حدیث نمبر: 8662
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنعاني بمكة حَرَسها الله تعالى، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عبّاد، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن يحيى بن أبي كثير، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: إني لأعلمُ فتنةً يوشكُ أن يكون الذي قبلها معها كنَفْجةِ أرنبٍ، وإني لأعلمُ المَخرَجَ منها، قلنا: وما المخرجُ منها؟ قال: أُمسِكُ يدي حتى يجيء من يقتلُني (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8455 - خبر أبي هريرة على شرط البخاري ومسلم وأما المنام فسنده واه
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”بلاشبہ میں ایک ایسے فتنے کو جانتا ہوں جس کے سامنے اس سے پہلے والے فتنے ایسے (معمولی) ہوں گے جیسے خرگوش کا ایک بار اچھلنا «نَفْجَةِ أَرْنَبٍ» ہو، اور میں اس فتنے سے نکلنے کا راستہ بھی جانتا ہوں۔“ ہم نے عرض کیا: اس سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”میں اپنے ہاتھ کو روکے رکھوں گا یہاں تک کہ وہ شخص آ جائے جو مجھے قتل کر دے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8662
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8662] [ترقيم الشركة 8557] [ترقيم العلميه 8455]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وهو في "جامع معمر" برواية عبد الرزاق (20767). وعن عبد الرزاق رواه أيضًا نعيم بن حماد في "الفتن" (345).
حوالہ / مصدر: یہ روایت معمر کی "الجامع" (بروایت عبدالرزاق 20767) میں موجود ہے۔ عبدالرزاق سے اسے نعیم بن حماد نے بھی "الفتن" (345) میں روایت کیا ہے۔
وأخرجه إسحاق بن راهويه في "مسنده" (532) عن مؤمل بن إسماعيل، عن يزيد بن زريع، عن الحجاج بن أبي عثمان، عن يحيى بن أبي كثير، عن العبدي، عن أبي هريرة. والعبدي هذا: هو أبو نضرة المنذر بن مالك بن قطعة، وهو ثقة، إلا أنَّ ذكره في الإسناد مكان أبي سلمة بن عبد الرحمن من تخليط مؤمّل، فإنه كان سيئ الحفظ، والله تعالى أعلم.
حوالہ / مصدر: اسے اسحاق بن راہویہ نے "مسند" (532) میں مؤمل بن اسماعیل، عن یزید بن زریع، عن حجاج بن ابی عثمان، عن یحییٰ بن ابی کثیر، عن العبدی، عن ابی ہریرہ کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یہ "العبدی" دراصل "ابونضرہ منذر بن مالک بن قطعہ" ہیں جو کہ ثقہ ہیں۔ لیکن سند میں "ابوسلمہ بن عبدالرحمن" کی جگہ ان کا ذکر کرنا مؤمل بن اسماعیل کی "تخلیط" (غلطی) ہے، کیونکہ وہ سیئ الحفظ (خراب حافظے والے) تھے، واللہ تعالیٰ اعلم۔
قوله: "كنفجة أرنب" أي: كوثبته من مجثمه، يريد تقليل مدتها، قاله ابن الأثير في "النهاية".
نوٹ / توضیح: قول "كنفجة أرنب" کا مطلب ہے: خرگوش کا اپنے بیٹھنے کی جگہ سے اچھلنا۔ ابن اثیر "النہایہ" میں فرماتے ہیں: اس سے مراد اس (فتنے) کی مدت کا تھوڑا ہونا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8662 سے ماخوذ ہے۔