أخبرنا حمزة بن العباس العَقَبي، حدثنا أبو قِلابةَ، حدثنا إسحاق بن ناصح، حدثنا قيس (1)، عن منصور عن رِبْعيِّ بن حراش، عن طارق بن عبد الله المُحاربي قال: قال رسول الله ﷺ: "يا طارقُ، استعدَّ للموت قبلَ نزولِ الموت" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7868 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7868 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا طارق بن عبداللہ محاربی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے طارق! موت کے نازل ہونے سے پہلے اس کی تیاری کر لو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني الأستاذ أبو الوليد وأبو بكر بن قُريش، قالا: حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا عمار بن زَرْبي، حدثنا بشر بن منصور، عن شعيب بن الحَبحاب، عن أبي العاليَة، عن مطرِّف بن عبد الله، عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ: "أقِلُّوا الدُّخولَ على الأغنياء، فإنه أَخْرَى أن لا تَرْدَرُوا نِعَمَ اللهُ ﷿" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7869 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7869 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
مطرف بن عبداللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مالداروں کے پاس آنا جانا کم کر دو، کیونکہ یہ اس بات کے لیے زیادہ موزوں ہے کہ تم اللہ عزوجل کی نعمتوں کو حقیر نہ سمجھو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أحمد بن كامل القاضي، حدثنا جعفر بن أبي عثمان الطَّيَالسي، حدثنا يحيى بن أيوب، حدثنا عبد الجبار بن وهب، أخبرنا سعد بن طارق، عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ: "نِعَمتِ الدارُ الدنيا لمن تَزوَّد منها لآخرتِه حتى يُرضِيَ ربَّه ﷿، وبئسَتِ الدارُ لمن صَدَّتْه عن آخرتِه، وقَصَّرَت به عن رِضا ربِّه، وإذا قال العبدُ: قبَّح اللهُ الدنيا، قالتِ الدنيا: قَبَّحَ اللهُ أعصانا لربِّه" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7870 - بل منكر
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7870 - بل منكر
حافظ طلحہ بابر
سعد بن طارق اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دنیا اس شخص کے لیے کتنا بہترین گھر ہے جو یہاں سے اپنی آخرت کے لیے زادِ راہ اکٹھا کرے یہاں تک کہ وہ اپنے رب عزوجل کو راضی کر لے، اور اس شخص کے لیے کتنا برا گھر ہے جسے یہ اس کی آخرت سے روک دے اور رب کی رضا کے حصول میں کوتاہی کا باعث بن جائے، اور جب کوئی بندہ کہتا ہے کہ اللہ دنیا کو برا کرے (یا اسے قبیح کرے)، تو دنیا جواب میں کہتی ہے: اللہ ہم میں سے اسے برا کرے جو اپنے رب کا سب سے زیادہ نافرمان ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو جعفر أحمد بن عُبيدٍ الحافظ بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا أبو اليَمَان، حدثنا عُفَير بن مَعْدان، عن سُلَيم بن عامر، عن أبي أُمامة قال: قال رسول الله ﷺ: "إِنَّ العبدَ إذا مَرِضَ أَوحَى الله إلى ملائكتِه: يا ملائكتي، أنا قيَّدتُ عبدي بقَيدٍ من قيودي، فإن أَقبِضْه أغفِرْ له، وإن أُعافِه (1) فحينئذٍ يقعدُ ولا ذنبَ له" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7871 - عفير بن معدان واه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7871 - عفير بن معدان واه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بلاشبہ جب کوئی بندہ بیمار ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کی طرف وحی فرماتا ہے: اے میرے فرشتو! میں نے اپنے بندے کو اپنی پابندیوں میں سے ایک پابندی میں جکڑ دیا ہے، پس اگر میں اس کی روح قبض کر لوں تو میں اسے بخش دوں گا، اور اگر میں اسے تندرستی عطا کروں تو وہ اس حال میں اٹھے گا کہ اس پر کوئی گناہ نہ ہوگا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔