کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: حجامہ کروانا ان بہترین چیزوں میں سے ہے جن سے تم علاج کرتے ہو
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، أنَّ بُكير بن عبد الله حدَّثه، أنَّ عاصم ابن عمر بن قَتَادة حدَّثه: أنَّ جابر بن عبد الله عادَ المُقنَّعَ، ثم قال: لا أَبْرَحُ حتى يَحتجِمَ، فإني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "إِنَّ فيه شِفاءً" (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7466 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7466 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے مقنع (نامی شخص) کی عیادت کی، پھر فرمایا: میں یہاں سے اس وقت تک نہیں جاؤں گا جب تک کہ یہ سینگی نہ لگوا لے، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بے شک اس میں شفا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو العباس محمد بن محمود (1) المحبوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى حدثنا شَيْبان بن عبد الرحمن، عن عبد الملك ابن عُمير، عن حُصين بن أبي الحُرّ، عن سَمُرة قال: دخل أعرابيٌّ من بني فَزارة من بني أُمِّ قِرْفة على رسول الله ﷺ، فإذا حجَّامٌ يَحجُمُه بمَحاجِمَ (2) له من قُرون، يَشرِطُ بشَفْرةٍ، فقال: ما هذا يا رسولَ الله؟ لِمَ تَدَعُ هذا يقطعُ عليك جِلدَك؟ قال: "هذا الحَجْمُ، وهو خيرُ ما تداويتُم به" (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد رواه شُعبةُ بن الحجَّاج العَتَكيُّ وزهير بن معاوية الجُعْفيُّ عن عبد الملك ابن عُمير. أما حديثُ شُعبة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7467 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد رواه شُعبةُ بن الحجَّاج العَتَكيُّ وزهير بن معاوية الجُعْفيُّ عن عبد الملك ابن عُمير. أما حديثُ شُعبة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7467 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو فزارہ (بنو ام قرفہ) کا ایک اعرابی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت ایک حجام سینگیوں (جو سینگوں سے بنی ہوئی تھیں) کے ذریعے آپ ﷺ کو سینگی لگا رہا تھا اور نشتر (بلیڈ) سے چیرے لگا رہا تھا، اس نے پوچھا: یا رسول اللہ! یہ کیا ہے؟ آپ اس کو کیوں اجازت دے رہے ہیں کہ یہ آپ کی جلد کاٹ دے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ حجامہ (سینگی لگوانا) ہے، اور یہ ان تمام چیزوں میں سے بہتر ہے جن سے تم علاج کرتے ہو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اسے شعبہ بن حجاج اور زہیر بن معاویہ نے بھی عبدالملک بن عمیر سے روایت کیا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اسے شعبہ بن حجاج اور زہیر بن معاویہ نے بھی عبدالملک بن عمیر سے روایت کیا ہے۔
فحدَّثَناه أبو علي الحافظ، أخبرنا زكريا بن يحيى الساجي، حدثنا عبد الوارث ابن عبد الصمد، حدثني أبي، حدثنا شُعبة، عن عبد الملك بن عُمَير، قال: سمعتُ حُصَين بن أبي الحُرِّ يُحدِّث عن سَمُرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "خيرُ ما تداويتُم به الحَجْمُ" (1). وأما حديثُ زهير:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بہترین علاج جس سے تم دوا کرتے ہو وہ حجامہ (سینگی لگوانا) ہے۔“
فحدَّثَناه محمد بن صالح بن هانئ قال أحمد بن محمد بن نصر: حدثنا أبو نُعيم، حدثنا زُهير، عن عبد الملك بن عُمير، حدثني حُصين بن أبي الحُرّ، عن سَمُرة، عن النبيِّ ﷺ نحوَه (2). وقد رواه داود بن نُصَير الطائي عن عبد الملك بن عُمير:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اسی طرح (حجامہ کی فضیلت) ارشاد فرمائی۔
أخبرَناه محمد بن يعقوب الأخرَم، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا إسماعيل ابن عُلَيّة، حدثنا داود بن نُصَير، عن عبد الملك بن عُمير، عن حُصين بن أبي الحُرّ، عن سَمُرة قال: دخلَ أعرابيٌّ من بني فَزَارة من بني أُمَّ قِرْفة على رسول الله ﷺ، فإذا حجَّامُ يَحجُمُه بمَحاجمَ له من قُرون فشَرَطه (3) بشَفْرةٍ، فقال: ما هذا يا رسولَ الله، لِمَ تَدَعُ هذا يقطَعُ عليك جِلدَك؟ قال: "هذا الحَجْمُ" قال: وما الحجمُ؟ قال: "خيرُ ما تَداوَى به النَّاسُ" (4).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: بنو فزارہ (بنو ام قرفہ) کا ایک اعرابی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت ایک حجام سینگیوں (جو سینگوں کی بنی ہوئی تھیں) کے ذریعے آپ ﷺ کو سینگی لگا رہا تھا اور نشتر سے چیرا لگا رہا تھا، اس نے پوچھا: یا رسول اللہ! یہ کیا ہے؟ آپ اس کو کیوں اجازت دے رہے ہیں کہ یہ آپ کی کھال کاٹ دے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ حجامہ ہے۔“ اس نے پوچھا: حجامہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ان چیزوں میں سب سے بہتر ہے جن سے لوگ علاج کرتے ہیں۔“
أخبرنا نَصْر بن محمد (1) بن الحطَّاب (2) ببغداد، حدثنا محمد بن غالب ابن حرب، حدثنا زكريا بن عَدِي، حدثنا عُبيد الله بن عمرو الرَّقي، عن زيد بن أبي أُنيسة، عن محمد بن قيس، حدثنا أبو الحَكَم البَجَلي -وهو عبد الرحمن بن أبي نُعْم (3) - قال: دخلتُ على أبي هريرة وهو يَحتجِمُ، فقال لي: يا أبا الحَكَم، احتجِمْ، قال: فقلت: ما احتجَمتُ قطُّ، قال: أخبرني أبو القاسم ﷺ: أنَّ جبريل ﵇ أخبره: "أَنَّ الحَجْمَ أفضلُ ما تَداوَى به الناسُ" (4).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7470 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7470 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
ابوالحکم بجلی (عبدالرحمن بن ابی نعم) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا جبکہ وہ سینگی لگوا رہے تھے، انہوں نے مجھ سے فرمایا: اے ابوالحکم! تم بھی سینگی لگواؤ، میں نے عرض کیا: میں نے کبھی سینگی نہیں لگوائی، انہوں نے فرمایا: مجھے ابوالقاسم ﷺ نے خبر دی کہ جبرائیل علیہ السلام نے انہیں بتایا ہے: ”بے شک حجامہ ان بہترین طریقوں میں سے ہے جن سے لوگ علاج کرتے ہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، أخبرنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل، حدثنا أَسِيد بن زيد الجمَّال، حدثنا زهير بن معاوية، عن عبيد الله، عن نافع عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ: "إنْ كان في شيء مما تَدَاوَوْنَ بِه شِفاءٌ، فَشَرْطَةُ مِحْجَمٍ، أو شَرْبة عسَل، أو كَيَّةٌ تُصِيبُ، وما أُحبُّه إذا اكتَوى" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7471 - أسيد بن زيد الحمال متروك
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7471 - أسيد بن زيد الحمال متروك
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تمہاری دواؤں میں سے کسی چیز میں شفا ہے تو وہ حجام کے نشتر لگانے، یا شہد پینے، یا گرم چیز سے داغنے (جو اثر انداز ہو) میں ہے، اور میں اسے پسند نہیں کرتا جب کوئی داغ لگوائے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔