حدیث نمبر: 3877
«الصيام جنة وإذا كان أحدكم صائما فلا يرفث ولا يجهل وإن امرؤ قاتله أو شاتمه فليقل: إني صائم مرتين والذي نفسي بيده لخلوف فم الصائم أطيب عند الله من ريح المسك يترك طعامه وشرابه وشهوته من أجلي الصيام لي وأنا أجزي به والحسنة بعشر أمثالها»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”روزہ ڈھال ہے، اور جب تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو نہ بےہودہ بات کرے اور نہ جہالت کا کام کرے، اور اگر کوئی آدمی اس سے لڑے یا اسے گالی دے تو وہ دو مرتبہ کہے: میں روزے سے ہوں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔ وہ اپنا کھانا، اپنا پینا اور اپنی خواہش میری خاطر چھوڑ دیتا ہے، روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا، اور نیکی اپنی مثل سے دس گنا بڑھ کر لکھی جاتی ہے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3877
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ] عن أبي هريرة.