کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف صاد سے شروع ہونے والی احادیث
«الصلاة في جماعة تعدل خمسا وعشرين صلاة فإذا صلاها في فلاة فأتم ركوعها وسجودها بلغت خمسين صلاة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جماعت کے ساتھ نماز پچیس نمازوں کے برابر ہے، پس اگر وہ اسے کھلے میدان میں پڑھے اور اس کا رکوع و سجود مکمل کرے تو وہ پچاس نمازوں کے برابر ہو جاتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3871
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ك] عن أبي سعيد. صحيح السنن ٥٦٩, صحيح الترغيب ٤١٠: حم
«الصلاة في مسجد قباء كعمرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مسجدِ قبا میں نماز پڑھنا عمرے کے برابر ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3872
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت هـ ك] عن أسيد بن حضير.
«الصلاة وما ملكت أيمانكم الصلاة وما ملكت أيمانكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”نماز کا خیال رکھو! اور جن کے تم مالک ہو ان کا خیال رکھو! نماز کا خیال رکھو! اور جن کے تم مالک ہو ان کا خیال رکھو!“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3873
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن هـ حب] عن أنس [حم هـ] عن أم سلمة [طب] عن ابن عمر.
«الصلوات الخمس كفارة لما بينهن ما اجتنبت الكبائر والجمعة إلى الجمعة وزيادة ثلاثة أيام»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”پانچوں نمازیں ان کے درمیان (سرزد ہونے والے گناہوں) کا کفارہ ہیں، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے، اور جمعہ سے جمعہ تک اور مزید تین دن (بھی کفارہ ہیں)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3874
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حل] عن أنس. الصحيحة ١٩٢٠: م - أبي هريرة في حديثين١
«الصلوات الخمس والجمعة إلى الجمعة ورمضان إلى رمضان مكفرات لما بينهن إذا اجتنبت الكبائر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”پانچوں نمازیں، جمعہ سے جمعہ تک اور رمضان سے رمضان تک، ان کے درمیان سرزد ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہیں، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3875
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ت] عن أبي هريرة.
«الصيام جنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”روزہ ڈھال ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3876
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن] عن أبي هريرة. صحيح الترغيب ٩٧٠ [نحوه عن معاذ] : ق
«الصيام جنة وإذا كان أحدكم صائما فلا يرفث ولا يجهل وإن امرؤ قاتله أو شاتمه فليقل: إني صائم مرتين والذي نفسي بيده لخلوف فم الصائم أطيب عند الله من ريح المسك يترك طعامه وشرابه وشهوته من أجلي الصيام لي وأنا أجزي به والحسنة بعشر أمثالها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”روزہ ڈھال ہے، اور جب تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو نہ بےہودہ بات کرے اور نہ جہالت کا کام کرے، اور اگر کوئی آدمی اس سے لڑے یا اسے گالی دے تو وہ دو مرتبہ کہے: میں روزے سے ہوں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔ وہ اپنا کھانا، اپنا پینا اور اپنی خواہش میری خاطر چھوڑ دیتا ہے، روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا، اور نیکی اپنی مثل سے دس گنا بڑھ کر لکھی جاتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3877
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ] عن أبي هريرة.
«الصيام جنة من النار فمن أصبح صائما فلا يجهل يومئذ وإن امرؤ جهل عليه فلا يشتمه ولا يسبه وليقل إني صائم والذي نفس محمد بيده لخلوف فم الصائم أطيب عند الله من ريح المسك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”روزہ آگ سے (بچنے کی) ڈھال ہے، پس جو روزے کی حالت میں صبح کرے وہ اس دن جہالت کا کام نہ کرے، اور اگر کوئی آدمی اس سے جہالت کرے تو وہ نہ اسے گالی دے اور نہ اسے برا بھلا کہے، بلکہ کہے: میں روزے سے ہوں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3878
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن عائشة. صحيح الترغيب ٢/٦٠
«الصيام جنة من النار كجنة أحدكم من القتال»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”روزہ آگ سے (بچنے کی) ڈھال ہے، جیسے تم میں سے کسی کی جنگ سے بچاؤ کی ڈھال ہوتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3879
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن هـ] عن عثمان بن أبي العاص. صحيح الترغيب ٩٧١: حب, ابن خزيمة.
«الصيام جنة وحصن حصين من النار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”روزہ آگ سے بچاؤ کی ڈھال اور مضبوط قلعہ ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3880
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم هب] عن أبي هريرة. صحيح الترغيب ٩٧٢
«الصيام جنة وهو حصن من حصون المؤمن وكل عمل لصاحبه إلا الصيام يقول الله: الصيام لي وأنا أجزي به»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”روزہ ڈھال ہے اور یہ مومن کے قلعوں میں سے ایک قلعہ ہے، اور ہر عمل کا اجر اس کے کرنے والے کے لیے ہے سوائے روزے کے، اللہ فرماتا ہے: روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3881
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب] عن أبي أمامة١ ... [انظر ما تقدم] .
«الصيام والقرآن يشفعان للعبد يوم القيامة يقول الصيام: أي رب إني منعته الطعام والشهوات بالنهار فشفعني فيه يقول القرآن: رب منعته النوم بالليل فشفعني فيه فيشفعان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کی سفارش کریں گے۔ روزہ کہے گا: اے رب! میں نے اسے دن میں کھانے پینے اور خواہشات سے روکا، پس میری سفارش اس کے حق میں قبول فرما۔ اور قرآن کہے گا: اے رب! میں نے اسے رات کو سونے سے روکا، پس میری سفارش اس کے حق میں قبول فرما۔ چنانچہ دونوں کی سفارش قبول کر لی جائے گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3882
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم طب ك هب] عن ابن عمرو. المشكاة ١٩٦٣, صحيح الترغيب ٩٧٣