کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کی حجاج سے گفتگو
فحدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعْدي، حدثنا رَوْح بن عُبَادة، حدثنا عَوف، حدثنا أبو الصِّدِّيق قال: لما ظَفِرَ الحجّاجُ على ابن الزُّبير فقتله ومَثَّل به، ثم دخل على أم عبد الله، وهي أسماءُ بنت أبي بكر، فقالت: كيف تستأذنُ علي وقد قتلتَ ابني؟! فقال: إِنَّ ابنك أَلحَدَ في حَرَم الله، فقتلتُه مُلحِدًا عاصيًا، حتى أذاقه الله عذابًا أليمًا، وفَعَلَ به وفَعَل، فقالت: كذبت يا عدوَّ الله وعدوَّ المسلمين، والله لقد قتلته صوّامًا قوامًا بَرًّا بوالديه، حافظًا لهذا الدِّين، ولئِن أفسدتَ عليه دُنْياه، لقد أفسد عليك آخرتكَ، ولقد حدَّثَنا رسول الله ﷺ: أنه يخرج من ثَقيفٍ كذَّابانِ، الآخِرُ منهما أشرُّ من الأول، وهو المُبِير، وما هو إلَّا أنت يا حجَّاجُ (1).
حافظ طلحہ بابر
ابوالصدیق سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب حجاج (بن یوسف) سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما پر غالب آگیا اور انہیں شہید کر کے ان کے جسم کی بے حرمتی کی، تو وہ سیدنا عبداللہ کی والدہ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کے پاس گیا، انہوں نے فرمایا: ”تم مجھ سے ملنے کی اجازت کیسے مانگتے ہو جبکہ تم نے میرے بیٹے کو قتل کر دیا ہے؟!“ حجاج نے کہا: ”تمہارے بیٹے نے اللہ کے حرم میں کج روی اختیار کی تھی، اس لیے میں نے اسے ایک نافرمان ملحد کے طور پر قتل کیا ہے یہاں تک کہ اللہ نے اسے دردناک عذاب کا مزہ چکھایا“، اور اس نے ان کے بارے میں بہت کچھ کہا، تو انہوں نے فرمایا: ”اے اللہ کے دشمن اور مسلمانوں کے دشمن! تو نے جھوٹ بولا ہے، اللہ کی قسم! تو نے اسے اس حال میں قتل کیا ہے کہ وہ کثرت سے روزے رکھنے والا، راتوں کو قیام کرنے والا، اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا اور اس دین کا محافظ تھا، اور اگر تو نے اس کی دنیا برباد کی ہے تو اس نے تیری آخرت برباد کر دی ہے، اور یقیناً ہمیں رسول اللہ ﷺ نے یہ حدیث بیان فرمائی تھی کہ: ”قبیلہ ثقیف سے دو کذاب (بڑے جھوٹے) نکلیں گے، ان میں سے دوسرا پہلے سے زیادہ برا ہوگا اور وہ مبیر (انتہائی خونخوار اور ہلاک کرنے والا) ہوگا“، اور اے حجاج! وہ تو ہی ہے۔“
أخبرَناهُ الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا أبو عُمر (2) الحَوْضي وعَمْرو (3) بن مرزوق قالا: حدثنا شُعبة، عن حُصَين؛ فذكر الحديث بنحوه، وزاد فيه: فقال: الحجَّاج: صَدَقَ رسول الله ﷺ وَصَدَقتِ، أنا المُبيرُ؛ أُبِيرُ المنافقين (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8603 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8603 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
حصین سے روایت ہے، انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی اور اس میں یہ اضافہ کیا: پس حجاج نے کہا: ”رسول اللہ ﷺ نے سچ فرمایا اور تم نے بھی سچ کہا، میں ہی ”مبیر“ (ہلاک کرنے والا) ہوں؛ میں منافقین کو ہلاک کرتا ہوں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني محمد بن موسى بن عمران المؤذِّن، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن المثنَّى، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شُعبة قال: سمعت أبا جَمْرة يحدِّث عن إياس بن قَتَادة، عن قيس بن عُبَاد قال: كنت أَقدَمُ المدينة ألقى ناسًا من أصحاب الرسول ﷺ، فكان أحبَّهم إليَّ لقاءً أُبيُّ بنُ كعب، قال: فَقَدِمتُ زمنَ عمر إلى المدينة، فأقاموا صلاةَ الصبح، فخرج عمرُ وخرج معه رجالٌ، فإذا رجلٌ من القوم يَنظُرُ في وجوه القوم، فعَرَفَهم وأنكَرَني فَدَفَعَني فقام مقامي، فصلَّيتُ وما أَعقِلُ صلاتي، فلما صلَّى قال: يا بنيَّ، لا يَسُؤُكَ الله، إني [لم] (2) أَفعل الذي فعلتُ لجهالةٍ؛ إنَّ رسول الله ﷺ قال لنا: "كونوا في الصفِّ الذي يَلِيني"، وإني نظرتُ في وجوه القوم فعرفتُهم غيرَك. وجلس، فما رأيتُ الرجالَ مَتَحَت (3) أعناقَها إلى شيء مُتُوحَها (4) إليه، فإذا هو أُبيُّ بن كعب، وكان فيما قال: هَلَكَ أهلُ العَقْد وربِّ الكعبة، هَلَك أهلُ العَقْد وربِّ الكعبة، والله ما آسَى عليهم، إنما أسَى على مَن أهلَكوا من المسلمين (5).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8604 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8604 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
قیس بن عباد سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں مدینہ منورہ آیا کرتا تھا تاکہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ سے ملاقات کروں، مجھے ان سب میں سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ملنا سب سے زیادہ پسند تھا، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مدینہ آیا، نمازِ فجر کے لیے اقامت کہی گئی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نکلے اور ان کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی تھے، لوگوں میں سے ایک شخص قوم کے چہروں کو دیکھنے لگا، اس نے انہیں پہچان لیا مگر مجھے نہ پہچانا تو مجھے (صف سے پیچھے) دھکیل دیا اور میری جگہ کھڑا ہو گیا، میں نے نماز تو پڑھی مگر (دھکے کی وجہ سے) مجھے اپنی نماز کا ہوش نہ تھا، جب وہ نماز پڑھ چکے تو انہوں نے کہا: اے میرے بیٹے! اللہ تمہارے ساتھ برا نہ کرے، میں نے جو کیا وہ نادانی کی وجہ سے نہیں کیا؛ بلکہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں یہ ہدایت فرمائی تھی: «كونوا في الصفِّ الذي يَلِيني» ”تم میں سے وہ لوگ میرے قریب والی صف میں ہوں (جو صاحبِ عقل و دانش ہوں)“، اور میں نے لوگوں کے چہروں کو دیکھا تو تمہارے سوا سب کو پہچان لیا۔ پھر وہ بیٹھ گئے، میں نے لوگوں کو نہیں دیکھا کہ ان کی گردنیں کسی چیز کی طرف اتنی کھچی ہوئی ہوں جتنی ان کی طرف (عظمت کی وجہ سے) کھچی ہوئی تھیں، معلوم ہوا کہ وہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تھے، اور جو باتیں انہوں نے کہیں ان میں یہ بھی تھا: ”رب کعبہ کی قسم! عہد و پیمان والے (اربابِ اقتدار) ہلاک ہو گئے، رب کعبہ کی قسم! عہد و پیمان والے ہلاک ہو گئے، اللہ کی قسم! مجھے ان کا کوئی غم نہیں، مجھے تو ان مسلمانوں کا غم ہے جنہیں انہوں نے ہلاک کر دیا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّورِي، حدثنا أبو داود الطَّيالِسي، حدثنا شُعبة، عن سِمَاك بن حَرْب قال: سمعت مالك بن ظالم يحدِّث عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال: "هلاكُ أمَّتي على يَدَيْ أُغَيلِمةٍ من قُريش" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه لخلاف بين شعبةَ وسفيان الثَّوريِّ فيه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8605 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه لخلاف بين شعبةَ وسفيان الثَّوريِّ فيه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8605 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کی ہلاکت قریش کے چند لڑکوں (ناسمجھ نوجوانوں) کے ہاتھوں ہوگی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام شعبہ اور سفیان ثوری کے مابین (سند میں) اختلاف کی وجہ سے شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام شعبہ اور سفیان ثوری کے مابین (سند میں) اختلاف کی وجہ سے شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا سفيان. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطيعي، حدثنا حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أَبي، حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، عن سفيان، عن سِمَاك، حدثني عبد الله بن ظالم قال: سمعت أبا هريرة يقول: سمعت أبا القاسم ﷺ يقول: "إنَّ فسادَ أمتي على يَدَي أُغيلمَةٍ سفهاءَ من قُريش" (2). فسمعت أبا عبد الله محمدَ بنَ يعقوب يقول: سمعت الحسين بن محمد القَبّاني يقول: سمعت عمرو بن علي يقول: الصحيحُ مالكُ بن ظالم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8606 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8606 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے ابوالقاسم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میری امت کا فساد قریش کے چند بے وقوف لڑکوں کے ہاتھوں ہوگا۔“
عمرو بن علی کہتے ہیں کہ (راوی کا) صحیح نام مالک بن ظالم ہے۔
عمرو بن علی کہتے ہیں کہ (راوی کا) صحیح نام مالک بن ظالم ہے۔
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا عمرو بن مالك النُّكْري، عن أبي الجَوْزاء، عن ابن عباس قال: يأجوجُ ومأجوجُ شِبرٌ وشبرانِ (1) وثلاثة، وهم من ولد آدِم (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8607 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8607 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے (یاجوج و ماجوج کے متعلق) فرمایا: ”یاجوج اور ماجوج (قد میں) ایک بالشت، دو بالشت اور تین بالشت کے برابر ہیں، اور وہ اولادِ آدم میں سے ہیں۔“