کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: ایک عورت کا قصہ جس نے چادر چوری کی تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا
حدثني علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدَّثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدَّثنا سليمان بن داود الهاشمي، حدَّثنا عبد الرحمن بن أبي الزِّناد، عن موسى بن عُقْبة، عن أبي الزُّبير، عن جابر قال: أتِيَ النبيُّ ﷺ بامرأةٍ قد سرقَتْ، فعادت برَبيبِ رسولِ الله ﷺ، فقال النبيُّ ﷺ: "لو كانت فاطمةَ لقَطَعتُ يدَها"، فقَطَعَها (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک عورت لائی گئی جس نے چوری کی تھی، اس نے رسول اللہ ﷺ کے پرورش یافتہ بچے (ربیب) کے ذریعے پناہ مانگی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اگر (اس کی جگہ) فاطمہ بھی ہوتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا“، چنانچہ آپ ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔
فأخبرنا الحسن بن محمد الإسفرايني، حدَّثنا محمد بن أحمد بن البَرَاء، حدَّثنا علي بن المديني، قال: كان رَبيبا رسولِ الله ﷺ سَلَمةَ بن أبي سَلَمة وعمر بن أبي سَلَمة، وإنما عاذتِ المخزوميةُ التي سرقت بأحدِهما. قد اتَّفق الشيخان على إخراج حديث الزُّهْري عن عُرْوةَ عن عائشة: أنَّ المخزوميةَ إنما عاذَتْ بأسامةَ بن زيد (1)، وهو الصحيح.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8145 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8145 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
علی بن مدینی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پرورش یافتہ (ربیب) سلمہ بن ابوسلمہ اور عمر بن ابوسلمہ تھے، اور جس مخزومی عورت نے چوری کی تھی اس نے ان میں سے کسی ایک کے ذریعے پناہ مانگی تھی،
شیخین نے زہری کی روایت جو عروہ کے واسطے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، اس کے اخراج پر اتفاق کیا ہے کہ وہ مخزومی عورت دراصل اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس پناہ لینے گئی تھی، اور وہی صحیح ہے۔
شیخین نے زہری کی روایت جو عروہ کے واسطے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، اس کے اخراج پر اتفاق کیا ہے کہ وہ مخزومی عورت دراصل اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس پناہ لینے گئی تھی، اور وہی صحیح ہے۔