حدیث نمبر: 3350
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ النَّسَائِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، ثنا فُلَيْحٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ قَالَ: لَمَّا قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِمْتُ أُمُورًا مِنْ أُمُورِ الْإِسْلَامِ، فَكَانَ فِيمَا عَلِمْتُ أَنْ قِيلَ لِي: إِذَا عَطَسْتَ فَاحْمَدِ اللهَ وَإِذَا عَطَسَ الْعَاطِسُ فَحَمِدَ اللهَ فَقُلْ: يَرْحَمُكَ اللهُ قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا قَائِمٌ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ فَحَمِدَ اللهَ فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللهُ رَافِعًا بِهَا صَوْتِي فَرَمَانِي النَّاسُ بِأَبْصَارِهِمْ حَتَّى احْتَمَلَنِي ذَلِكَ، فَقُلْتُ: مَا لَكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ بِأَعْيُنٍ شَزْرٍ؟ قَالَ: فَسَبَّحُوا فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ: " مَنِ الْمُتَكَلِّمُ؟ " قِيلَ: هَذَا الْأَعْرَابِيُّ، فَدَعَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّمَا الصَّلَاةُ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَذِكْرِ اللهِ، فَإِذَا كُنْتَ فِيهَا فَلْيَكُنْ ذَلِكَ شَأْنَكَ " فَمَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَطُّ أَرْفَقَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے اسلام کے بہت سے احکام سکھائے، یعنی: ”جب تو چھینک مارے تو «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”اللہ کے لیے تمام تعریفیں ہیں“ کہہ اور جب کوئی اور چھینک مارے، وہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» کہے اور تو «يَرْحَمُكَ اللّٰهُ» ”اللہ تجھ پر رحم فرمائے“ کہہ۔“ ایک مرتبہ میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ نماز میں کھڑا تھا کہ اچانک ایک آدمی نے چھینک ماری، اس نے «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں“ کہا تو میں نے اونچی آواز میں «يَرْحَمُكَ اللّٰهُ» ”اللہ تجھ پر رحم فرمائے“ کہا، لوگ میری طرف گھورنے لگے حتیٰ کہ مجھے یہ کہنا پڑا کہ تمہیں کیا ہوا ہے، مجھے ایسی نظروں سے دیکھ رہے ہو؟ تو انہوں نے «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہا۔ جب نبی ﷺ نے نماز مکمل کی تو پوچھا: ”کلام کرنے والا کون آدمی تھا؟“ آپ ﷺ کو بتایا گیا کہ یہ دیہاتی، تو آپ ﷺ نے مجھے بلا کر فرمایا: ”نماز میں صرف تلاوتِ قرآن اور ذکرِ الٰہی ہوتا ہے، لہٰذا جب تم نماز میں ہو تو صرف تلاوت اور ذکر ہی کیا کرو۔“ میں نے رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر مشفق و مہربان معلم کسی اور کو نہیں دیکھا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3350
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»