حدیث نمبر: 8815
فحدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعْدي، حدثنا رَوْح بن عُبَادة، حدثنا عَوف، حدثنا أبو الصِّدِّيق قال: لما ظَفِرَ الحجّاجُ على ابن الزُّبير فقتله ومَثَّل به، ثم دخل على أم عبد الله، وهي أسماءُ بنت أبي بكر، فقالت: كيف تستأذنُ علي وقد قتلتَ ابني؟! فقال: إِنَّ ابنك أَلحَدَ في حَرَم الله، فقتلتُه مُلحِدًا عاصيًا، حتى أذاقه الله عذابًا أليمًا، وفَعَلَ به وفَعَل، فقالت: كذبت يا عدوَّ الله وعدوَّ المسلمين، والله لقد قتلته صوّامًا قوامًا بَرًّا بوالديه، حافظًا لهذا الدِّين، ولئِن أفسدتَ عليه دُنْياه، لقد أفسد عليك آخرتكَ، ولقد حدَّثَنا رسول الله ﷺ: أنه يخرج من ثَقيفٍ كذَّابانِ، الآخِرُ منهما أشرُّ من الأول، وهو المُبِير، وما هو إلَّا أنت يا حجَّاجُ (1).
حافظ طلحہ بابر

ابوالصدیق سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب حجاج (بن یوسف) سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما پر غالب آگیا اور انہیں شہید کر کے ان کے جسم کی بے حرمتی کی، تو وہ سیدنا عبداللہ کی والدہ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کے پاس گیا، انہوں نے فرمایا: ”تم مجھ سے ملنے کی اجازت کیسے مانگتے ہو جبکہ تم نے میرے بیٹے کو قتل کر دیا ہے؟!“ حجاج نے کہا: ”تمہارے بیٹے نے اللہ کے حرم میں کج روی اختیار کی تھی، اس لیے میں نے اسے ایک نافرمان ملحد کے طور پر قتل کیا ہے یہاں تک کہ اللہ نے اسے دردناک عذاب کا مزہ چکھایا“، اور اس نے ان کے بارے میں بہت کچھ کہا، تو انہوں نے فرمایا: ”اے اللہ کے دشمن اور مسلمانوں کے دشمن! تو نے جھوٹ بولا ہے، اللہ کی قسم! تو نے اسے اس حال میں قتل کیا ہے کہ وہ کثرت سے روزے رکھنے والا، راتوں کو قیام کرنے والا، اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا اور اس دین کا محافظ تھا، اور اگر تو نے اس کی دنیا برباد کی ہے تو اس نے تیری آخرت برباد کر دی ہے، اور یقیناً ہمیں رسول اللہ ﷺ نے یہ حدیث بیان فرمائی تھی کہ: ”قبیلہ ثقیف سے دو کذاب (بڑے جھوٹے) نکلیں گے، ان میں سے دوسرا پہلے سے زیادہ برا ہوگا اور وہ مبیر (انتہائی خونخوار اور ہلاک کرنے والا) ہوگا“، اور اے حجاج! وہ تو ہی ہے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8815
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،عوف هو: ابن أبي جميلة، وأبو الصديق هو الناجي بكر بن عمرو، ويقال: ابن قيس» [ترقيم الرساله 8815] [ترقيم الشركة 8705]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح عوف هو: ابن أبي جميلة، وأبو الصديق هو الناجي بكر بن عمرو، ويقال: ابن قيس.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: عوف سے مراد "ابن ابی جمیلہ" ہیں، اور ابو الصدیق سے مراد "الناجی بکر بن عمرو" ہیں، جنہیں ابن قیس بھی کہا جاتا ہے۔
وأخرجه أحمد 44/ (26967) عن إسحاق بن يوسف الأزرق، عن عوف، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (44/ 26967) میں اسحاق بن یوسف الازرق عن عوف کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وسلف برقم (6479) من حديث أبي نوفل بن أبي عقرب بالقصة.
حوالہ / مصدر: یہ حدیث نمبر (6479) میں ابو نوفل بن ابی عقرب کی حدیث سے مکمل قصے کے ساتھ گزر چکی ہے۔
ألحد: أي ظلم وعَدَا، وأصل الإلحاد: الميل والعدول عن الشيء.
نوٹ / توضیح: "ألحد": یعنی اس نے ظلم اور زیادتی کی۔ الحاد کا اصل معنی کسی چیز سے مائل ہونا اور ہٹ جانا ہے۔
والمبير: المهلك الذي يسرف في إهلاك الناس.
نوٹ / توضیح: "المبیر": وہ ہلاک کرنے والا جو لوگوں کو ہلاک کرنے میں حد سے بڑھ جائے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8815 سے ماخوذ ہے۔