حدیث نمبر: 3346
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ زَائِدَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كُنَّا نَتَكَلَّمُ فِي الصَّلَاةِ وَيُسَلِّمُ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ وَيُومِئُ أَحَدُنَا بِالْحَاجَةِ قَالَ: فَجِئْتُ ذَاتَ يَوْمٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ فَأَخَذَنِي مَا قَدُمَ وَمَا حَدُثَ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ، وَإِنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ أَنْ لَا تَكَلَّمُوا فِي الصَّلَاةِ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نماز میں سلام، کلام اور ایک دوسرے سے ضرورت کی باتیں کر لیا کرتے تھے لیکن جب میں (حبشہ سے واپسی پر) ایک دن نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ﷺ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے آپ ﷺ کو سلام کہا، لیکن آپ ﷺ نے سلام کا جواب نہ دیا۔ مجھے نئی اور پرانی باتوں کی فکر لاحق ہوئی۔ جب رسول اللہ ﷺ نے نماز مکمل کر لی تو فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے نیا حکم نازل فرما دیتا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ کا نیا حکم یہ ہے کہ نماز میں باتیں نہ کیا کرو۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3346
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ تقديم في الذي قبله»