حدثني أحمد بن أبي عثمان الزاهد، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا عبد الوارث بن عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثني أبي، حدثنا حُرَيث بن السائب، عن الحسن، عن حُمْران بن أَبان عن عثمان بن عفّان قال: قال رسول الله ﷺ: "ليس لابنِ آدمَ حقٌّ فيما سوى هذه الخِصَالِ بيتٍ يَستُره، وثوبٍ يُوارِي عورتَه، وجِلْفٍ من الخُبز، والماءِ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7866 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7866 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابنِ آدم کا ان چند چیزوں کے سوا (دنیا میں) کوئی بنیادی حق نہیں: ایک گھر جو اسے چھپا سکے، ایک کپڑا جو اس کے ستر کی پردہ پوشی کرے، اور روٹی کا ٹکڑا اور پانی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا جعفر بن محمد الخُلْدي، حدثنا أبو العباس بن مسروق، حدثنا سُرَيج بن يونس، حدثنا سعيد بن محمد الورَّاق، حدثني صالح بن حسان، عن عُرْوة بن الزُّبير، عن عائشة قالت: قال لي رسول الله ﷺ: يا عائشةُ، إن أردتِ اللُّحوقَ بي، فليَكفِكِ من الدنيا كزادِ الراكب، لا تَستَخلِقي ثوبًا حتى تُرَقِّعيه، وإياكِ ومجالسةَ الأغنياء" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے عائشہ! اگر تم (آخرت میں) مجھ سے ملنا چاہتی ہو، تو تمہارے لیے دنیا سے اتنا ہی رزق کافی ہونا چاہیے جتنا ایک سوار کا زادِ راہ ہوتا ہے، اور کسی کپڑے کو اس وقت تک پرانا نہ سمجھنا جب تک کہ تم اس پر پیوند نہ لگا لو، اور خبردار مالداروں کی مجلس میں بیٹھنے سے بچنا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔