حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا الحسن بن علي بن عفّان، حَدَّثَنَا يحيى بن آدم، حَدَّثَنَا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن أبي الأحوَص وأبي عُبيدة، عن عبد الله قال: كانتِ الأنبياءُ يَستحبّون (2) أن يَلبَسوا الصوفَ ويَحتلِبوا الغنم، ويَركَبوا الحُمُر (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7387 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7387 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انبیاء علیہم السلام اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ وہ اونی لباس پہنیں، بکریوں کا دودھ نکالیں اور گدھوں کی سواری کریں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا أحمد بن كامل القاضي، حَدَّثَنَا أبو قِلَابة، حَدَّثَنَا يحيى بن حمّاد، حَدَّثَنَا أبو عَوَانة، عن قَتَادة عن أبي بُرْدة، عن أبي موسى (1)، قال: لقد رأيتُنا معَ النَّبِيِّ ﷺ وأصابَتْنا السماء، فكأنَّ برِيحِنا ريحَ الضَّأْن (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7388 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7388 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے خود کو نبی کریم ﷺ کے ساتھ دیکھا جب ہم پر بارش ہوئی (اور ہمارے اونی کپڑے بھیگ گئے) تو ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے ہماری بو بھیڑوں کی بو کی طرح ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
قال الحاكم ﵀: وفيما كَتَب إليَّ محمدُ بن عمرو الرَّزَّاز بخطِّ يده يذكر أنَّ سَعْدان (3) بن نصر المُخرِّمي حدَّثهم، حَدَّثَنَا أبو معاوية، حَدَّثَنَا أبو سَلَمة محمد بن مَيْسرة، عن قَتْادة، عن أبي بُردة، عن أبي موسى قال: لقد (1) رأيتُنا معَ النَّبِيِّ ﷺ حَسِبتَ أنَّ ريحَنا ريحُ الضَّأْن، إنما (2) لباسُنا الصُّوف، وطعامُنا الأسودانِ: الماءُ والتمرُ (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7389 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7389 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے خود کو نبی کریم ﷺ کے ساتھ دیکھا، آپ گمان کرتے کہ ہماری خوشبو بھیڑوں کی بو جیسی ہے، ہمارا لباس صرف اون تھا اور ہمارا کھانا دو کالی چیزیں یعنی پانی اور کھجور تھیں۔
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا مُسدَّد، حَدَّثَنَا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة، أخبرني أبي، عن مصعب بن شَيْبة، عن صفيّة بنت شَيْبة، عن عائشة قالت: خرجَ رسولُ الله ﷺ ذَاتَ غَدَاة وعليه مِرْطٌ مُرحَّل من شَعرٍ أسودَ (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. قال الحاكم ﵀: الدليل على أنَّ المِرطَ لم يكن لرسولِ الله ﷺ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7390 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. قال الحاكم ﵀: الدليل على أنَّ المِرطَ لم يكن لرسولِ الله ﷺ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7390 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک صبح باہر تشریف لائے جبکہ آپ ﷺ پر سیاہ بالوں سے بنا ہوا ایک منقش کمبل تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ امام حاکم فرماتے ہیں کہ اس بات کی دلیل کہ یہ کمبل (مِرط) رسول اللہ ﷺ کا اپنا نہ تھا (بلکہ سیدہ عائشہ کا تھا):
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ امام حاکم فرماتے ہیں کہ اس بات کی دلیل کہ یہ کمبل (مِرط) رسول اللہ ﷺ کا اپنا نہ تھا (بلکہ سیدہ عائشہ کا تھا):
ما حدَّثَناه أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حَدَّثَنَا أحمد بن سَلَمة ومحمد بن عبدٍ السُّلَمي، قالا: حَدَّثَنَا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا معاذ بن هشام، حدثني أبي، عن قَتَادة، عن كثير بن أبي كثير، عن أبي عِيَاض، عن عائشة قالت: كان نبيُّ الله ﷺ يُصلِّي وإنَّ بعضَ مِرْطي عليه (1). و
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7391 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7391 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نماز ادا فرماتے تھے جبکہ میرے کمبل کا کچھ حصہ آپ ﷺ پر ہوتا تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا علي بن عبد الله الحَكِيمي ببغداد، حَدَّثَنَا العباس بن محمد بن حاتم (2) الدُّوري، حَدَّثَنَا الحسن بن بِشر، حَدَّثَنَا إسحاق بن سعيد بن عمرو بن سعيد القُرشي، عن أبيه، عن أُمِّ خالد بنتِ خالد قالت: أُتي رسولُ الله ﷺ بثياب فيها خَمِيصة، فقال لأصحابه: "مَن ترونَ أحقُّ بهذه الخَمِيصة؟ " فسكتوا، فدعا أُمَّ خالد، فأَلبَسَها إياها، ثم قال: "أَبْلِي يا بُنَيَّةُ وأَخْلِقي، وأَبْلِي وأَخْلِقي، أَبْلِي وأَخْلِقي"، قال: وكان فيها عَلَمٌ أحمر، فأقبلَ يقول: "يا أمَّ خالد، سَنَا" (3). والسَّنَا بالحبشية: الحَسَن.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7392 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7392 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ ام خالد بنت خالد رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ کپڑے لائے گئے جن میں ایک کالی چادر (خمیصہ) بھی تھی، آپ ﷺ نے اپنے صحابہ سے دریافت فرمایا: ”تمہارے خیال میں اس چادر کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟“ سب خاموش رہے، پھر آپ ﷺ نے ام خالد کو بلایا اور انہیں وہ چادر خود پہنا دی، پھر فرمایا: ”اے میری بیٹی! اسے پہن کر پرانا کرو اور پھاڑو (یعنی تمہاری عمر لمبی ہو)“ آپ ﷺ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی، اس چادر پر سرخ رنگ کے نقش و نگار تھے، آپ ﷺ فرمانے لگے: ”اے ام خالد! سنا“ اور حبشی زبان میں «سنا» کا مطلب خوبصورت ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو بكر بن قُريش، حَدَّثَنَا الحسن بن سفيان، حَدَّثَنَا أبو الربيع الزَّهْراني، حَدَّثَنَا عبد الصمد بن عبد الوارث، حَدَّثَنَا همَّام، عن قَتَادة، عن مُطرِّف، عن عائشة: أنها صَنعَتْ (1) لرسول الله ﷺ جُبَّةً من صوفٍ سوداءَ، فلَبِسَها، فلما عَرِقَ وَجَدَ ريحَ الصُّوف فخَلَعها، وكان يُعجِبُه الرِّيحُ الطَّيِّب (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7393 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7393 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے لیے اون کا ایک سیاہ جبہ تیار کیا، آپ ﷺ نے اسے زیب تن فرمایا، لیکن جب آپ ﷺ کو پسینہ آیا اور اون کی بو محسوس ہوئی تو آپ ﷺ نے اسے اتار دیا، کیونکہ آپ ﷺ کو پاکیزہ اور خوشگوار خوشبو پسند تھی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔