حدیث نمبر: 7993
حدثنا أبو النضر الفقيه وأبو الحسن العَنَزي، قالا: حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارِمي، حدثنا يزيد بن خالد الرَّمْلي، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن درَّاج أبي السَّمْح، عن أبي الهيثم، عن أبي سعيد الخُدْري قال: قال رسول الله ﷺ: "لا حليمَ إلَّا ذو عَثْرةٍ، ولا حكيمَ إِلَّا ذو تَجْرِبة" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. آخر كتاب الأدب [كتاب الأيمان والنذور]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7799 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حقیقی بردبار وہی ہے جس سے کبھی کوئی لغزش ہوئی ہو (اور اس نے تجربہ پایا ہو)، اور حقیقی دانشمند وہی ہے جو تجربہ کار ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
کتاب الادب یہاں ختم ہوئی اور کتاب الایمان والنذور شروع ہوتی ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأدب / حدیث: 7993
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف رواية دراج أبي السمح عن أبي الهيثم: وهو سليمان بن عمرو العُتواري» [ترقيم الرساله 7993] [ترقيم الشركة 7898] [ترقيم العلميه 7799]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لضعف رواية دراج أبي السمح عن أبي الهيثم: وهو سليمان بن عمرو العُتواري.
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: دراج ابو السمح کی اپنے شیخ ابو الہیثم (سلیمان بن عمرو العتواری) سے روایت ضعیف مانی جاتی ہے۔
وأخرجه أحمد 17 / (11056) و 18/ (11661)، والترمذي، (2033)، وابن حبان (193) من طرق عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حسن غريب لا نعرفه إلَّا من هذا الوجه.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (17/ 11056، 18/ 11661)، ترمذی (2033) اور ابن حبان (193) نے عبد اللہ بن وہب کے مختلف طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے اسے "حسن غریب" کہا ہے کیونکہ یہ صرف اسی طریق سے جانی جاتی ہے۔
وأخرجه البخاري في "الأدب المفرد" (565) عن سعيد بن عفير، عن يحيى بن أيوب الغافقي، عن عبيد الله بن زَحْر، عن أبي الهيثم، عن أبي سعيد موقوفًا. وعبيد الله بن زحر مختلف فيه، والموقوف أشبه بالصواب.
حوالہ / مصدر: امام بخاری نے "الادب المفرد" (565) میں اسے سعید بن عفیر، یحییٰ بن ایوب غافقی، عبید اللہ بن زحر اور ابو الہیثم کے واسطے سے حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے "موقوف" (صحابی کا اپنا قول) روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: عبید اللہ بن زحر کے ثقہ ہونے میں اختلاف ہے، تاہم اس روایت کا "موقوف" ہونا ہی درستی کے زیادہ قریب ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7993 سے ماخوذ ہے۔