حدیث نمبر: 8817
أخبرني محمد بن موسى بن عمران المؤذِّن، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن المثنَّى، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شُعبة قال: سمعت أبا جَمْرة يحدِّث عن إياس بن قَتَادة، عن قيس بن عُبَاد قال: كنت أَقدَمُ المدينة ألقى ناسًا من أصحاب الرسول ﷺ، فكان أحبَّهم إليَّ لقاءً أُبيُّ بنُ كعب، قال: فَقَدِمتُ زمنَ عمر إلى المدينة، فأقاموا صلاةَ الصبح، فخرج عمرُ وخرج معه رجالٌ، فإذا رجلٌ من القوم يَنظُرُ في وجوه القوم، فعَرَفَهم وأنكَرَني فَدَفَعَني فقام مقامي، فصلَّيتُ وما أَعقِلُ صلاتي، فلما صلَّى قال: يا بنيَّ، لا يَسُؤُكَ الله، إني [لم] (2) أَفعل الذي فعلتُ لجهالةٍ؛ إنَّ رسول الله ﷺ قال لنا: "كونوا في الصفِّ الذي يَلِيني"، وإني نظرتُ في وجوه القوم فعرفتُهم غيرَك. وجلس، فما رأيتُ الرجالَ مَتَحَت (3) أعناقَها إلى شيء مُتُوحَها (4) إليه، فإذا هو أُبيُّ بن كعب، وكان فيما قال: هَلَكَ أهلُ العَقْد وربِّ الكعبة، هَلَك أهلُ العَقْد وربِّ الكعبة، والله ما آسَى عليهم، إنما أسَى على مَن أهلَكوا من المسلمين (5).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8604 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

قیس بن عباد سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں مدینہ منورہ آیا کرتا تھا تاکہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ سے ملاقات کروں، مجھے ان سب میں سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ملنا سب سے زیادہ پسند تھا، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مدینہ آیا، نمازِ فجر کے لیے اقامت کہی گئی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نکلے اور ان کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی تھے، لوگوں میں سے ایک شخص قوم کے چہروں کو دیکھنے لگا، اس نے انہیں پہچان لیا مگر مجھے نہ پہچانا تو مجھے (صف سے پیچھے) دھکیل دیا اور میری جگہ کھڑا ہو گیا، میں نے نماز تو پڑھی مگر (دھکے کی وجہ سے) مجھے اپنی نماز کا ہوش نہ تھا، جب وہ نماز پڑھ چکے تو انہوں نے کہا: اے میرے بیٹے! اللہ تمہارے ساتھ برا نہ کرے، میں نے جو کیا وہ نادانی کی وجہ سے نہیں کیا؛ بلکہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں یہ ہدایت فرمائی تھی: «كونوا في الصفِّ الذي يَلِيني» ”تم میں سے وہ لوگ میرے قریب والی صف میں ہوں (جو صاحبِ عقل و دانش ہوں)“، اور میں نے لوگوں کے چہروں کو دیکھا تو تمہارے سوا سب کو پہچان لیا۔ پھر وہ بیٹھ گئے، میں نے لوگوں کو نہیں دیکھا کہ ان کی گردنیں کسی چیز کی طرف اتنی کھچی ہوئی ہوں جتنی ان کی طرف (عظمت کی وجہ سے) کھچی ہوئی تھیں، معلوم ہوا کہ وہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تھے، اور جو باتیں انہوں نے کہیں ان میں یہ بھی تھا: ”رب کعبہ کی قسم! عہد و پیمان والے (اربابِ اقتدار) ہلاک ہو گئے، رب کعبہ کی قسم! عہد و پیمان والے ہلاک ہو گئے، اللہ کی قسم! مجھے ان کا کوئی غم نہیں، مجھے تو ان مسلمانوں کا غم ہے جنہیں انہوں نے ہلاک کر دیا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8817
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8817] [ترقيم الشركة 8707] [ترقيم العلميه 8604]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) هذه الزيادة من "تلخيص الذهبي".
نوٹ / توضیح: یہ اضافہ "تلخیص الذہبی" سے لیا گیا ہے۔
(3) تصحف في النسخ الخطية إلى: منحت بالنون والصواب بالتاء المثناة من فوق، أي: مدَّت أعناقها نحوه، كما في كتب غريب الحديث.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تصحیف کا شکار ہو کر (نون کے ساتھ) "منحت" بن گیا، درست (تاء کے ساتھ) "مُتِحت" ہے۔ یعنی اس نے اپنی گردنیں اس کی جانب لمبی کیں، جیسا کہ غریب الحدیث کی کتابوں میں ہے۔
(4) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: متوجهها. والتصويب من كتب الغريب.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ تحریف ہو کر "متوجھھا" بن گیا تھا، درستگی غریب الحدیث کی کتب سے کی گئی ہے۔
(5) إسناده صحيح. أبو جمرة: هو نصر بن عمران الضبعي.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو جمرہ سے مراد "نصر بن عمران الضبعی" ہیں۔
وأخرجه أحمد 35 / (21264) عن محمد بن جعفر، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (35/ 21264) میں محمد بن جعفر سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وهو عنده أيضًا عن سليمان بن داود الطيالسي ووهب بن جرير، كلاهما عن شعبة به. وسلف بنحوه برقم (873) من طريق أبي مِجلَز لاحق بن حميد عن قيس بن عُباد.
حوالہ / مصدر: اور امام احمد کے ہاں یہ روایت سلیمان بن داؤد طیالسی اور وہب بن جریر، دونوں عن شعبہ کے طریق سے بھی موجود ہے۔ نیز یہ حدیث نمبر (873) میں ابو مجلز لاحق بن حمید عن قیس بن عباد کے طریق سے اسی طرح گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8817 سے ماخوذ ہے۔