السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: قدر الصدقة فيما أخرجت الأرض. باب: زمین کی پیداوار میں زکوٰۃ (عشر) کی مقدار کا بیان۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْمَدِينِيِّ، يَقُولُ: تَرَكَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ الرِّوَايَةَ عَنِ ابْنِ أَبِي ذُبَابٍ، فَلَيْسَ فِي كِتَابِهِ ذِكْرُهُ وَلَمْ يَرْوِ عَنْهُ شَيْئًا قَالَ: وَحَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْأَشْجَعِيُّ حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ ⦗٢٢٠⦘ يَسَارٍ وَبُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ الْعُشْرُ وَفِيمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ ". قَالَ عَاصِمٌ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ قَالَ: خُبِّرْتُ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ وَبُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ وَتَرَكَ ابْنَ أَبِي ذُبَابٍ لِلْمُنْكَرَاتِ الَّتِي فِي رِوَايَتِهِ. قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا الْحَدِيثُ مُسْتَغْنٍ عَنْ رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي ذُبَابٍ فَقَدْ رُوِّينَاهُ بِإِسْنَادَيْنِ صَحِيحَيْنِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَوْلُ الْعَامَّةِ لَمْ يَخْتَلِفُوا فِيهِ، وَحَدِيثُ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ قَدْ مَضَى ذِكْرُهُ.ابراہیم بن اسحاق حربی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے علی بن مدینی رحمہ اللہ سے سنا کہ مالک بن انس رحمہ اللہ نے ابن ابی ذباب سے روایت کرنا ترک کر دیا تھا، چنانچہ ان کی کتاب میں ان کا ذکر نہیں ہے اور نہ ہی انہوں نے ان سے کچھ روایت کیا۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس زمین کو آسمان پانی پلائے اس میں عشر ہے اور جسے رہٹ (کنویں) وغیرہ سے پلایا جائے اس میں نصف عشر ہے۔“
عاصم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمیں مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ مجھے سلیمان بن یسار رحمہ اللہ اور بسر بن سعید رحمہ اللہ سے (یہ روایت) خبر دی گئی ہے، اور انہوں (امام مالک) نے ابن ابی ذباب کو ان منکر روایات کی وجہ سے ترک کر دیا جو ان کی روایت میں ہیں۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ حدیث ابن ابی ذباب کی روایت کی محتاج نہیں، ہم نے اسے دو صحیح اسناد سے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطے سے نبی ﷺ سے اور ایک صحیح سند سے جابر رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی ﷺ سے روایت کیا ہے۔ یہی عام (اہل علم) کا قول ہے، اس میں ان کا کوئی اختلاف نہیں، اور عمرو بن حزم کی حدیث کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔