660/854 عن قيس [ وهو ابن أبي حازم ]قال: سمعت معاوية يقول : لأخ له صغير، أردف الغلام، فأبى، فقال له معاوية: بئس ما أدبت، قال قيس : فسمعت أبا سفيان يقول: دع عنك أخاك.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
قیس (بن ابی حازم) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنے ایک چھوٹے بھائی سے کہتے سنا: لڑکے کو اپنے پیچھے سوار کر لو، تو اس نے انکار کر دیا۔ اس پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تمہیں بہت برا ادب سکھایا گیا ہے۔ قیس نے کہا: پھر میں نے سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: اپنے بھائی کو چھوڑ دو (اسے کچھ نہ کہو)۔
661/855 عن عمرو بن العاص: " إذا كثر الأخلاء كثر الغرماء" قلت لموسى: وما الغرماء؟ قال: الحقوق.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جب دوست زیادہ ہو جاتے ہیں تو حق دار (مطالبہ کرنے والے) بھی زیادہ ہو جاتے ہیں۔“ (راوی کہتے ہیں:) میں نے موسیٰ سے پوچھا: غُرَماء سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: حقوق۔