حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب حدثنا محمد بن سنان القزَّاز، حدثنا عبد الله بن حُمْران، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، حدثنا عبد الله بن ثَعلبة: أنه أتى عبد الرحمن بن كعب بن مالك وهو في إزارٍ جَرْدٍ وطاقٍ خَلَقٍ قد الْتبَبَ به وهو أعمى يُقاد، قال: فسلَّمتُ عليه فقال: مَن هذا؟ قلت: عبد الله بن ثَعلَبة، قال: أخو بني حارثة؟ قلت: نعم، قال: وخَتَنُ جُهَينة؟ قلت: نعم، قال: هل سمعتَ أباك يُحدِّث بحديث سمعتَه يُحدِّث به عن النبيِّ ﷺ؟ قال: لا أدري، قال: سمعتَ أباك يقول: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "مَن اقتَطَعَ مالَ امرئٍ مُسلم بيمينٍ كاذبةٍ، كانت نكتةٌ سوداءُ في قلبه لا يُغيِّرُها شيءٌ إلى يوم القيامة"؟ قلت: لا (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتَّفقا على حديث الأعمش ومنصور عن أبي وائل عن عبد الله بلَفْظي (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7800 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتَّفقا على حديث الأعمش ومنصور عن أبي وائل عن عبد الله بلَفْظي (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7800 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن ثعلبہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے (جو کہ اس وقت نابینا تھے) پوچھا: کیا آپ نے اپنے والد کو رسول اللہ ﷺ سے یہ حدیث بیان کرتے سنا ہے کہ ”جس شخص نے جھوٹی قسم کے ذریعے کسی مسلمان کا مال ہتھیا لیا، تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ پڑ جائے گا جسے قیامت تک کوئی چیز تبدیل نہیں کر سکے گی“؟ انہوں نے کہا: ہاں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
حدثنا أحمد بن كامل القاضي، حدثنا محمد بن سعد العَوْفي، حدثنا رَوْح بن عُبَادة، حدثنا شُعبة، قال: سمعتُ عِيَاضًا أبا خالد يقول: رأيتُ رجلينِ (2) يختصمانِ عند مَعقِل بن يسار، فقال مَعقِلٌ: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "مَن حَلَفَ على يمينٍ ليَقطَعَ بها مالَ رجلٍ، لقي الله تعالى وهو عليه غضبانُ (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذا الإسناد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7801 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذا الإسناد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7801 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے کسی دوسرے کا مال ہتھیا لینے کے لیے (جھوٹی) قسم کھائی، وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر سخت غضبناک ہوگا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سند کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سند کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
حدثنا أحمد بن كامل، حدثنا أحمد بن عُبيد الله بن إدريس، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا هشام بن حسّان، عن محمد بن سِيرِين، عن عِمران بن حُصَين قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن حَلَفَ على يمينٍ مصبورةٍ كاذبةٍ، فليتبوَّأ بوجهِه مَقعَدَه من النار" (4).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7802 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7802 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے (عدالت میں) جان بوجھ کر کسی کا حق مارنے کے لیے جھوٹی قسم کھائی، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أبو سعيد الحسن بن عبد الصمد القُهُنْدُزِي، حدثنا يحيى بن يحيى وعمرو بن زُرَارة، قالا: حدثنا سعيد بن مَسْلَمة (1) حدثنا إسماعيل بن أُميَّة، عن عمر بن عطاء بن أبي الخُوَار، عن عُبيد بن جُريج، عن الحارث بن البَرْصاءِ قال: سمعتُ رسول الله ﷺ في الحجِّ بين الجَمْرتين وهو يقول: "مَنِ اقتَطَعَ مالَ أخيه المسلمِ بيمينٍ فاجرةٍ، فليَتبوَّأ مَقْعَدَه من النار، ليُبلِّغْ شاهدُكم غائبَكم"، مرتين أو ثلاثًا (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7803 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7803 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حارث بن برصاء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حج کے موقع پر جمرات کے درمیان رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے جھوٹی قسم کے ذریعے اپنے مسلمان بھائی کا مال غصب کیا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے، تم میں سے جو موجود ہے وہ یہ بات ان تک پہنچا دے جو یہاں موجود نہیں ہیں“، آپ ﷺ نے یہ بات دو یا تین بار دہرائی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو إسحاق إبراهيم بن إسماعيل القارئ، حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارمي، حدثنا سعيد بن أبي مريم، أخبرنا نافع بن يزيد، حدثني أبو سفيان بن جابر بن عَتِيك، عن أبيه، أنه سمع رسولَ الله ﷺ يقول: "مَنِ اقْتَطَعَ مالَ امرئٍ مسلم بيمينِه، حرَّم الله عليه الجنَّة، وأدخَلَه النار" قالوا: يا رسولَ الله، وإن كان شيئًا يسيرًا؟ قال: "وإن كان سِواكًا، وإن كان سِواكًا" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7804 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7804 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے اپنی (جھوٹی) قسم کے ذریعے کسی مسلمان کا مال چھینا، اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی اور اسے جہنم کا مستحق قرار دے دیا“، عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! خواہ وہ کوئی معمولی چیز ہی کیوں نہ ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”خواہ وہ پیلو کی ایک مسواک ہی کیوں نہ ہو، خواہ وہ مسواک ہی کیوں نہ ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو بكر إسماعيل بن محمد الفقيه بالرَّي، حدثنا سعيد بن يزيد ابن (2) عطية، حدثنا وَكيع بن الجرّاح، حدثنا الحارث بن سليمان الكِنْدي (3)، عن كُرْدُوس الثَّعلبي، عن الأشعث بن قيس، عن النبيِّ ﷺ أنه قال: "مَن حَلَفَ على يمينٍ يَقتطِعُ بها مالَ امرئٍ مسلم وهو فاجرٌ، لقيَ الله وهو أجذمُ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه الزِّيادة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7805 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه الزِّيادة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7805 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے گناہ گار ہوتے ہوئے کسی مسلمان کا مال ہتھیا لینے کے لیے (جھوٹی) قسم کھائی، وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ کوڑھی (یا اس کا کوئی عضو کٹا ہوا) ہوگا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس اضافے کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس اضافے کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
أخبرنا الحسن بن يعقوب العَدل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا عبد الله بن عَوْن، عن الشَّعبي، عن الأشعث بن قيس: أنه خاصمَ رجلًا إلى النبيِّ ﷺ في أرضٍ، فجعلَ اليمينَ على أحدهما، فقال [الآخر]: يا رسولَ الله، إنْ حلفَ دفعتُ إليه أرضي، فقال رسول الله ﷺ: "اترُكْه، فإنه من حَلَفَ على يمينِ صَبْرٍ ليقتطعَ بها مالَ امرئٍ مسلم، لقيَ الله تعالى يومَ القيامة وهو مُجتمِعٌ عليه غضبًا، عَفَا الله عنه أو عاقَبَه" (2)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7806 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7806 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی عدالت میں زمین کے ایک ٹکڑے پر مقدمہ کیا، آپ ﷺ نے دوسرے فریق پر قسم لازم کی، تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر اس نے قسم کھا لی تو یہ میری زمین لے جائے گا، تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی مسلمان کا مال مارنے کے لیے جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھائی، وہ قیامت کے دن اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ کا غضب اس پر پوری طرح چھایا ہوا ہوگا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا عثمان بن عمر، أخبرنا ابن أبي ذِئب عن الحارث بن عبد الرحمن، عن أبي سلمة قال: كان بين سعيد بن زيد وبين ابنةِ أَروى خُصومةٌ، فقال: مروان: أَصلِحُوا بين هذينِ. فقلنا له في ذلك، حتى قلنا: أنصِفْ هذه المرأةَ، فقال: تَرَوني أَنتقِصُها من حقِّها شيئًا وقد سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "مَنِ اقْتَطَعَ شِبرًا من الأرض، طَوَّقه اللهُ تعالى يومَ القيامة من سبع أرَضِينَ، ومَن اقتَطَعَ مالًا بيمينهِ، فلا بُورِكَ له فيه، ومن تولَّى قومًا بغير إذنِهم، فعليه لعنةُ الله والملائكةِ والناسِ أجمعين" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7807 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7807 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ابوسلمہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ اور ارویٰ کی بیٹی کے درمیان (زمین کا) جھگڑا ہوا، تو مروان نے کہا: ان کے درمیان صلح کرا دو۔ ہم نے اس بارے میں سعید رضی اللہ عنہ سے بات کی تو انہوں نے فرمایا: کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں اس کے حق میں سے کچھ کم کروں گا؟ حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ”جس نے (ناحق) ایک بالشت زمین بھی لی، قیامت کے دن ساتوں زمینوں کا طوق اس کے گلے میں ڈالا جائے گا، اور جس نے (جھوٹی) قسم کے ذریعے کسی کا مال چھینا اس میں برکت نہیں دی جائے گی، اور جو شخص اپنے اصل آقاؤں کی اجازت کے بغیر کسی اور قوم سے دوستی (یا ولاء) کا تعلق جوڑے اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔