السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما لا يجوز من الكلام في الصلاة باب: نماز میں جو کلام کرنا جائز نہیں اس کا بیان
حدیث نمبر: 3347
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ كَثِيرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ شِنْظِيرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: أَرْسَلَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ لَهُ فَجِئْتُ وَقَدْ قَضَيْتُهَا فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ ".حافظ ثناء اللہ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مجھے اپنے کسی (ذاتی) کام کے لیے بھیجا تو میں کام پورا کر کے لوٹا۔ میں نے آپ ﷺ کو سلام کیا لیکن آپ نے جواب نہیں دیا۔ اس وقت آپ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے۔