کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جس نے کلام کے حرام ہونے سے ناواقفیت کی بنا پر کلام کیا
حدیث نمبر: 3351
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ قَالَ: قُلْتُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّا كُنَّا حَدِيثَ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ فَجَاءَ اللهُ بِالْإِسْلَامِ، وَإِنَّ رِجَالًا مِنَّا يَتَطَيَّرُونَ قَالَ: " ذَلِكَ شَيْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ فَلَا يَصُدَّنَّهُمْ " قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَرِجَالٌ مِنَّا يَأْتُونَ الْكَهَنَةَ قَالَ: " فَلَا يَأْتُوهُمْ " قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَرِجَالٌ مِنَّا يَخُطُّونَ قَالَ: " كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ " قَالَ: وَبَيَنَا أَنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللهُ فَحَدَّقَنِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ قَالَ: فَقُلْتُ: وَاثُكْلَ أُمِّيَاهُ مَا لَكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ؟ فَضَرَبَ الْقَوْمُ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُسَكِّتُونِي لَكِنِّي سَكَتُّ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ⦗٣٥٥⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَانِي، فَبِأَبِي هُوَ وَأُمِّي مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ، وَاللهِ مَا ضَرَبَنِي وَلَا كَهَرَنِي وَلَا سَبَّنِي، فَقَالَ: " إِنَّ صَلَاتَنَا هَذِهِ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ، وَإِنَّمَا هِيَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَتِلَاوَةُ الْقُرْآنِ " وَذَكَرَ بَاقِي الْحَدِيثِ وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، ثنا جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ: " إِنَّا كُنَّا حَدِيثَ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ فَجَاءَ اللهُ بِالْإِسْلَامِ " وَإِنَّمَا قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: إِنَّ رِجَالًا مِنَّا رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: ”ہم لوگ نئے نئے مسلمان ہوئے ہیں، اللہ نے ہمیں اسلام کی نعمت سے نواز دیا ہے۔ ابھی بھی ہم میں سے کچھ لوگ پرندوں کے ذریعے فال لیتے ہیں“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ محض وہم ہے جو ان کے ذہنوں میں ہے۔ یہ فال وغیرہ انھیں (کسی کام کے کرنے سے) نہ روکے“۔
فرماتے ہیں میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! ہم میں سے بعض لوگ کاہنوں (غیب کی خبریں بتانے والوں) کے پاس جاتے ہیں“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ نہ جایا کریں“۔ انہوں نے پھر عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں کھینچتے ہیں (اور ان سے فال لیتے ہیں)“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”انبیاء میں سے صرف ایک نبی (حضرت ادریس علیہ السلام) خط کھینچتے تھے، لہٰذا جس کا خط ان کے موافق ہو تو وہ درست ہے“۔
فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ نماز پڑھ رہا تھا۔ ایک نمازی نے چھینک ماری تو میں نے کہہ دیا: «يَرْحَمُكَ اللّٰهُ» ”اللہ تم پر رحم فرمائے“، تو لوگ میری طرف ترچھی نظروں سے دیکھنے لگے۔ میں نے کہا: ”تمہاری مائیں تمہیں گم پائیں! تم مجھے کیوں دیکھ رہے ہو؟“ انہوں نے اپنی رانوں پر ہاتھ مارنے شروع کر دیے۔ میں سمجھ گیا کہ وہ مجھے چپ کروانا چاہتے ہیں (تو میں ناراض ہوا) لیکن خاموش ہو گیا۔ جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے مجھے بلایا، آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر مشفق اور مہربان استاد کسی کو نہیں دیکھا، نہ آپ سے پہلے اور نہ آپ کے بعد۔ اللہ کی قسم! آپ نے مجھے مارا، نہ ڈانٹا اور نہ ہی برا بھلا کہا بلکہ صرف اتنا فرمایا: ”یہ نماز ہے، اس میں باتیں کرنا جائز نہیں، اس میں تو تسبیح، تکبیر اور تلاوتِ قرآن ہوتی ہے“۔
(ب) یہ حدیث دوسری سند سے بھی اسی طرح ہے مگر اس میں ان الفاظ «إِنَّا كُنَّا حَدِيثَ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ فَجَاءَ اللّٰهُ بِالْإِسْلَامِ» ”بے شک ہم جاہلیت کے زمانے کے قریب تھے، پھر اللہ تعالیٰ اسلام لے آیا“ کی جگہ یہ الفاظ ہیں: «قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ فَقُلْتُ: إِنَّ رِجَالًا مِنَّا» ”کہا: میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: بے شک ہم میں سے کچھ لوگ“۔
فرماتے ہیں میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! ہم میں سے بعض لوگ کاہنوں (غیب کی خبریں بتانے والوں) کے پاس جاتے ہیں“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ نہ جایا کریں“۔ انہوں نے پھر عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں کھینچتے ہیں (اور ان سے فال لیتے ہیں)“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”انبیاء میں سے صرف ایک نبی (حضرت ادریس علیہ السلام) خط کھینچتے تھے، لہٰذا جس کا خط ان کے موافق ہو تو وہ درست ہے“۔
فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ نماز پڑھ رہا تھا۔ ایک نمازی نے چھینک ماری تو میں نے کہہ دیا: «يَرْحَمُكَ اللّٰهُ» ”اللہ تم پر رحم فرمائے“، تو لوگ میری طرف ترچھی نظروں سے دیکھنے لگے۔ میں نے کہا: ”تمہاری مائیں تمہیں گم پائیں! تم مجھے کیوں دیکھ رہے ہو؟“ انہوں نے اپنی رانوں پر ہاتھ مارنے شروع کر دیے۔ میں سمجھ گیا کہ وہ مجھے چپ کروانا چاہتے ہیں (تو میں ناراض ہوا) لیکن خاموش ہو گیا۔ جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے مجھے بلایا، آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر مشفق اور مہربان استاد کسی کو نہیں دیکھا، نہ آپ سے پہلے اور نہ آپ کے بعد۔ اللہ کی قسم! آپ نے مجھے مارا، نہ ڈانٹا اور نہ ہی برا بھلا کہا بلکہ صرف اتنا فرمایا: ”یہ نماز ہے، اس میں باتیں کرنا جائز نہیں، اس میں تو تسبیح، تکبیر اور تلاوتِ قرآن ہوتی ہے“۔
(ب) یہ حدیث دوسری سند سے بھی اسی طرح ہے مگر اس میں ان الفاظ «إِنَّا كُنَّا حَدِيثَ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ فَجَاءَ اللّٰهُ بِالْإِسْلَامِ» ”بے شک ہم جاہلیت کے زمانے کے قریب تھے، پھر اللہ تعالیٰ اسلام لے آیا“ کی جگہ یہ الفاظ ہیں: «قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ فَقُلْتُ: إِنَّ رِجَالًا مِنَّا» ”کہا: میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: بے شک ہم میں سے کچھ لوگ“۔
حدیث نمبر: 3352
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ، ثنا يُونُسُ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، وَأَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَطَسَ رَجُلٌ إِلَى جَنْبِي فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللهُ، فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ، فَقُلْتُ: وَاثُكْلَ أُمَّيَاهُ مَا لِي أَرَاكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ وَأَنَا أُصَلِّي؟ فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ يُصَمِّتُونِي، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ، فَبِأَبِي وَأُمِّي مَا رَأَيْتُ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ، وَاللهِ مَا كَهَرَنِي وَلَا سَبَّنِي وَلَا ضَرَبَنِي وَلَكِنَّهُ قَالَ لِي: " إِنَّ صَلَاتَنَا هَذِهِ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ إِنَّمَا هُوَ الصَّلَاةُ وَالتَّسْبِيحُ وَالتَّحْمِيدُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ " أَوْ كَالَّذِي قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ذَكَرَ مَا ذَكَرَ الْأَوْزَاعِيُّ مِنَ التَّطَيُّرِ وَغَيْرِهِ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَمْ يُحْكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ بِإِعَادَةٍ وَحُكِيَ أَنَّهُ تَكَلَّمَ وَهُوَ جَاهِلٌ بِذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، میرے پہلو میں کھڑے ایک آدمی نے چھینک ماری تو میں نے «يَرْحَمُكَ اللهُ» ”اللہ تم پر رحم فرمائے“ کہہ دیا۔ لوگ میری طرف دیکھنے لگ گئے۔ میں نے کہا: تمہاری مائیں تمہیں گم پائیں، میں نماز پڑھ رہا ہوں اور تم مجھے دیکھے جا رہے ہو؟ انہوں نے رانوں پر ہاتھ مارنے شروع کر دیے۔ وہ مجھے خاموش کروانا چاہتے تھے (میں چپ ہو گیا)۔ جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے، آپ پر میرے والدین قربان ہوں، میں نے آپ سے پہلے اور آپ کے بعد آپ سے بڑھ کر مشفق اور مہربان استاد نہیں دیکھا۔ اللہ کی قسم! آپ نے مجھے نہ مارا، نہ ڈانٹا اور نہ برا بھلا کہا بلکہ فرمایا: ”یہ نماز ہے، اس میں لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنا درست نہیں، یہ صرف تسبیح، تحمید اور قرآن کی تلاوت کے لیے ہے۔“
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ سے یہ روایت منقول نہیں ہے کہ آپ ﷺ نے اسے نماز لوٹانے کا حکم دیا ہو کیونکہ اس نے نماز میں ناواقفیت سے کلام کیا تھا۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ سے یہ روایت منقول نہیں ہے کہ آپ ﷺ نے اسے نماز لوٹانے کا حکم دیا ہو کیونکہ اس نے نماز میں ناواقفیت سے کلام کیا تھا۔