المستدرك على الصحيحين
كتاب الطب— طب کے متعلق روایات
الْحَجْمُ خَيْرُ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ . باب: حجامہ کروانا ان بہترین چیزوں میں سے ہے جن سے تم علاج کرتے ہو
حدیث نمبر: 7659
أخبرَناه محمد بن يعقوب الأخرَم، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا إسماعيل ابن عُلَيّة، حدثنا داود بن نُصَير، عن عبد الملك بن عُمير، عن حُصين بن أبي الحُرّ، عن سَمُرة قال: دخلَ أعرابيٌّ من بني فَزَارة من بني أُمَّ قِرْفة على رسول الله ﷺ، فإذا حجَّامُ يَحجُمُه بمَحاجمَ له من قُرون فشَرَطه (3) بشَفْرةٍ، فقال: ما هذا يا رسولَ الله، لِمَ تَدَعُ هذا يقطَعُ عليك جِلدَك؟ قال: "هذا الحَجْمُ" قال: وما الحجمُ؟ قال: "خيرُ ما تَداوَى به النَّاسُ" (4).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: بنو فزارہ (بنو ام قرفہ) کا ایک اعرابی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت ایک حجام سینگیوں (جو سینگوں کی بنی ہوئی تھیں) کے ذریعے آپ ﷺ کو سینگی لگا رہا تھا اور نشتر سے چیرا لگا رہا تھا، اس نے پوچھا: یا رسول اللہ! یہ کیا ہے؟ آپ اس کو کیوں اجازت دے رہے ہیں کہ یہ آپ کی کھال کاٹ دے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ حجامہ ہے۔“ اس نے پوچھا: حجامہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ان چیزوں میں سب سے بہتر ہے جن سے لوگ علاج کرتے ہیں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) في النسخ الخطية أشرطه والمثبت من رواية النسائي، وفي الطبعة الهندية: يشرط.
اہم نکتہ: قلمی نسخوں میں "أشرطه" (میں اسے پچھنے لگاؤں گا) ہے، جبکہ متن میں امام نسائی کی روایت سے لفظ ثابت کیا گیا ہے، اور ہندوستانی ایڈیشن میں "يشرط" واقع ہوا ہے۔
(4) إسناده صحيح. وأخرجه النسائي (7552) عن حماد بن إسماعيل بن إبراهيم، عن أبيه -وهو ابن علية -بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی نے (7552) میں حماد بن اسماعیل بن ابراہیم کے طریق سے، انہوں نے اپنے والد (اسماعیل بن علیہ) سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
اہم نکتہ: قلمی نسخوں میں "أشرطه" (میں اسے پچھنے لگاؤں گا) ہے، جبکہ متن میں امام نسائی کی روایت سے لفظ ثابت کیا گیا ہے، اور ہندوستانی ایڈیشن میں "يشرط" واقع ہوا ہے۔
(4) إسناده صحيح. وأخرجه النسائي (7552) عن حماد بن إسماعيل بن إبراهيم، عن أبيه -وهو ابن علية -بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی نے (7552) میں حماد بن اسماعیل بن ابراہیم کے طریق سے، انہوں نے اپنے والد (اسماعیل بن علیہ) سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7659 سے ماخوذ ہے۔