حدیث نمبر: 3345
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو ⦗٣٥٣⦘ دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَأَخَذَنِي مَا قَدُمَ وَمَا حَدُثَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَحَدَثَ شَيْءٌ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحْدِثُ لِنَبِيِّهِ مِنْ أَمْرِهِ مَا شَاءَ، وَإِنْ مِمَّا أَحْدَثَ أَنْ لَا تَكَلَّمُوا فِي الصَّلَاةِ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں (حبشہ سے) رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ﷺ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے آپ ﷺ کو سلام کیا، لیکن آپ ﷺ نے سلام کا جواب نہ دیا۔ مجھے نئی اور پرانی باتوں کی فکر لاحق ہوئی، (جب رسول اللہ ﷺ نے نماز مکمل کر لی) تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا کوئی نیا حکم آگیا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اپنے نبی کے لیے جو چاہتا ہے نیا حکم نازل کر دیتا ہے۔ اب اللہ کا نیا حکم یہ ہے کہ تم نماز میں باتیں نہ کیا کرو۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3345
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ اخرجه ابوداود 924»