کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: والدین کی نافرمانی اور جھوٹی قسم (یمینِ غموس) بڑے گناہوں میں سے ہیں
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا يونس بن محمد، حدثنا الليث بن سعد، عن هشام بن سعد، عن محمد بن زيد بن مهاجر، عن أبي أمامة الأنصاري، عن عبد الله بن أُنَيس الجُهَنِي، أَنَّ رسول الله ﷺ قال: "من أكبَرِ الكبائر الإشراكُ بالله، وعقوقُ الوالدَين، واليمينُ الغَمُوس، وما حَلَفَ حالفٌ بالله يمينَ صبرٍ فأدخل فيها مِثلَ جناحِ البَعُوضة، إِلَّا جعلها الله نُكْتَةً في قلبِه يومَ القيامة" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7808 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7808 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن انیس جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سب سے بڑے کبیرہ گناہ یہ ہیں: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا اور «يمينِ غموس» (تباہ کن جھوٹی قسم)۔ اور جب کوئی شخص اللہ کی جھوٹی قسم کھاتا ہے اور اس میں مچھر کے پر کے برابر بھی (ناحق بات) شامل کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ بنا دے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن إسحاق، أخبرنا سليمان بن حرب ومسلم بن إبراهيم، قالا: حدثنا شُعْبة، حدثني أبو التيَّاح، عن أبي العاليَة، عن عبد الله بن مسعود قال: كنا نَعُدُّ من الذَّنْب الذي ليس له كفَّارةٌ: اليمينَ الغَموس، قيل: وما اليمينُ الغموس؟ قال: الرجلُ يقتطعُ بيمينِه مالَ الرجل (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، فقد اتَّفقا على سَنَدِ قول الصحابي.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7809 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، فقد اتَّفقا على سَنَدِ قول الصحابي.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7809 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم «يمينِ غموس» کو ان گناہوں میں شمار کرتے تھے جن کا کوئی کفارہ نہیں (یعنی یہ توبہ کے بغیر معاف نہیں ہوتا)۔ پوچھا گیا: «يمينِ غموس» کیا ہے؟ فرمایا: یہ کہ کوئی شخص اپنی (جھوٹی) قسم کے ذریعے کسی دوسرے کا مال ہتھیا لے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ اس سند کے ساتھ صحابی کا یہ قول تسلیم کیا گیا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ اس سند کے ساتھ صحابی کا یہ قول تسلیم کیا گیا ہے۔
حدثنا بكر بن محمد بن حَمْدان المَروَزي، حدثنا عبد الصمد بن الفضل، حدثنا مكِّيُّ بن إبراهيم، أخبرنا هاشم بن هاشم بن عُتبة، عن عبد الله بن نِسْطاس مولى كثير بن الصَّلت عن جابر بن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن حَلَفَ على مِنبَري هذا على يمينٍ آثمةٍ، فليَتبوَّأْ مَقعَدَه من النَّار - أو قال: إِلَّا وَجَبَتْ له النَّارُ - ولو على سِواكٍ أخضرَ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رواه مالك بن أنس عن هاشم بن هاشم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7810 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رواه مالك بن أنس عن هاشم بن هاشم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7810 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے میرے اس منبر کے پاس کھڑے ہو کر کوئی گناہ آلود (جھوٹی) قسم کھائی، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے - یا فرمایا: اس کے لیے جہنم واجب ہو گئی - خواہ وہ پیلو کی ایک ہری مسواک ہی کیوں نہ ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثناه أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم أخبرنا ابن وهب، أخبرني مالك بن أنس، عن هاشم بن هاشم بن عُتبة بن أبي وقَّاص، عن عبد الله بن نِسْطاس، عن جابر بن عبد الله السَّلَمي، أَنَّ رسول الله ﷺ قال: "مَن حَلَفَ على مِنبَري هذا بيمينٍ آثمةٍ، فليتبوَّأْ مَقعَدَه من النَّار" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ سلمی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے میرے اس منبر پر گناہ والی قسم کھائی، وہ اپنا ٹھکانہ آگ میں بنا لے۔“
حدثنا أبو الحسين محمد بن أحمد القَنْطري ببغداد، حدثنا أبو قِلَابة، حدثنا أبو عاصم، حدثنا الحسن بن يزيد الضَّمْري قال: سمعتُ أبا سَلَمة بن عبد الرحمن يقول: أشهَدُ لَسمعتُ أبا هريرة يقول: قال رسول الله ﷺ: "لا يَحلِفُ عبدٌ ولا أَمَةٌ عندَ هذا المنبر على يمينٍ آثمةٍ، ولو على سِواكٍ رَطْبٍ، إِلَّا وَجَبَت له النَّارُ" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فإنَّ الحسن بن يزيد هذا هو أبو يونس القويُّ (3) العابدُ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7812 - صحيح
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فإنَّ الحسن بن يزيد هذا هو أبو يونس القويُّ (3) العابدُ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7812 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی بھی غلام یا لونڈی اس منبر کے پاس گناہ والی قسم نہیں کھائے گی، خواہ وہ ایک تر و تازہ مسواک کے لیے ہی کیوں نہ ہو، مگر اس کے لیے جہنم واجب ہو جائے گی۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، کیونکہ اس کے راوی حسن بن یزید (ابویونس) قوی اور عابد ہیں، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، کیونکہ اس کے راوی حسن بن یزید (ابویونس) قوی اور عابد ہیں، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔