السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما لا يجوز من الكلام في الصلاة باب: نماز میں جو کلام کرنا جائز نہیں اس کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، وَأَبُوعَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عُتْبَةَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ الْحِجَازِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ قَالَ: بَيْنَا أَنَا مَعَ ⦗٣٥٤⦘ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللهُ، فَحَدَّقَنِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ، فَقُلْتُ: وَاثُكْلَ أُمِّيَاهُ مَا لَكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ؟ قَالَ: فَضَرَبُوا بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ قَالَ: فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُسَكِّتُونِي لَكِنِّي سَكَتُّ قَالَ: فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ دَعَانِي فَبِأَبِي وَأُمِّي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ وَاللهِ مَا كَهَرَنِي وَلَا ضَرَبَنِي وَلَا سَبَّنِي قَالَ: " إِنَّ صَلَاتَنَا هَذِهِ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ إِنَّمَا هُوَ التَّكْبِيرُ وَالتَّسْبِيحُ وَتِلَاوَةُ الْقُرْآنِ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ.معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (باجماعت) نماز پڑھ رہا تھا کہ ایک آدمی نے چھینک ماری تو میں نے کہہ دیا: «يَرْحَمُكَ اللّٰهُ» ”اللہ تم پر رحم فرمائے“۔ لوگ میری طرف گھورنے لگے۔ میں نے کہا: تمہاری مائیں تمہیں گم پائیں تم مجھے کیوں دیکھ رہے ہو؟ تو انہوں نے اپنی رانوں پر ہاتھ مارنا شروع کر دیے۔ پھر جب میں نے دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کروا رہے ہیں تو میں خاموش ہو گیا۔ جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے بلایا، آپ ﷺ پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔ میں نے اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ جیسا استاد نہیں دیکھا جو تعلیم دینے میں آپ ﷺ سے بہتر ہو۔ اللہ کی قسم! آپ ﷺ نے مجھے مارا نہ ڈانٹا اور نہ ہی برا بھلا کہا، بلکہ صرف اتنا فرمایا: ”یہ نماز ہے اس میں باتیں وغیرہ کرنا جائز نہیں اس میں تسبیح، تکبیر اور تلاوتِ قرآن ہوتی ہے۔“