کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: ایک ایسی عورت کا قصہ جس کا ہاتھ خواب میں شل (بیکار) ہو گیا تھا
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنعاني بمكة حَرَسها الله تعالى، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عبّاد، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن يحيى بن أبي كثير، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: إني لأعلمُ فتنةً يوشكُ أن يكون الذي قبلها معها كنَفْجةِ أرنبٍ، وإني لأعلمُ المَخرَجَ منها، قلنا: وما المخرجُ منها؟ قال: أُمسِكُ يدي حتى يجيء من يقتلُني (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8455 - خبر أبي هريرة على شرط البخاري ومسلم وأما المنام فسنده واه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”بلاشبہ میں ایک ایسے فتنے کو جانتا ہوں جس کے سامنے اس سے پہلے والے فتنے ایسے (معمولی) ہوں گے جیسے خرگوش کا ایک بار اچھلنا «نَفْجَةِ أَرْنَبٍ» ہو، اور میں اس فتنے سے نکلنے کا راستہ بھی جانتا ہوں۔“ ہم نے عرض کیا: اس سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”میں اپنے ہاتھ کو روکے رکھوں گا یہاں تک کہ وہ شخص آ جائے جو مجھے قتل کر دے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8662
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8662] [ترقيم الشركة 8557] [ترقيم العلميه 8455]
قال معمر: وحدَّثني شيخٌ لنا: أنَّ امرأة جاءت إلى بعض أزواج النبي ﷺ فقالت لها: ادْعِي الله أن يُطلِقَ لي يدي، قالت: وما شأنُ يَدِكِ؟ قالت: كان لي أبوان، فكان أبي كثير المال كثير المعروف كثيرَ الفضل كثيرَ الصدقة، ولم يكن عند أمِّي من ذلك شيءٌ، لم أرَها تصدَّقَت بشيء قطُّ، غيرَ أَنَّا نَحَرْنا بقرةً فأعطت مسكينًا شَحْمةً في يده، وألبسته خِرقةً، فماتت أمِّي ومات أَبي، فرأيتُ أَبي على نهرٍ يسقي الناسَ، فقلت: يا أبتاه، هل رأيتَ أمي؟ قال: لا، أوماتت؟ قلت: بلى، قال: فذهبتُ ألتمِسُها فوجدتُها قائمةً عُرْيانةً ليس عليها إلَّا تلك الخِرْقةُ، وتلك الشَّحمةُ في يدها وهي تضرِبُ بها في يدها الأخرى ثم تَعَضُّ أثرها، وتقول: واعَطَشاه، فقلت: يا أُمَّهْ، إلا أَسقيك؟ قالت: بلى، فذهبتُ إلى أبي فذكرتُ ذلك له وأخذتُ من عنده إناءً فسقيتُها فيه، فنَبِهَ بي بعضُ مَن كان عندها قائمًا فقال: مَن سقاها أشَلَّ الله يدَه؛ فاستيقظتُ وقد شَلَّت يَدِي (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين (2)، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
معمر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہمارے ایک شیخ نے بیان کیا کہ ایک عورت نبی کریم ﷺ کی کسی زوجہ مطہرہ کے پاس آئی اور ان سے عرض کیا: اللہ سے دعا کریں کہ وہ میرا ہاتھ ٹھیک کر دے۔ انہوں نے پوچھا: تمہارے ہاتھ کو کیا ہوا؟ اس نے بتایا: میرے والدین تھے، میرے والد بہت صاحبِ ثروت، سخی، بافضیلت اور صدقہ کرنے والے تھے، لیکن میری ماں ان صفات سے بالکل عاری تھیں، میں نے انہیں کبھی کوئی چیز صدقہ کرتے نہیں دیکھا سوائے اس کے کہ ہم نے ایک گائے ذبح کی تو انہوں نے ایک مسکین کے ہاتھ میں چربی کا ایک ٹکڑا دیا اور اسے ایک پرانا کپڑا پہنایا۔ پھر میری ماں اور میرے والد دونوں فوت ہو گئے۔ میں نے خواب میں اپنے والد کو ایک نہر کے کنارے لوگوں کو پانی پلاتے ہوئے دیکھا، میں نے پوچھا: ابا جان! کیا آپ نے میری ماں کو دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، کیا وہ مر چکی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ تو میں انہیں تلاش کرنے گئی، میں نے انہیں دیکھا کہ وہ برہنہ کھڑی ہیں اور ان کے جسم پر صرف وہی پرانا کپڑا ہے، اور ان کے ہاتھ میں چربی کا وہی ٹکڑا ہے جسے وہ اپنے دوسرے ہاتھ پر مار رہی ہیں اور اس کا اثر چاٹ رہی ہیں اور کہہ رہی ہیں: ہائے پیاس! میں نے کہا: اے امی! کیا میں آپ کو پانی نہ پلاؤں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ چنانچہ میں اپنے والد کے پاس گئی اور ان سے اس کا ذکر کیا، میں نے وہاں سے ایک برتن لیا اور انہیں پانی پلایا، تو ان کے پاس کھڑے کسی شخص نے آواز دی: جس نے اسے پانی پلایا اللہ اس کا ہاتھ شل کر دے؛ پس میں بیدار ہوئی تو میرا ہاتھ شل ہو چکا تھا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8663
درجۂ حدیث محدثین: إسناده واهٍ كما قال الذهبي في "تلخيصه"
تخریج حدیث «إسناده واهٍ كما قال الذهبي في "تلخيصه"، ففيه إبهام وإعضال» [ترقيم الرساله 8663] [ترقيم الشركة 8557]
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق وحدَّثني أبو بكر بن بالَوَيهِ قالا: أخبرنا محمد بن أحمد بن النَّضر الأزدي، حدثنا جدِّي معاويةُ بن عمرو، حدثنا زائدةُ، عن عاصم، عن زِرٍّ، عن حُذيفة قال: قام فينا رسول الله ﷺ مقامًا خَبَّرَنا بما نكون فيه إلى قيام الساعة، عَقَلَه فينا من عَقَلَه، ونَسِيَه من نسيه (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه (4). وقد رواه أبو عوانة وأبانُ بن يزيد العطّار عن عاصم، وعاصمُ بن أبي النَّجُود إمامٌ متَّفَق على إمامته في القرآن وسائر العلوم، إذا انفرد بالحديث لَزِمَنا قبولُه. أما حديث أبي عوانة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8456 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان ایک ایسی جگہ کھڑے ہوئے جہاں آپ ﷺ نے ہمیں ان تمام امور کی خبر دے دی جو قیامت تک پیش آنے والے ہیں، ہم میں سے جس نے اسے یاد رکھنا تھا یاد رکھا اور جو بھول گیا سو بھول گیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
عاصم بن ابی النجود ایسے امام ہیں جن کی قرآن اور دیگر علوم میں امامت پر اتفاق ہے، جب وہ حدیث میں منفرد ہوں تو ہم پر ان کی روایت قبول کرنا لازم ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8664
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم: وهو ابن أبي النجود زائدة: هو ابن قُدامة، وزر: هو ابن حُبيش» [ترقيم الرساله 8664] [ترقيم الشركة 8558] [ترقيم العلميه 8456]
فحدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب ومحمد بن صالح بن هانئ قالا: حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى الشَّهيد، حدثنا أبو الوليد الطَّيالسي، حدثنا أبو عَوَانة، عن عاصم، عن زِرٍّ، عن حذيفة قال: قام رسول الله ﷺ مقامًا أخبرنا بما يكون بعدَ مَقامِه ذلك إلى أن تقوم الساعة، عَقَلَه من عقله، ونَسِيَه من نسيه (5). وأما حديث أبان بن يزيد العطّار:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک جگہ کھڑے ہوئے اور ہمیں ان تمام باتوں کی خبر دی جو آپ ﷺ کے اس جگہ کھڑے ہونے کے بعد سے قیامت کے قائم ہونے تک ہونے والی ہیں، اسے جس نے یاد رکھنا تھا یاد رکھا اور جو بھول گیا سو بھول گیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8665
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن كسابقه» [ترقيم الرساله 8665] [ترقيم الشركة 8559]
فحدَّثَناه الحسن بن يعقوب العَدل، حدثنا السَّرِيُّ بن خُزيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا أبانُ بن يزيد العطّار، حدثنا عاصم، عن زِرٍّ، عن حُذيفة قال: قام رسول الله ﷺ مَقامًا (1) فلم يَدَعْ شيئًا إلّا ذكره إلى أن تقوم الساعة، عَقَلَه من عقلَه، ونَسِيَه من نسيه (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک مقام پر کھڑے ہوئے اور آپ ﷺ نے قیامت قائم ہونے تک کی کوئی بھی چیز ایسی نہ چھوڑی جس کا تذکرہ نہ فرمایا ہو، اسے یاد رکھنے والے نے یاد رکھا اور بھولنے والا بھول گیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8665M
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن كسابقه» [ترقيم الرساله 8665M]
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا أبو عَوْن، عن محمد بن سِيرِين قال: لما كان يومُ الجَرَعة قال جُندُب: والله ليُهراقَنَّ دماءٌ، فقال رجل: كلا والله، قال: قلت: بلى والله، قال: كلّا والله، إنه لحديثُ رسول الله ﷺ حَدَّثَنِيهِ، قال: قلت: أراكَ اليومَ جليسَ سَوءٍ، تسمعُني أحدِّثُ وقد سمعتَه من رسول الله ﷺ فلا تنهاني؟! فقال: ما لك وما للغضبِ! قال: فأَقبلتُ أسألُه، فإذا هو حُذَيفةُ بن اليَمَان (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8458 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب «یوم الجرعہ» پیش آیا تو جندب رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! ضرور خون بہایا جائے گا، ایک شخص نے کہا: ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! جندب رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں، اللہ کی قسم! یہ رسول اللہ ﷺ کی حدیث ہے جو آپ ﷺ نے مجھ سے بیان فرمائی تھی۔ محمد بن سیرین کہتے ہیں: میں نے (دل میں) کہا: میں آج تمہیں ایک برا ہم نشین دیکھ رہا ہوں، تم مجھے حدیث بیان کرتے ہوئے سن رہے ہو اور تم نے خود اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے پھر بھی تم مجھے (غلطی سے) نہیں روکتے؟! تو اس شخص نے کہا: تمہیں غصہ کیوں آ رہا ہے! کہتے ہیں کہ پھر میں ان کی طرف متوجہ ہوا اور ان سے پوچھنے لگا تو پتہ چلا کہ وہ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8666
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وهو من رواية محمد بن سيرين عن جندب» [ترقيم الرساله 8666] [ترقيم الشركة 8560] [ترقيم العلميه 8458]