کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: رسول اللہ ﷺ اسے ناپسند فرماتے تھے کہ کوئی آپ کے نقشِ قدم پر (بالکل پیچھے لگ کر) چلے
أخبرنا أبو نصر أحمد بن سهل الفقيه ببُخارَى، حدثنا صالح بن محمد الحافظ، حدثنا شَيبان، حدثنا سليمان بن المغيرة، حدثنا ثابت البُنَاني، عن شعيب بن محمد بن عبد الله بن عمرو، عن عبد الله بن عمرو قال: كان رسولُ الله ﷺ يكرهُ أن يَطَأَ أَحدٌ عَقِبَيْه، ولكن يمينٌ وشِمالٌ (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اسے ناپسند فرماتے تھے کہ کوئی شخص (بالکل پیچھے) آپ کے قدموں کے نشان پر چلے، بلکہ دائیں یا بائیں چلنا (پسند فرماتے تھے)۔
وأخبرنا أبو نصر، حدثنا صالح، حدثنا علي بن الحسين الدِّرهمي، حدثنا أُمية بن خالد، حدثنا سليمان بن المغيرة عن ثابت عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن عبد الله بن عمرو، عن رسول الله، نحوه (1). حديث سليمان بن المغيرة صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7745 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7745 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے اسی طرح مروی ہے،
سلیمان بن مغیرہ کی یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
سلیمان بن مغیرہ کی یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حدثنا الحسن بن علي بن بحر بن بَرِّي، حدثني أبي، حدثنا سعيد بن مَسلَمة بن هشام بن عبد الملك الأُموي، حدثنا إسماعيل بن أميّة، عن نافع، عن ابن عمر قال: دخلَ رسولُ الله ﷺ المسجدَ وأبو بكر عن يمينِه وعمرُ عن شمالِه، آخذًا (2) بأيديهما، فقال: "هكذا نُبعَثُ يومَ القيامة (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7746 - سعيد بن مسلمة ضعفوه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7746 - سعيد بن مسلمة ضعفوه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں اس حال میں داخل ہوئے کہ ابوبکر آپ کے دائیں جانب اور عمر آپ کے بائیں جانب تھے اور آپ ﷺ نے ان دونوں کے ہاتھ پکڑے ہوئے تھے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہم قیامت کے دن اسی طرح اٹھائے جائیں گے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔