حدیث نمبر: 7932
أخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجلاب بهمذان، حدثنا هلال بن العلاء الرَّقي، حدثنا أبي، حدثنا عُبيد الله بن عمرو، عن عبد الله بن محمد بن عَقيل، عن حمزة بن صُهيب، عن أبيه، عن عمر بن الخطّاب: أنه قال لصُهيب: إِنَّكَ لَرجلٌ لولا خِصالٌ ثلاثة، قال: وما هنَّ؟ قال: اكتَنيتَ وليس لك ولدٌ، وانتَميتَ إلى العرب وأنت رجلٌ من الرُّوم، وفيك سَرَفٌ في الطَّعام، قال: يا أميرَ المؤمنين، أما قولُك: اكتنيتَ وليس لك ولدٌ، فإنَّ رسولَ الله ﷺ كنَّاني أبا يحيى، وأما قولُك: انتميتَ إلى العرب، فإنِّي رجلٌ من النَّمِر بن قاسِطٍ استُبِيتُ من المَوْصل بعد أن كنتُ غلامًا قد عرفتُ أهلي ونَسَبي، وأما قولُك: فيك سَرَفٌ في الطعام، فإنِّي سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "إِنَّ خيرَكم مَن أطعمَ الطَّعامَ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7739 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم میں تین باتیں (قابلِ اصلاح) نہ ہوتیں تو کیا ہی بات تھی، انہوں نے پوچھا: وہ کیا ہیں؟ فرمایا: تم نے اولاد نہ ہونے کے باوجود کنیت رکھی ہوئی ہے، تم خود کو عرب کی طرف منسوب کرتے ہو حالانکہ تم رومی ہو، اور تم کھانے میں بہت اسراف (زیادہ خرچ) کرتے ہو، تو انہوں نے جواب دیا: اے امیر المؤمنین! آپ کی پہلی بات کہ میں نے اولاد کے بغیر کنیت رکھی ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے خود میری کنیت ”ابو یحییٰ“ رکھی تھی، اور آپ کی یہ بات کہ میں عرب کی طرف منسوب ہوتا ہوں، تو حقیقت یہ ہے کہ میں قبیلہ نمیر بن قاسط کا ایک فرد ہوں، مجھے بچپن میں موصل سے قیدی بنا لیا گیا تھا جبکہ میں اپنے خاندان اور نسب کو جانتا تھا، اور آپ کی یہ بات کہ میں کھانے میں اسراف کرتا ہوں، تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تم میں سے بہترین وہ ہے جو دوسروں کو کھانا کھلائے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأدب / حدیث: 7932
درجۂ حدیث محدثین: إسناده فيه لين من أجل عبد الله بن محمد بن عقيل
تخریج حدیث «إسناده فيه لين من أجل عبد الله بن محمد بن عقيل، وقد تفرد بالمرفوع منه في هذا الخبر، وباقيه روي نحوه من وجوه أخرى كما سلف عند الحديث رقم (5806)» [ترقيم الرساله 7932] [ترقيم الشركة 7838] [ترقيم العلميه 7739]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده فيه لين من أجل عبد الله بن محمد بن عقيل، وقد تفرد بالمرفوع منه في هذا الخبر، وباقيه روي نحوه من وجوه أخرى كما سلف عند الحديث رقم (5806). وأخرجه مختصرًا أحمد 39/ (23929) عن زكريا بن عدي، عن عبيد الله بن عمرو، بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث: اس کی سند میں عبد اللہ بن محمد بن عقیل کی وجہ سے کچھ کمزوری (لین) ہے، اور وہ اس خبر کے مرفوع حصے میں منفرد ہیں۔ بقیہ حصہ دیگر طرق سے مروی ہے جیسا کہ حدیث نمبر (5806) میں گزر چکا ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 39/ (23929) نے زکریا بن عدی عن عبید اللہ بن عمرو کی سند سے مختصراً روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (23926) من طريق زهير بن محمد، عن ابن عقيل، عن حمزة بن صهيب: أنَّ صهيبًا كان يكنى أبا يحيى … وذكر نحوه.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (23926) میں زہیر بن محمد عن عبد اللہ بن محمد بن عقیل عن حمزہ بن صہیب کے طریق سے روایت کیا ہے کہ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ کی کنیت "ابو یحییٰ" تھی، اور اسی طرح کی دیگر تفصیلات ذکر کیں۔
وأخرجه مختصرًا ابن ماجه (3738) من طريق زهير بن محمد، عن ابن عقيل، عن حمزة: أنَّ عمر قال لصهيب: ما لك تكتنى بأبي يحيى، وليس لك ولد؟ قال: كنّاني رسول الله ﷺ بأبي يحيى.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (3738) نے زہیر بن محمد کے طریق سے مختصراً روایت کیا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت صہیب سے پوچھا: کیا بات ہے کہ آپ کی کنیت "ابو یحییٰ" ہے حالانکہ آپ کی کوئی اولاد (اس نام کی) نہیں ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میری یہ کنیت اللہ کے رسول ﷺ نے رکھی تھی۔
وفي باب فضل إطعام الطعام عن أبي هريرة وعن عبد الله بن سَلَام انظرهما مع تخريجهما في "مسند أحمد" 13/ (7932) و 39 (23784).
نوٹ / توضیح: کھانا کھلانے کی فضیلت کے باب میں حضرت ابوہریرہ اور حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہما کی روایات "مسند احمد" 13/ (7932) اور 39/ (23784) میں مع تخریج ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7932 سے ماخوذ ہے۔