أخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجلاب بهمذان، حدثنا هلال بن العلاء الرَّقي، حدثنا أبي، حدثنا عُبيد الله بن عمرو، عن عبد الله بن محمد بن عَقيل، عن حمزة بن صُهيب، عن أبيه، عن عمر بن الخطّاب: أنه قال لصُهيب: إِنَّكَ لَرجلٌ لولا خِصالٌ ثلاثة، قال: وما هنَّ؟ قال: اكتَنيتَ وليس لك ولدٌ، وانتَميتَ إلى العرب وأنت رجلٌ من الرُّوم، وفيك سَرَفٌ في الطَّعام، قال: يا أميرَ المؤمنين، أما قولُك: اكتنيتَ وليس لك ولدٌ، فإنَّ رسولَ الله ﷺ كنَّاني أبا يحيى، وأما قولُك: انتميتَ إلى العرب، فإنِّي رجلٌ من النَّمِر بن قاسِطٍ استُبِيتُ من المَوْصل بعد أن كنتُ غلامًا قد عرفتُ أهلي ونَسَبي، وأما قولُك: فيك سَرَفٌ في الطعام، فإنِّي سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "إِنَّ خيرَكم مَن أطعمَ الطَّعامَ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7739 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7739 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم میں تین باتیں (قابلِ اصلاح) نہ ہوتیں تو کیا ہی بات تھی، انہوں نے پوچھا: وہ کیا ہیں؟ فرمایا: تم نے اولاد نہ ہونے کے باوجود کنیت رکھی ہوئی ہے، تم خود کو عرب کی طرف منسوب کرتے ہو حالانکہ تم رومی ہو، اور تم کھانے میں بہت اسراف (زیادہ خرچ) کرتے ہو، تو انہوں نے جواب دیا: اے امیر المؤمنین! آپ کی پہلی بات کہ میں نے اولاد کے بغیر کنیت رکھی ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے خود میری کنیت ”ابو یحییٰ“ رکھی تھی، اور آپ کی یہ بات کہ میں عرب کی طرف منسوب ہوتا ہوں، تو حقیقت یہ ہے کہ میں قبیلہ نمیر بن قاسط کا ایک فرد ہوں، مجھے بچپن میں موصل سے قیدی بنا لیا گیا تھا جبکہ میں اپنے خاندان اور نسب کو جانتا تھا، اور آپ کی یہ بات کہ میں کھانے میں اسراف کرتا ہوں، تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تم میں سے بہترین وہ ہے جو دوسروں کو کھانا کھلائے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا مُكرَم بن أحمد القاضي ببغداد، حدثنا يحيى بن جعفر بن الزِّبْرقان، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، حدثنا أبو المِنْهال عبد الرحمن بن معاوية البَكْراوي، عن عبد العزيز بن أبي بَكْرة، عن أبيه قال: لمّا حاصر النبي ﷺ الطائف، تدلّيتُ ببكرة، قال: كيف صنعت؟ قلتُ: تدلَّيتُ ببَكْرة، فقال: "أنت أبو بَكْرة" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7740 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7740 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے طائف کا محاصرہ کیا، تو میں ایک چرخی (بکرہ) کے ذریعے (قلعے سے) نیچے اتر آیا، آپ ﷺ نے پوچھا: تم نے یہ کیسے کیا؟ میں نے عرض کیا: میں ”بکرہ“ کے ذریعے نیچے اترا ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم ”ابو بکرہ“ ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدثنا أبو غسّان، حدثنا قيس بن الربيع، عن المِقْدام بن شُريح، عن أبيه [عن جده] (1) قال: قال لي رسول الله ﷺ: "أيُّ ولدِك أكبرُ؟ " قلتُ: شُريح، قال: "فأنت أبو شُرَيح" (2). تفرَّد به قيس عن المِقدام (3)، وأنا ذاكرٌ بعده حديثًا تفرَّد به مُجالِد بن سعيد، وليسا من شرط هذا الكتاب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7741 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7741 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
مقدام بن شریح اپنے والد اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے پوچھا: ”تمہارا سب سے بڑا بیٹا کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: شریح، آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تم ”ابو شریح“ ہو۔“
اس روایت کو نقل کرنے میں قیس، مقدام سے منفرد ہیں، اور یہ دونوں اس کتاب (مستدرک) کی شرائط پر پورا نہیں اترتے۔
اس روایت کو نقل کرنے میں قیس، مقدام سے منفرد ہیں، اور یہ دونوں اس کتاب (مستدرک) کی شرائط پر پورا نہیں اترتے۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عَفّان العامري، حدثنا أبو أسامة، عن مُجالِد، عن عامر، عن مسروق قال: [قدمتُ على عمرَ، فقال: ما اسمُك؟ قلت: مسروقٌ، قال] (4): ابن مَنْ؟ قلتُ: ابن الأجدَع، قال: أنت مسروق بن عبد الرحمن، حدَّثَنا رسولُ الله ﷺ: أَنَّ الأجدعَ شيطانٌ. قال: وكان اسمُه في الديوان مسروقَ بنَ عبد الرحمن (5).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7742 - قيس ومجالد ليسا من شروط كتابنا
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7742 - قيس ومجالد ليسا من شروط كتابنا
حافظ طلحہ بابر
مسروق بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انہوں نے پوچھا: تمہارا نام کیا ہے؟ میں نے کہا: مسروق، انہوں نے پوچھا: کس کے بیٹے ہو؟ میں نے کہا: ابن الاجدع، انہوں نے فرمایا: تم ”مسروق بن عبدالرحمن“ ہو، ہمیں رسول اللہ ﷺ نے بتایا تھا کہ ”اجدع“ شیطان کا نام ہے، چنانچہ سرکاری رجسٹر (دیوان) میں ان کا نام مسروق بن عبدالرحمن درج کیا گیا۔
حدثنا أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدثنا أحمد بن يحيى بن إسحاق الحُلْواني، حدثنا عيسى بن أبي حرب الصَّفّار، حدثنا يحيى بن أبي بُكَير، حدثنا عَديُّ بن الفضل، عن إسحاق بن سُوَيد، عن يحيى بن يَعمَر، عن ابن عمر: أَنَّ رجلًا قال: يا رسولَ الله، قال: "يا لبَّيكَ" (1).
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7743 - عدي بن الفضل تركوه
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7743 - عدي بن الفضل تركوه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کو آواز دی تو آپ ﷺ نے جواب میں فرمایا: «يا لبَّيك» (میں حاضر ہوں)۔
یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔