہے، جب تھوڑا سا صاف پانی بہے تو وہ «الْغَیْلُ» ہے، اور «الْعَذْیُ» بارش کا پانی ہے۔