أخبرني علي بن عيسى الحِيري، حدَّثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدَّثنا أبو كُرَيب، حدَّثنا حُميد بن عبد الرحمن الرُّؤَاسي، حدَّثنا هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة قالت: إنَّ رسولَ الله ﷺ لم يَقطَعْ في أقلَّ من ثَمَن مِجَنٍّ؛ حَجَفَةٍ أو تُرسٍ، وكلاهما يومَئِذٍ ذو ثَمنٍ (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8139 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8139 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ڈھال کی قیمت سے کم (کی چوری) پر ہاتھ نہیں کاٹا؛ خواہ وہ چمڑے کی ڈھال ہو یا لوہے کی، اور ان دونوں کی قیمت اس زمانے میں (نصابِ سرقہ کے مطابق) تھی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا أبو معاوية، حدَّثنا الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "لَعَنَ الله السارقَ [إن] (1) يَسرِقْ بَيضةً قُطِعَت يدُه، وإن يَسرِقْ حبلًا قُطِعَت يدُه" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8140 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8140 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی لعنت ہو اس چور پر جو انڈا چوری کرتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے، اور جو رسی چوری کرتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثنا أحمد بن كامل بن خَلَف القاضي، حدَّثنا عبد الملك بن محمد بن عبد الله الرَّقَاشي، حدَّثنا أبو عتَّاب سهل بن حماد، حدَّثنا المختار بن نافع، عن يحيى بن سعيد بن حيَّان (1)، عن أبيه، عن علي أنَّ النبي ﷺ قَطَعَ في بيضةٍ قيمتُها عشرون دِرهمًا (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8141 - المختار قال النسائي وغيره ليس بثقة
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8141 - المختار قال النسائي وغيره ليس بثقة
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک بیضہ «بَيْضَةٍ» (انڈے نما لوہے کے خود) کی چوری پر ہاتھ کاٹا جس کی قیمت بیس درہم تھی
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أبو زُرْعة الدمشقي، حدَّثنا أحمد بن خالد الوَهْبي، حدَّثنا محمد بن إسحاق، عن أيوب بن موسى، عن عطاء، عن ابن عباس قال: كان ثمنُ المِجَنِّ في عهد رسول الله ﷺ يُقوَّمُ عشرة دراهمَ (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديث أيمَنَ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8142 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديث أيمَنَ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8142 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں ڈھال کی قیمت کا اندازہ دس درہم لگایا گیا تھا
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی شاہد حدیثِ ایمن ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی شاہد حدیثِ ایمن ہے۔
حدَّثَناه علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدَّثنا يزيد بن الهيثم، حدَّثنا إبراهيم بن أبي اللَّيث، حدَّثنا الأشجعي، عن سفيان، عن منصور، عن الحَكَم، عن مجاهد، عن أيمَنَ قال: لم تُقطَعِ اليدُ على عهدِ رسول الله ﷺ إِلَّا فِي ثَمَنِ المِجَنِّ، وثمنُهُ يومَئِذٍ دينارٌ (1). . . . . 8342
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ایمن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہاتھ صرف ڈھال کی قیمت (کی چوری) پر کاٹا جاتا تھا اور اس کی قیمت اس دور میں ایک دینار تھی۔
سمعتُ أبا العباس يقول: سمعتُ الربيعَ يقول: سمعتُ الشافعيَّ يقول: أيمنُ هذا هو ابن امرأةِ كعبٍ (1)، وليس بابن أمِّ أيمن، ولم يُدرِك (2) النبيَّ ﷺ. قال الحاكم: والدليلُ على صحَّة قول الإمام الشافعي ﵁:
حافظ طلحہ بابر
میں نے ابوالعباس کو کہتے سنا، انہوں نے ربیع سے سنا، انہوں نے امام شافعی کو فرماتے ہوئے سنا کہ یہ «أَيْمَنُ» (ایمن) کعب کی زوجہ کا بیٹا ہے، یہ ام ایمن کا بیٹا نہیں ہے اور نہ ہی اس نے نبی کریم ﷺ کا زمانہ پایا ہے۔ امام حاکم فرماتے ہیں: امام شافعی رحمہ اللہ کے قول کی صحت کی دلیل درج ذیل حدیث ہے۔
ما حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتَيبة، حدَّثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا جَرير، عن منصور، عن عطاء ومجاهد، عن أيمن - قال: وكان أيمنُ رجلًا يُذكَر منه خيرٌ - قال: لا تُقطَع يدُ السارق في أقلَّ من ثمن المِجَنِّ، وكان ثمنُ المِجَنِّ يومئذٍ دينارًا (1). فأيمنُ ابن أمِّ أيمن الصحابيُّ أخو أسامة لأمِّه أجلُّ وأنبلُ أن يُنسَب إلى الجهالة، فيقال: كان رجلًا يُذكر منه خيرٌ، إنما يقال مثلُ هذه اللفظة لمجهولٍ لا يُعرَف بالصُّحبة، على أنَّ جَريرًا قد أوقَفَه على أيمنَ هذا، ولم يُسنِده.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8144 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8144 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
منصور، عطاء اور مجاہد سے روایت ہے اور وہ ایمن سے روایت کرتے ہیں —ان کا کہنا ہے کہ ایمن ایک ایسے شخص تھے جن کا ذکر خیر کے ساتھ کیا جاتا ہے— انہوں نے کہا: چور کا ہاتھ ڈھال کی قیمت سے کم پر نہیں کاٹا جاتا اور اس وقت ڈھال کی قیمت ایک دینار تھی، پس ام ایمن کے بیٹے ایمن جو کہ صحابی ہیں اور اسامہ کے مادری بھائی ہیں وہ اس سے کہیں زیادہ بلند مرتبت اور جلیل القدر ہیں کہ انہیں گمنامی کی طرف منسوب کیا جائے اور ان کے متعلق یہ کہا جائے کہ ”وہ ایک ایسے شخص تھے جن کا ذکر خیر کے ساتھ کیا جاتا ہے“، ایسی بات تو صرف اس مجہول کے لیے کہی جاتی ہے جس کی صحبتِ رسول معروف نہ ہو، علاوہ ازیں جریر نے اس روایت کو اسی ایمن پر موقوف رکھا ہے اور اسے مرفوع (سنداً متصل) نہیں کیا۔