المستدرك على الصحيحين
كتاب الأيمان والنذور— قسم اور نذر کے متعلق روایات
الْأَحَادِيثُ الْمُنْذِرَةُ عَنْ يَمِينٍ كَاذِبَةٍ باب: جھوٹی قسم کھانے پر ڈرانے والی احادیث کا تذکرہ
حدیث نمبر: 7999
أخبرنا أبو بكر إسماعيل بن محمد الفقيه بالرَّي، حدثنا سعيد بن يزيد ابن (2) عطية، حدثنا وَكيع بن الجرّاح، حدثنا الحارث بن سليمان الكِنْدي (3)، عن كُرْدُوس الثَّعلبي، عن الأشعث بن قيس، عن النبيِّ ﷺ أنه قال: "مَن حَلَفَ على يمينٍ يَقتطِعُ بها مالَ امرئٍ مسلم وهو فاجرٌ، لقيَ الله وهو أجذمُ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه الزِّيادة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7805 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے گناہ گار ہوتے ہوئے کسی مسلمان کا مال ہتھیا لینے کے لیے (جھوٹی) قسم کھائی، وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ کوڑھی (یا اس کا کوئی عضو کٹا ہوا) ہوگا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس اضافے کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) تحرّف لفظ "بن" في النسخ الخطية إلى عن. وقد وقع اسمه على الصواب في موضعين عند البيهقي في "شعب الإيمان" برقم (5586) و (5707)، حيث سماه: سعيد بن يزيد بن عطية التيمي. وسعيد هذا مجهول، لم يرو عنه غير إسماعيل بن محمد الرازي، وذكره الذهبي في "تاريخ الإسلام" 6/ 92 ولم يأثر فيه جرحًا ولا تعديلًا.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں لفظ "بن" تحریف کا شکار ہو کر "عن" ہو گیا ہے۔ امام بیہقی نے اپنی کتاب "شعب الایمان" کے دو مقامات (5586 اور 5707) پر ان کا نام صحیح طور پر "سعيد بن يزيد بن عطية التيمي" لکھا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یہ سعید نامی راوی 'مجہول' ہیں، ان سے سوائے اسماعیل بن محمد رازی کے کسی اور نے روایت نہیں کی۔ امام ذہبی نے "تاریخ الاسلام" (6/ 92) میں ان کا ذکر تو کیا ہے لیکن ان کے متعلق کوئی جرح یا تعدیل نقل نہیں فرمائی۔
(3) تحرّف في النسخ الخطية إلى: الجندي.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہاں لفظ تحریف ہو کر "الجندی" درج ہو گیا ہے۔
(1) حديث صحيح لكن بلفظ: "لقي الله وهو عليه غضبان" كما في الحديث التالي، وهذا إسناد ضعيف كُردوس اختلفوا فيه، فقيل: هو ابن عباس الثعلبي، وقيل: ابن هانئ، وقيل: ابن عمرو الغطفاني، وعدَّهم ابن المديني ثلاثةً، وتبعه البخاري، وقال ابن حجر في "التقريب": مقبول؛ يعني عند المتابعة، وقد تفرّد بهذا اللفظ. وصح الحديث باللفظ الذي ساقه المصنِّف في الحديث التالي، وهناك يأتي تخريجه. وسعيد بن يزيد التيمي سبق الكلام عليه.
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے لیکن ان الفاظ کے ساتھ: "لقي الله وهو عليه غضبان" (وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر غضبناک ہو گا) جیسا کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یہ سند ضعیف ہے کیونکہ راوی 'کردوس' کی شناخت میں اختلاف ہے۔ بعض نے انہیں ابن عباس ثعلبی، بعض نے ابن ہانئ اور بعض نے ابن عمرو غطفانی کہا ہے۔ ابن المدینی اور امام بخاری نے انہیں تین الگ اشخاص مانا ہے۔ حافظ ابن حجر نے "التقریب" میں انہیں 'مقبول' (متابعت کی شرط پر) کہا ہے، اور وہ اس لفظ میں منفرد ہیں۔ سعید بن یزید تیمی کے بارے میں کلام اوپر گزر چکا ہے۔
وأخرجه أحمد 36 / (21843)، وابن حبان (5088) من طريق وكيع، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (36/ 21843) اور ابن حبان نے (5088) میں وکیع کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (21849)، وأبو داود (3244) و (3622)، والنسائي (5959) من طرق عن الحارث بن سليمان، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (21849)، ابو داؤد (3244، 3622) اور نسائی (5959) نے حارث بن سلیمان کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
قوله: "فاجر" أي: كاذب.
نوٹ / توضیح: حدیث میں لفظ "فاجر" سے مراد جھوٹا (کاذب) ہونا ہے۔
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں لفظ "بن" تحریف کا شکار ہو کر "عن" ہو گیا ہے۔ امام بیہقی نے اپنی کتاب "شعب الایمان" کے دو مقامات (5586 اور 5707) پر ان کا نام صحیح طور پر "سعيد بن يزيد بن عطية التيمي" لکھا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یہ سعید نامی راوی 'مجہول' ہیں، ان سے سوائے اسماعیل بن محمد رازی کے کسی اور نے روایت نہیں کی۔ امام ذہبی نے "تاریخ الاسلام" (6/ 92) میں ان کا ذکر تو کیا ہے لیکن ان کے متعلق کوئی جرح یا تعدیل نقل نہیں فرمائی۔
(3) تحرّف في النسخ الخطية إلى: الجندي.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہاں لفظ تحریف ہو کر "الجندی" درج ہو گیا ہے۔
(1) حديث صحيح لكن بلفظ: "لقي الله وهو عليه غضبان" كما في الحديث التالي، وهذا إسناد ضعيف كُردوس اختلفوا فيه، فقيل: هو ابن عباس الثعلبي، وقيل: ابن هانئ، وقيل: ابن عمرو الغطفاني، وعدَّهم ابن المديني ثلاثةً، وتبعه البخاري، وقال ابن حجر في "التقريب": مقبول؛ يعني عند المتابعة، وقد تفرّد بهذا اللفظ. وصح الحديث باللفظ الذي ساقه المصنِّف في الحديث التالي، وهناك يأتي تخريجه. وسعيد بن يزيد التيمي سبق الكلام عليه.
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے لیکن ان الفاظ کے ساتھ: "لقي الله وهو عليه غضبان" (وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر غضبناک ہو گا) جیسا کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یہ سند ضعیف ہے کیونکہ راوی 'کردوس' کی شناخت میں اختلاف ہے۔ بعض نے انہیں ابن عباس ثعلبی، بعض نے ابن ہانئ اور بعض نے ابن عمرو غطفانی کہا ہے۔ ابن المدینی اور امام بخاری نے انہیں تین الگ اشخاص مانا ہے۔ حافظ ابن حجر نے "التقریب" میں انہیں 'مقبول' (متابعت کی شرط پر) کہا ہے، اور وہ اس لفظ میں منفرد ہیں۔ سعید بن یزید تیمی کے بارے میں کلام اوپر گزر چکا ہے۔
وأخرجه أحمد 36 / (21843)، وابن حبان (5088) من طريق وكيع، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (36/ 21843) اور ابن حبان نے (5088) میں وکیع کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (21849)، وأبو داود (3244) و (3622)، والنسائي (5959) من طرق عن الحارث بن سليمان، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (21849)، ابو داؤد (3244، 3622) اور نسائی (5959) نے حارث بن سلیمان کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
قوله: "فاجر" أي: كاذب.
نوٹ / توضیح: حدیث میں لفظ "فاجر" سے مراد جھوٹا (کاذب) ہونا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7999 سے ماخوذ ہے۔