❮
❯
662/857 عن مطرف قال: صحبت عمران بن حصين من الكوفة إلى البصرة، فقلّ منزل ينزله إلا وهو ينشدني شعراً: وقال: "إن في المعاريض لمندوحة عن الكذب".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
مطرف سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں کوفہ سے بصرہ تک سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا، وہ جس منزل پر بھی اترتے (تقریباً ہر جگہ) مجھے شعر سناتے، اور فرمایا: ”بیشک تعریض (ذو معنی گفتگو) میں جھوٹ سے بچنے کی گنجائش ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 662
تخریج حدیث (صحيح موقوفاً)
663/858 عن أبي بن كعب؛ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "إن من الشعر حكمة".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک بعض اشعار حکمت (پر مبنی) ہوتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 663
تخریج حدیث (صحيح)
664/859 عن الأسود بن سريع، [ قال: كنت شاعراً، فأتيت النبي صلى الله عليه وسلم فـ/861] قلت: يا رسول الله ! إني مدحت ربي عز وجل بمحامد. قال: "أما إن ربك يحب الحمد"، ولم يزده على ذلك.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، (انہوں نے کہا: میں شاعر تھا، تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور) عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے اپنے رب عزوجل کی تعریف میں کچھ حمدیہ کلمات کہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! بیشک تمہارا رب حمد کو پسند کرتا ہے۔“ اور آپ نے اس سے زیادہ کچھ نہیں فرمایا۔
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 664
تخریج حدیث (حسن)
665/860 عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " لأن يمتلىء جوف رجل قيحاً [حتى](1) يريه (2)، خير من أين يمتلئ شعراً".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی آدمی کا پیٹ پیپ سے بھر جائے (یہاں تک کہ) وہ اسے خراب کر دے، یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھر جائے۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 665
تخریج حدیث (صحيح)
666/862 عن عائشة رضي الله عنها قالت: استأذن حسان بن ثابت رسول الله صلى الله عليه وسلم في هجاء المشركين. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : فكيف بنسبتي؟". فقال: لأسلنك منهم كما تسل الشعرة من العجين.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی ہجو کرنے کی اجازت طلب کی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو میرے نسب کا کیا ہو گا؟“ انہوں نے عرض کیا: میں آپ کو ان میں سے اس طرح نکال لوں گا جیسے گوندھے ہوئے آٹے سے بال نکال لیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 666
تخریج حدیث (صحيح)
667/863 عن عروة قال: ذهبت أسب حسان عند عائشة، فقالت: لا تسبه؛ فإنه " كان ينافحُ (3)عن رسول الله صلى الله عليه وسلم".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
عروہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنے لگا تو انہوں نے فرمایا: انہیں برا نہ کہو، کیونکہ وہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے (کفار کو) جواب دیا کرتے تھے۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 667
تخریج حدیث (صحيح)