المستدرك على الصحيحين
كتاب الطب— طب کے متعلق روایات
الْحَجْمُ خَيْرُ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ . باب: حجامہ کروانا ان بہترین چیزوں میں سے ہے جن سے تم علاج کرتے ہو
أخبرنا أبو العباس محمد بن محمود (1) المحبوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى حدثنا شَيْبان بن عبد الرحمن، عن عبد الملك ابن عُمير، عن حُصين بن أبي الحُرّ، عن سَمُرة قال: دخل أعرابيٌّ من بني فَزارة من بني أُمِّ قِرْفة على رسول الله ﷺ، فإذا حجَّامٌ يَحجُمُه بمَحاجِمَ (2) له من قُرون، يَشرِطُ بشَفْرةٍ، فقال: ما هذا يا رسولَ الله؟ لِمَ تَدَعُ هذا يقطعُ عليك جِلدَك؟ قال: "هذا الحَجْمُ، وهو خيرُ ما تداويتُم به" (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد رواه شُعبةُ بن الحجَّاج العَتَكيُّ وزهير بن معاوية الجُعْفيُّ عن عبد الملك ابن عُمير. أما حديثُ شُعبة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7467 - على شرط البخاري ومسلمسیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو فزارہ (بنو ام قرفہ) کا ایک اعرابی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت ایک حجام سینگیوں (جو سینگوں سے بنی ہوئی تھیں) کے ذریعے آپ ﷺ کو سینگی لگا رہا تھا اور نشتر (بلیڈ) سے چیرے لگا رہا تھا، اس نے پوچھا: یا رسول اللہ! یہ کیا ہے؟ آپ اس کو کیوں اجازت دے رہے ہیں کہ یہ آپ کی جلد کاٹ دے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ حجامہ (سینگی لگوانا) ہے، اور یہ ان تمام چیزوں میں سے بہتر ہے جن سے تم علاج کرتے ہو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اسے شعبہ بن حجاج اور زہیر بن معاویہ نے بھی عبدالملک بن عمیر سے روایت کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
اہم نکتہ: قلمی نسخوں میں اسی طرح ہے، لیکن اصل نام "محمد بن احمد بن محبوب" ہے، اس میں محمود کا نام نہیں، شاید یہ محبوب سے تحریف ہو گیا ہے یا ان کی نسبت دادا کی طرف کر دی گئی ہے۔
(2) في (ص) و (م): بحاجم.
اہم نکتہ: نسخہ (ص) اور (م) میں لفظ "بحاجم" واقع ہوا ہے۔
(3) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 33 / (20173) عن حسن بن موسى الأشيب، عن شيبان بن عبد الرحمن، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (20173) میں حسن بن موسیٰ الاشیب کے طریق سے شیبان بن عبد الرحمن کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (20212) من طريق جرير بن حازم، عن عبد الملك بن عمير، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (20212) میں جریر بن حازم کے طریق سے عبد الملک بن عمیر سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسيأتي من طرق عن عبد الملك بن عمير في المواضع التالية.
تفصیلِ روایت: یہ روایت عبد الملک بن عمیر کے مختلف طرق سے درج ذیل مقامات پر آئے گی۔
وأخرجه أحمد (20205) من طريق عوف بن أبي جميلة، عن شيخ من بكر بن وائل، عن سمرة، به مختصرًا.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے "مسند" (20205) میں عوف بن ابی جمیلہ کے طریق سے، انہوں نے قبیلہ بکر بن وائل کے ایک شیخ سے اور انہوں نے حضرت سمرہ بن جندب سے مختصراً روایت کیا ہے۔