المستدرك على الصحيحين
كتاب الفتن والملاحم— فتنوں آزمائشوں کا بیان
حِكَايَةُ امْرَأَةٍ شُلَّتْ يَدُهَا فِي الْمَنَامِ باب: ایک ایسی عورت کا قصہ جس کا ہاتھ خواب میں شل (بیکار) ہو گیا تھا
حدیث نمبر: 8664
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق وحدَّثني أبو بكر بن بالَوَيهِ قالا: أخبرنا محمد بن أحمد بن النَّضر الأزدي، حدثنا جدِّي معاويةُ بن عمرو، حدثنا زائدةُ، عن عاصم، عن زِرٍّ، عن حُذيفة قال: قام فينا رسول الله ﷺ مقامًا خَبَّرَنا بما نكون فيه إلى قيام الساعة، عَقَلَه فينا من عَقَلَه، ونَسِيَه من نسيه (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه (4). وقد رواه أبو عوانة وأبانُ بن يزيد العطّار عن عاصم، وعاصمُ بن أبي النَّجُود إمامٌ متَّفَق على إمامته في القرآن وسائر العلوم، إذا انفرد بالحديث لَزِمَنا قبولُه. أما حديث أبي عوانة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8456 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان ایک ایسی جگہ کھڑے ہوئے جہاں آپ ﷺ نے ہمیں ان تمام امور کی خبر دے دی جو قیامت تک پیش آنے والے ہیں، ہم میں سے جس نے اسے یاد رکھنا تھا یاد رکھا اور جو بھول گیا سو بھول گیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
عاصم بن ابی النجود ایسے امام ہیں جن کی قرآن اور دیگر علوم میں امامت پر اتفاق ہے، جب وہ حدیث میں منفرد ہوں تو ہم پر ان کی روایت قبول کرنا لازم ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم: وهو ابن أبي النجود زائدة: هو ابن قُدامة، وزر: هو ابن حُبيش.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے اور یہ سند "حسن" ہے جس کی وجہ "عاصم" (ابن ابی النجود) ہیں۔ زائدہ سے مراد "ابن قدامہ" اور زر سے مراد "ابن حبیش" ہیں۔
ومن طريق زر بن حبيش لم نقف عليه عند غير المصنف، وانظر ما بعده.
فنی نکتہ / علّت: زر بن حبیش کے طریق سے یہ روایت ہمیں مصنف کے علاوہ کہیں نہیں ملی۔ اگلی روایت دیکھیں۔
وسيأتي برقم (8709) من طريق أبي وائل شقيق عن حذيفة. وأنظر ما سلف برقم (8661).
حوالہ / مصدر: یہ روایت آگے نمبر (8709) پر ابووائل شقیق عن حذیفہ کے طریق سے آئے گی۔ اور جو پیچھے نمبر (8661) پر گزری ہے اسے بھی دیکھیں۔
(4) قد أخرجاه من طريق شقيق عن حذيفة كما سيأتي في مكانه.
تفصیلِ روایت: شیخین (بخاری و مسلم) نے اسے شقیق عن حذیفہ کے طریق سے روایت کیا ہے جیسا کہ اپنے مقام پر آئے گا۔
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے اور یہ سند "حسن" ہے جس کی وجہ "عاصم" (ابن ابی النجود) ہیں۔ زائدہ سے مراد "ابن قدامہ" اور زر سے مراد "ابن حبیش" ہیں۔
ومن طريق زر بن حبيش لم نقف عليه عند غير المصنف، وانظر ما بعده.
فنی نکتہ / علّت: زر بن حبیش کے طریق سے یہ روایت ہمیں مصنف کے علاوہ کہیں نہیں ملی۔ اگلی روایت دیکھیں۔
وسيأتي برقم (8709) من طريق أبي وائل شقيق عن حذيفة. وأنظر ما سلف برقم (8661).
حوالہ / مصدر: یہ روایت آگے نمبر (8709) پر ابووائل شقیق عن حذیفہ کے طریق سے آئے گی۔ اور جو پیچھے نمبر (8661) پر گزری ہے اسے بھی دیکھیں۔
(4) قد أخرجاه من طريق شقيق عن حذيفة كما سيأتي في مكانه.
تفصیلِ روایت: شیخین (بخاری و مسلم) نے اسے شقیق عن حذیفہ کے طریق سے روایت کیا ہے جیسا کہ اپنے مقام پر آئے گا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8664 سے ماخوذ ہے۔