کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: نبی کریم ﷺ کا ارشاد کہ میری امت کا بگاڑ قریش کے چند بیوقوف لونڈوں کے ہاتھوں ہوگا
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا محمد بن إبراهيم بن أُورمة، حدثنا الحسين بن حفص، حدثنا سفيان، عن سماك بن حَرْب، عن مالك بن ظالم قال: سمعت أبا هريرة يقول لمروان بن الحَكَم: أخبرني حِبِّي أبو القاسم الصادقُ المصدوقُ قال: "إِنَّ فسادَ أَمَّتي على يَدَي غِلْمَةٍ سفهاء من قُريش" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد (1)، ولم يُخرجاه. وقد شَهِدَ حذيفة بن اليمَان بصحَّة هذا الحديث:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8450 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد (1)، ولم يُخرجاه. وقد شَهِدَ حذيفة بن اليمَان بصحَّة هذا الحديث:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8450 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مروان بن حکم سے کہا: مجھے میرے محبوب ابوالقاسم ﷺ نے، جو کہ سچے اور صاحبِ وحی ہیں، خبر دی ہے کہ: ”میری امت کی تباہی قریش کے چند بیوقوف لڑکوں کے ہاتھوں ہوگی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کی۔
حدَّثَناه أحمد بن كامل القاضي، حدثنا أبو قلابة الرَّقَاشي، حدثنا يحيى بن حمّاد، حدثنا أبو عوانة، عن الأعمش، عن عبد الرحمن بن ثَرْوانَ، عن عمرو بن حنظلة قال: لما قُتِلَ عثمانُ دخلنا على حُذيفة، فإذا القومُ عنده، فقال: والله لا تدعُ ظَلَمةُ مُضَرَ عبدًا الله مؤمنًا إلَّا قتلوه أو فتنوه، حتى يضربهم الله والمؤمنون حتى لا يمنعوا ذَنَبَ تَلْعةٍ، فقال رجل: أتقول هذا وأنت رجلٌ من مُضَر؟! قال: لا أقولُ إِلَّا ما قال رسول الله ﷺ (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8451 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8451 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
عمرو بن حنظلہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو ہم سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے جبکہ وہاں لوگ موجود تھے، انہوں نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! قبیلہ مضر کے ظالم لوگ اللہ کے کسی مومن بندے کو نہیں چھوڑیں گے مگر اسے قتل کریں گے یا فتنے میں ڈال دیں گے، یہاں تک کہ اللہ اور مومنین ان کی ایسی سرکوبی کریں گے کہ وہ کسی نالے کی بلندی (یا معمولی جگہ) کا دفاع بھی نہیں کر سکیں گے۔“ ایک شخص نے کہا: آپ یہ بات کہہ رہے ہیں حالانکہ آپ خود مضر کے ایک فرد ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: ”میں وہی کہتا ہوں جو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني الحسن بن حليم (3) المروزي، حدثنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا عوفٌ، عن أبي المنهال، عن أبي بَرْزَةَ الأسلمي قال: إِنَّ ذلك الذي بالشام - يعني مروان - واللهِ إِنْ يُقاتِلُ إلَّا على الدنيا، وإنَّ ذلك الذي بمكة - يعني ابن الزُّبير - واللهِ إِنْ يُقاتِلُ إِلَّا على الدنيا، وإنَّ الذين تَدْعُونَهم (4) قُراءَكم، واللهِ إِنْ يقاتلون إلَّا على الدنيا، فقال له أبى (5): فما تأمرنا إذًا؟ قال: لا أرى خيرَ الناس إِلَّا عِصابةً مُلبِدةً - وقال بيده - خِماصَ البُطُونِ من أموال الناس، خِفافَ الظُّهور من دمائهم (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8452 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8452 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”بے شک وہ شخص جو شام میں ہے — یعنی مروان — اللہ کی قسم! وہ صرف دنیا کے لیے لڑ رہا ہے، اور وہ شخص جو مکہ میں ہے — یعنی ابن زبیر — اللہ کی قسم! وہ بھی صرف دنیا کے لیے لڑ رہا ہے، اور وہ جنہیں تم اپنے قراء (دیندار) کہتے ہو، اللہ کی قسم! وہ بھی صرف دنیا ہی کے لیے لڑ رہے ہیں۔“ ان سے ان کے بیٹے نے پوچھا: پھر آپ ہمیں اس وقت کیا حکم دیتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ”میری نظر میں سب سے بہتر وہ جماعت ہے جو زمین سے چمٹ کر گوشہ نشین ہو جائے — اور اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا — جو لوگوں کے مالوں سے اپنا پیٹ خالی رکھنے والے ہوں اور ان کے خون بہانے سے اپنی پیٹھ ہلکی رکھنے والے ہوں۔“
قال عبد الله: وأخبرني مالكُ بن مغول، عن نافع، عن ابن عمر: أنه قال لرجل يسألُه عن القتال مع الحَجَّاج أو مع ابن الزُّبير، فقال له ابن عمر: مع أيِّ الفريقين قاتلتَ فقُتِلتَ، ففى لَظَى (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص سے، جو ان سے حجاج بن یوسف یا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر لڑنے کے بارے میں سوال کر رہا تھا، فرمایا: ”تم ان دونوں گروہوں میں سے جس کے ساتھ بھی مل کر لڑو گے اور قتل ہو جاؤ گے تو تمہارا ٹھکانہ بھڑکتی ہوئی آگ «لَظَى» (جہنم) میں ہوگا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلّاب همذان، حدثنا هلال بن العلاء الرَّقِّي، حدثنا عبد الله بن جعفر، حدثنا عبيد الله بن عمرو، عن زيد بن أبي أُنيسة، عن عمرو بن مُرَّة، عن خَيْثَمة بن عبد الرحمن قال: كنا عند حُذيفة، فقال بعضُنا: حدِّثنا يا أبا عبد الله ما سمعت من رسول الله ﷺ، قال: لو فعلتُ لرجَمتُموني، قال: قلنا: سبحان الله، أنحن نفعلُ ذلك؟ قال: أرأيتُكم لو حدَّثتُكم أن بعض أمَّهاتكم تأتيكم في كَتيبةٍ كثيرٍ عددُها شديدٍ بأسُها، صدَّقتم به؟ قالوا: سبحان الله، ومن يصدِّق بهذا؟ ثم قال حذيفة: أتتكم الحمراءُ في كتيبةٍ يسوقُها أعلاجُها حيث تسوق وجوهَكم، ثم قام فدخل مخدعًا (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8453 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8453 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
خيثمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ ہم سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو ہم میں سے کسی نے کہا: اے ابوعبداللہ! ہمیں وہ باتیں بتائیں جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہیں، انہوں نے کہا: اگر میں ایسا کروں تو تم مجھے پتھر مارو گے، ہم نے عرض کیا: سبحان اللہ! کیا ہم ایسا کر سکتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ”بھلا بتاؤ، اگر میں تمہیں یہ بتاؤں کہ تمہاری بعض مائیں ایک کثیر تعداد اور سخت قوت والے لشکر کے ساتھ تم پر حملہ آور ہوں گی، تو کیا تم اس کی تصدیق کرو گے؟“ لوگوں نے کہا: سبحان اللہ! اس بات کی کون تصدیق کر سکتا ہے؟ پھر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہارے پاس سرخ رنگ کا لشکر (بنو امیہ کے عجمی غلام) ایک ایسے دستے میں آئے گا جس کے طاقتور غلام اسے وہیں لے جائیں گے جہاں سے تمہارا رخ ہوگا (یعنی تمہیں مغلوب کر دیں گے)۔“ پھر وہ اٹھے اور اپنے کمرے میں چلے گئے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّورِي، حدثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد، حدثنا أبي، عن صالح، عن ابن شهاب قال: قال أبو إدريس عائذُ الله الخَوْلاني: سمعت حذيفة يقول: والله إني لأعلمُ الناس بكل فتنةٍ هي كائنةٌ فيما بيني وبين الساعة، وما ذاك أن يكون حدَّثني رسولُ الله ﷺ بها من شيءٍ لم يُحدث بها غيري، ولكنَّ رسول الله ﷺ قال - وهو يحدِّث مجلسًا أنا فيه عن الفتن - وهو يَعُدُّ الفتن: "فيهنَّ ثلاثٌ لا يَذَرْنَ شيئًا، منهنَّ كرياح الصيف، منها صغار ومنها كبار"، فذهب أولئك الرَّهْطُ كلُّهم غيري (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8454 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8454 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
ابو ادریس خولانی سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ کی قسم! میں قیامت تک آنے والے ہر فتنے کے بارے میں لوگوں میں سب سے زیادہ جانتا ہوں، اور یہ اس لیے نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے خاص طور پر کوئی ایسی بات بتائی ہو جو دوسروں کو نہ بتائی ہو، بلکہ رسول اللہ ﷺ ایک مجلس میں فتنوں کا ذکر فرما رہے تھے جس میں میں بھی موجود تھا، آپ ﷺ فتنوں کو گن رہے تھے اور فرمایا: ان میں سے تین ایسے (خطرناک) ہوں گے جو کسی چیز کو نہیں چھوڑیں گے، وہ گرمیوں کی آندھیوں کی طرح ہوں گے، ان میں سے کچھ چھوٹے ہوں گے اور کچھ بڑے،“ پھر (حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) اس مجلس کے تمام شرکاء میرے سوا رخصت ہو گئے (فوت ہو گئے، اس لیے اب میں ہی ان باتوں کا جاننے والا باقی ہوں)۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!