أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ هُشَيْمٌ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " كَانَ أَحَدُنَا يُكَلِّمُ يَعْنِي صَاحِبَهُ إِلَى جَنْبِهِ فِي الصَّلَاةِ حَتَّى نَزَلَتْ {قُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ} [البقرة: ٢٣٨] فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ وَنُهِينَا عَنِ الْكَلَامِ " هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ هُشَيْمٍ وَقَالَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ، وَفِي حَدِيثِ يَحْيَى الْقَطَّانِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ شُبَيْلٍ وَقَالَ فِي مَتْنِهِ: " كُنَّا نَتَكَلَّمُ فِي الصَّلَاةِ يُكَلِّمُ أَحَدُنَا أَخَاهُ فِي حَاجَتِهِ حَتَّى نَزَلَتْ {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ} [البقرة: ٢٣٨] فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
(ا) زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ شروع میں ہم میں سے کوئی شخص نماز کے دوران ساتھ والے آدمی سے بات وغیرہ کر لیا کرتا تھا۔ جب یہ آیت ﴿وَقُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِيْنَ﴾ [سورة البقرة: 238] ”اللہ کے سامنے خاموشی سے کھڑے ہو جاؤ۔“ نازل ہوئی تو ہمیں خاموشی اختیار کرنے اور بات چیت سے باز رہنے کا حکم دیا گیا۔
(ب) یحییٰ قطان، اسماعیل سے اور وہ حارث بن شبیل سے نقل کرتے ہیں کہ ہم نماز میں کلام کیا کرتے تھے۔ ہم میں سے کوئی اپنے بھائی سے کسی بھی ضرورت کے تحت بات کر لیتا لیکن جب یہ آیت: ﴿حَافِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰی وَقُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِيْنَ﴾ [سورة البقرة: 238] ”نمازوں پر محافظت کرو خصوصاً درمیانی نماز پر اور اللہ کے سامنے خاموشی سے کھڑے ہو جاؤ“ تو ہمیں بات چیت سے باز رہنے کا حکم دیا گیا۔
(ب) یحییٰ قطان، اسماعیل سے اور وہ حارث بن شبیل سے نقل کرتے ہیں کہ ہم نماز میں کلام کیا کرتے تھے۔ ہم میں سے کوئی اپنے بھائی سے کسی بھی ضرورت کے تحت بات کر لیتا لیکن جب یہ آیت: ﴿حَافِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰی وَقُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِيْنَ﴾ [سورة البقرة: 238] ”نمازوں پر محافظت کرو خصوصاً درمیانی نماز پر اور اللہ کے سامنے خاموشی سے کھڑے ہو جاؤ“ تو ہمیں بات چیت سے باز رہنے کا حکم دیا گیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو بَدْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ بِطُوسَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ شَوْذَبَ الْمُقْرِئُ بِوَاسِطَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ رَشَدِ بْنِ خُثَيْمٍ الْكُوفِيُّ بِوَاسِطَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا، فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ سَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْنَا، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَيْكَ فِي الصَّلَاةِ فَتُرَدُّ عَلَيْنَا قَالَ: " إِنَّ فِي الصَّلَاةِ شُغْلًا " لَفْظُ حَدِيثِ ابْنُ فُضَيْلٍ وَفِي حَدِيثِ أَبِي بَدْرٍ شُجَاعِ بْنِ الْوَلِيدِ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، كُنْتَ تُرَدُّ عَلَيْنَا مَا لَكَ الْيَوْمَ لَمْ تُرَدَّ عَلَيْنَا؟ فَقَالَ: " إِنَّ فِي الصَّلَاةِ شُغُلًا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حالتِ نماز میں ہوتے تو ہم آپ کو سلام کہتے اور آپ ہمیں سلام کا جواب دیتے۔ جب ہم شاہِ حبشہ (نجاشی) سے لوٹ کر آئے تو ہم نے آپ کو سلام کیا لیکن آپ نے ہمیں کوئی جواب نہ دیا تو ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! پہلے ہم آپ کو نماز میں سلام کہتے تھے تو آپ ہمیں جواب دے دیتے تھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نماز میں مشغولیت (مصروفیت) ہوتی ہے۔“
(ب) ابوبدر شجاع بن ولید کی حدیث میں ہے کہ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں سلام کا جواب دیا کرتے تھے کیا وجہ ہے آج آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نماز میں مصروفیت ہوتی ہے۔“
(ب) ابوبدر شجاع بن ولید کی حدیث میں ہے کہ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں سلام کا جواب دیا کرتے تھے کیا وجہ ہے آج آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نماز میں مصروفیت ہوتی ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو ⦗٣٥٣⦘ دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَأَخَذَنِي مَا قَدُمَ وَمَا حَدُثَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَحَدَثَ شَيْءٌ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحْدِثُ لِنَبِيِّهِ مِنْ أَمْرِهِ مَا شَاءَ، وَإِنْ مِمَّا أَحْدَثَ أَنْ لَا تَكَلَّمُوا فِي الصَّلَاةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں (حبشہ سے) رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ﷺ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے آپ ﷺ کو سلام کیا، لیکن آپ ﷺ نے سلام کا جواب نہ دیا۔ مجھے نئی اور پرانی باتوں کی فکر لاحق ہوئی، (جب رسول اللہ ﷺ نے نماز مکمل کر لی) تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا کوئی نیا حکم آگیا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اپنے نبی کے لیے جو چاہتا ہے نیا حکم نازل کر دیتا ہے۔ اب اللہ کا نیا حکم یہ ہے کہ تم نماز میں باتیں نہ کیا کرو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ زَائِدَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كُنَّا نَتَكَلَّمُ فِي الصَّلَاةِ وَيُسَلِّمُ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ وَيُومِئُ أَحَدُنَا بِالْحَاجَةِ قَالَ: فَجِئْتُ ذَاتَ يَوْمٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ فَأَخَذَنِي مَا قَدُمَ وَمَا حَدُثَ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ، وَإِنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ أَنْ لَا تَكَلَّمُوا فِي الصَّلَاةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نماز میں سلام، کلام اور ایک دوسرے سے ضرورت کی باتیں کر لیا کرتے تھے لیکن جب میں (حبشہ سے واپسی پر) ایک دن نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ﷺ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے آپ ﷺ کو سلام کہا، لیکن آپ ﷺ نے سلام کا جواب نہ دیا۔ مجھے نئی اور پرانی باتوں کی فکر لاحق ہوئی۔ جب رسول اللہ ﷺ نے نماز مکمل کر لی تو فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے نیا حکم نازل فرما دیتا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ کا نیا حکم یہ ہے کہ نماز میں باتیں نہ کیا کرو۔“
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ كَثِيرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ شِنْظِيرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: أَرْسَلَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ لَهُ فَجِئْتُ وَقَدْ قَضَيْتُهَا فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ ".
حافظ ثناء اللہ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مجھے اپنے کسی (ذاتی) کام کے لیے بھیجا تو میں کام پورا کر کے لوٹا۔ میں نے آپ ﷺ کو سلام کیا لیکن آپ نے جواب نہیں دیا۔ اس وقت آپ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا ابْنُ رَجَاءٍ يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ رَجَاءٍ السِّنْدِيَّ ثنا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ، ثنا عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ، فَانْطَلَقْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ وَقَدْ قَضَيْتُهَا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَوَقَعَ فِي قَلْبِي مَا اللهُ أَعْلَمُ بِهِ فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: لَعَلَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَيَّ أَنَّنِي أَبْطَأْتُ عَلَيْهِ ثُمَّ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَشَدُّ مِنَ الْمَرَّةِ الْأُولَى ثُمَّ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيَّ، فَقَالَ: " أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي وَكَانَ عَلَى رَاحِلَتِهِ مُتَوَجِّهًا لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (غزوہ بنی مصطلق میں) مجھے ایک کام کے لیے بھیجا۔ میں کام پورا کر کے لوٹا تو آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو سلام کیا۔ آپ ﷺ نے جواب نہ دیا۔ میرے دل میں اللہ جانے کیا بات آئی، میں نے اپنے دل میں کہا: شاید میں دیر سے آیا اس وجہ سے رسول اللہ ﷺ ناراض ہیں۔ پھر میں نے آپ ﷺ کو سلام کیا، آپ ﷺ نے جواب نہ دیا۔ اب میرے دل میں پہلے سے زیادہ خیال آیا، پھر میں نے تیسری مرتبہ سلام کیا تو آپ ﷺ نے جواب دیا اور فرمایا: ”سنو! میں نے اس لیے تمہارے سلام کا جواب نہ دیا کیونکہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔“ اور آپ ﷺ اونٹنی پر سوار تھے، اس کا منہ قبلہ کی طرف نہ تھا بلکہ دوسری طرف تھا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، وَأَبُوعَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عُتْبَةَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ الْحِجَازِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ قَالَ: بَيْنَا أَنَا مَعَ ⦗٣٥٤⦘ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللهُ، فَحَدَّقَنِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ، فَقُلْتُ: وَاثُكْلَ أُمِّيَاهُ مَا لَكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ؟ قَالَ: فَضَرَبُوا بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ قَالَ: فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُسَكِّتُونِي لَكِنِّي سَكَتُّ قَالَ: فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ دَعَانِي فَبِأَبِي وَأُمِّي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ وَاللهِ مَا كَهَرَنِي وَلَا ضَرَبَنِي وَلَا سَبَّنِي قَالَ: " إِنَّ صَلَاتَنَا هَذِهِ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ إِنَّمَا هُوَ التَّكْبِيرُ وَالتَّسْبِيحُ وَتِلَاوَةُ الْقُرْآنِ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (باجماعت) نماز پڑھ رہا تھا کہ ایک آدمی نے چھینک ماری تو میں نے کہہ دیا: «يَرْحَمُكَ اللّٰهُ» ”اللہ تم پر رحم فرمائے“۔ لوگ میری طرف گھورنے لگے۔ میں نے کہا: تمہاری مائیں تمہیں گم پائیں تم مجھے کیوں دیکھ رہے ہو؟ تو انہوں نے اپنی رانوں پر ہاتھ مارنا شروع کر دیے۔ پھر جب میں نے دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کروا رہے ہیں تو میں خاموش ہو گیا۔ جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے بلایا، آپ ﷺ پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔ میں نے اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ جیسا استاد نہیں دیکھا جو تعلیم دینے میں آپ ﷺ سے بہتر ہو۔ اللہ کی قسم! آپ ﷺ نے مجھے مارا نہ ڈانٹا اور نہ ہی برا بھلا کہا، بلکہ صرف اتنا فرمایا: ”یہ نماز ہے اس میں باتیں وغیرہ کرنا جائز نہیں اس میں تسبیح، تکبیر اور تلاوتِ قرآن ہوتی ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ النَّسَائِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، ثنا فُلَيْحٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ قَالَ: لَمَّا قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِمْتُ أُمُورًا مِنْ أُمُورِ الْإِسْلَامِ، فَكَانَ فِيمَا عَلِمْتُ أَنْ قِيلَ لِي: إِذَا عَطَسْتَ فَاحْمَدِ اللهَ وَإِذَا عَطَسَ الْعَاطِسُ فَحَمِدَ اللهَ فَقُلْ: يَرْحَمُكَ اللهُ قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا قَائِمٌ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ فَحَمِدَ اللهَ فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللهُ رَافِعًا بِهَا صَوْتِي فَرَمَانِي النَّاسُ بِأَبْصَارِهِمْ حَتَّى احْتَمَلَنِي ذَلِكَ، فَقُلْتُ: مَا لَكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ بِأَعْيُنٍ شَزْرٍ؟ قَالَ: فَسَبَّحُوا فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ: " مَنِ الْمُتَكَلِّمُ؟ " قِيلَ: هَذَا الْأَعْرَابِيُّ، فَدَعَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّمَا الصَّلَاةُ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَذِكْرِ اللهِ، فَإِذَا كُنْتَ فِيهَا فَلْيَكُنْ ذَلِكَ شَأْنَكَ " فَمَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَطُّ أَرْفَقَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے اسلام کے بہت سے احکام سکھائے، یعنی: ”جب تو چھینک مارے تو «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”اللہ کے لیے تمام تعریفیں ہیں“ کہہ اور جب کوئی اور چھینک مارے، وہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» کہے اور تو «يَرْحَمُكَ اللّٰهُ» ”اللہ تجھ پر رحم فرمائے“ کہہ۔“ ایک مرتبہ میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ نماز میں کھڑا تھا کہ اچانک ایک آدمی نے چھینک ماری، اس نے «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں“ کہا تو میں نے اونچی آواز میں «يَرْحَمُكَ اللّٰهُ» ”اللہ تجھ پر رحم فرمائے“ کہا، لوگ میری طرف گھورنے لگے حتیٰ کہ مجھے یہ کہنا پڑا کہ تمہیں کیا ہوا ہے، مجھے ایسی نظروں سے دیکھ رہے ہو؟ تو انہوں نے «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہا۔ جب نبی ﷺ نے نماز مکمل کی تو پوچھا: ”کلام کرنے والا کون آدمی تھا؟“ آپ ﷺ کو بتایا گیا کہ یہ دیہاتی، تو آپ ﷺ نے مجھے بلا کر فرمایا: ”نماز میں صرف تلاوتِ قرآن اور ذکرِ الٰہی ہوتا ہے، لہٰذا جب تم نماز میں ہو تو صرف تلاوت اور ذکر ہی کیا کرو۔“ میں نے رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر مشفق و مہربان معلم کسی اور کو نہیں دیکھا۔