حدیث نمبر: 8666
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا أبو عَوْن، عن محمد بن سِيرِين قال: لما كان يومُ الجَرَعة قال جُندُب: والله ليُهراقَنَّ دماءٌ، فقال رجل: كلا والله، قال: قلت: بلى والله، قال: كلّا والله، إنه لحديثُ رسول الله ﷺ حَدَّثَنِيهِ، قال: قلت: أراكَ اليومَ جليسَ سَوءٍ، تسمعُني أحدِّثُ وقد سمعتَه من رسول الله ﷺ فلا تنهاني؟! فقال: ما لك وما للغضبِ! قال: فأَقبلتُ أسألُه، فإذا هو حُذَيفةُ بن اليَمَان (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8458 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب «یوم الجرعہ» پیش آیا تو جندب رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! ضرور خون بہایا جائے گا، ایک شخص نے کہا: ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! جندب رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں، اللہ کی قسم! یہ رسول اللہ ﷺ کی حدیث ہے جو آپ ﷺ نے مجھ سے بیان فرمائی تھی۔ محمد بن سیرین کہتے ہیں: میں نے (دل میں) کہا: میں آج تمہیں ایک برا ہم نشین دیکھ رہا ہوں، تم مجھے حدیث بیان کرتے ہوئے سن رہے ہو اور تم نے خود اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے پھر بھی تم مجھے (غلطی سے) نہیں روکتے؟! تو اس شخص نے کہا: تمہیں غصہ کیوں آ رہا ہے! کہتے ہیں کہ پھر میں ان کی طرف متوجہ ہوا اور ان سے پوچھنے لگا تو پتہ چلا کہ وہ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8666
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وهو من رواية محمد بن سيرين عن جندب» [ترقيم الرساله 8666] [ترقيم الشركة 8560] [ترقيم العلميه 8458]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده صحيح، وهو من رواية محمد بن سيرين عن جندب - وهو ابن عبد الله البجلي صحابيٌّ - عن حذيفة بن اليمان ﵄. أبو عون: هو عبد الله بن عون بن أرطَبان.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ یہ محمد بن سیرین کی جندب (ابن عبداللہ بجلی، صحابی) سے اور ان کی حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ ابوعون سے مراد "عبداللہ بن عون بن ارطبان" ہیں۔
وأخرجه أحمد 38/ (23388)، ومسلم (2893) من طريقين عن عبد الله بن عون، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (38/ 23388) اور مسلم (2893) نے عبداللہ بن عون سے دو طریقوں کے ساتھ اسی سند سے روایت کیا ہے۔
والجرعة، بفتح الجيم والراء، ويقال بإسكان الراء أيضًا، والفتح أشهر: موضع قرب الكوفة. وانظر قصة يوم الجرعة فيما سلف عند المصنف برقم (2701).
نوٹ / توضیح: "الجرعۃ" (جیم اور را کے فتحہ/زبر کے ساتھ، اور را کے سکون کے ساتھ بھی بولا جاتا ہے مگر زبر زیادہ مشہور ہے): یہ کوفہ کے قریب ایک جگہ ہے۔ "یوم الجرعۃ" کا قصہ مصنف کے ہاں پیچھے نمبر (2701) پر دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8666 سے ماخوذ ہے۔