حدیث نمبر: 8663
قال معمر: وحدَّثني شيخٌ لنا: أنَّ امرأة جاءت إلى بعض أزواج النبي ﷺ فقالت لها: ادْعِي الله أن يُطلِقَ لي يدي، قالت: وما شأنُ يَدِكِ؟ قالت: كان لي أبوان، فكان أبي كثير المال كثير المعروف كثيرَ الفضل كثيرَ الصدقة، ولم يكن عند أمِّي من ذلك شيءٌ، لم أرَها تصدَّقَت بشيء قطُّ، غيرَ أَنَّا نَحَرْنا بقرةً فأعطت مسكينًا شَحْمةً في يده، وألبسته خِرقةً، فماتت أمِّي ومات أَبي، فرأيتُ أَبي على نهرٍ يسقي الناسَ، فقلت: يا أبتاه، هل رأيتَ أمي؟ قال: لا، أوماتت؟ قلت: بلى، قال: فذهبتُ ألتمِسُها فوجدتُها قائمةً عُرْيانةً ليس عليها إلَّا تلك الخِرْقةُ، وتلك الشَّحمةُ في يدها وهي تضرِبُ بها في يدها الأخرى ثم تَعَضُّ أثرها، وتقول: واعَطَشاه، فقلت: يا أُمَّهْ، إلا أَسقيك؟ قالت: بلى، فذهبتُ إلى أبي فذكرتُ ذلك له وأخذتُ من عنده إناءً فسقيتُها فيه، فنَبِهَ بي بعضُ مَن كان عندها قائمًا فقال: مَن سقاها أشَلَّ الله يدَه؛ فاستيقظتُ وقد شَلَّت يَدِي (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين (2)، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

معمر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہمارے ایک شیخ نے بیان کیا کہ ایک عورت نبی کریم ﷺ کی کسی زوجہ مطہرہ کے پاس آئی اور ان سے عرض کیا: اللہ سے دعا کریں کہ وہ میرا ہاتھ ٹھیک کر دے۔ انہوں نے پوچھا: تمہارے ہاتھ کو کیا ہوا؟ اس نے بتایا: میرے والدین تھے، میرے والد بہت صاحبِ ثروت، سخی، بافضیلت اور صدقہ کرنے والے تھے، لیکن میری ماں ان صفات سے بالکل عاری تھیں، میں نے انہیں کبھی کوئی چیز صدقہ کرتے نہیں دیکھا سوائے اس کے کہ ہم نے ایک گائے ذبح کی تو انہوں نے ایک مسکین کے ہاتھ میں چربی کا ایک ٹکڑا دیا اور اسے ایک پرانا کپڑا پہنایا۔ پھر میری ماں اور میرے والد دونوں فوت ہو گئے۔ میں نے خواب میں اپنے والد کو ایک نہر کے کنارے لوگوں کو پانی پلاتے ہوئے دیکھا، میں نے پوچھا: ابا جان! کیا آپ نے میری ماں کو دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، کیا وہ مر چکی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ تو میں انہیں تلاش کرنے گئی، میں نے انہیں دیکھا کہ وہ برہنہ کھڑی ہیں اور ان کے جسم پر صرف وہی پرانا کپڑا ہے، اور ان کے ہاتھ میں چربی کا وہی ٹکڑا ہے جسے وہ اپنے دوسرے ہاتھ پر مار رہی ہیں اور اس کا اثر چاٹ رہی ہیں اور کہہ رہی ہیں: ہائے پیاس! میں نے کہا: اے امی! کیا میں آپ کو پانی نہ پلاؤں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ چنانچہ میں اپنے والد کے پاس گئی اور ان سے اس کا ذکر کیا، میں نے وہاں سے ایک برتن لیا اور انہیں پانی پلایا، تو ان کے پاس کھڑے کسی شخص نے آواز دی: جس نے اسے پانی پلایا اللہ اس کا ہاتھ شل کر دے؛ پس میں بیدار ہوئی تو میرا ہاتھ شل ہو چکا تھا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8663
درجۂ حدیث محدثین: إسناده واهٍ كما قال الذهبي في "تلخيصه"
تخریج حدیث «إسناده واهٍ كما قال الذهبي في "تلخيصه"، ففيه إبهام وإعضال» [ترقيم الرساله 8663] [ترقيم الشركة 8557]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده واهٍ كما قال الذهبي في "تلخيصه"، ففيه إبهام وإعضال. وهو في "جامع معمر" (20768).
درجۂ حدیث: اس کی سند "واہی" (انتہائی کمزور) ہے جیسا کہ ذہبی نے "التلخیص" میں فرمایا، کیونکہ اس میں ابہام (نامعلوم راوی) اور اعضال (انقطاع) ہے۔ یہ معمر کی "الجامع" (20768) میں موجود ہے۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (3226) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "شعب الایمان" (3226) میں ابوعبداللہ الحاکم (مصنف) سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
(2) قال الذهبي في "تلخيصه": يعني خبر أبي هريرة، وأما المنام فسنده واهٍ.
فنی نکتہ / علّت: ذہبی نے "التلخیص" میں فرمایا: (صحیح ہونے سے) مراد حضرت ابوہریرہ کی خبر (حدیث) ہے، جہاں تک "خواب" کا تعلق ہے تو اس کی سند "واہی" (کمزور) ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8663 سے ماخوذ ہے۔