کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: جمعہ کے دن غسل کرنے اور خوشبو لگانے کا تذکرہ
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا الرَّبيع بن سليمان، حَدَّثَنَا عبد الله بن وهب، أخبرنا سليمان بن بلال، عن عمرو بن أبي عمرو مولى المطَّلِب، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ رجلينِ من أهل العراق أتياه، فسألاه عن الغُسل في يوم الجمعة: أَواجبٌ هو؛ فقال لهما ابن عباس: مَن اغتسلَ فهو أحسنُ وأطهرُ، وسأخبرُكم لماذا بدأ الغُسلُ، كان الناسُ في عهد رسول الله ﷺ مُحتاجِينَ يَلْبَسُون الصُّوفَ ويَسقُونَ النَّخلَ على ظُهورهم، وكان المسجدُ ضيِّقًا مُقارِبَ (3) السَّقف، فخرج رسولُ الله ﷺ يومَ الجمعة في يومٍ صائفٍ شديدِ الحرِّ، ومنبرُه قصير، إنما هو [ثلاث] (4) دَرَجات، فخطب الناسَ فَعَرِقَ الناسُ في الصُّوف، فثارَتْ أبدانُهم (5) ريحَ العَرَق والصوفِ حتَّى كان (6) يُؤذِي بعضُهم بعضًا، حتَّى بلغت أرواحُهم رسولَ الله ﷺ وهو على المنبر، فقال: "أيُّها الناسُ، إذا كان هذا اليوم فاغتَسِلُوا، وليَمَسَّ أحدُكم أطيَبَ ما يَجِدُ من طِيبِه أو دُهْنِه" (1).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7394 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اہل عراق کے دو شخص ان کے پاس آئے اور جمعہ کے دن غسل کے متعلق دریافت کیا کہ کیا وہ واجب ہے؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے فرمایا: جس نے غسل کیا وہ بہتر اور زیادہ پاکیزگی والا ہے، اور میں تمہیں بتاتا ہوں کہ غسل (کی تاکید) کیوں شروع ہوئی، رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں لوگ ضرورت مند تھے، وہ اونی لباس پہنتے اور اپنی پیٹھوں پر پانی ڈھو کر کھجوروں کو سیراب کرتے تھے، مسجد تنگ تھی اور اس کی چھت نیچی تھی، ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ سخت گرمی کے دن جمعہ کے لیے تشریف لائے، آپ ﷺ کا منبر چھوٹا تھا جس کی صرف تین سیڑھیاں تھیں، آپ ﷺ نے لوگوں کو خطبہ دیا تو لوگوں کو اونی لباس میں پسینہ آ گیا، پس ان کے جسموں سے پسینے اور اون کی بو اٹھنے لگی یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے کو تکلیف دینے لگی اور وہ بو منبر پر موجود رسول اللہ ﷺ تک پہنچ گئی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! جب یہ دن آئے تو غسل کیا کرو، اور تم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ وہ اپنی میسر خوشبو یا تیل میں سے بہترین استعمال کرے۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب اللباس / حدیث: 7581
درجۂ حدیث محدثین: إسناده جيد
تخریج حدیث «إسناده جيد» [ترقيم الرساله 7581] [ترقيم الشركة 7490] [ترقيم العلميه 7394]
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشاذَ العدل، حَدَّثَنَا موسى بن هارون، حَدَّثَنَا مُصعَب بن عبد الله بن مُصعَب، حدثني أبي، عن إسماعيل بن عبد الله بن جعفر، عن أبيه قال: رأيتُ رسولَ الله ﷺ وعليه ثَوبانِ مَصبُوغانِ بالزَّعفران: رِداءٌ وعِمامةٌ (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7395 - ليس على شرط أي أحد منهما
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ پر زعفران سے رنگے ہوئے دو کپڑے تھے: ایک چادر اور ایک عمامہ۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب اللباس / حدیث: 7582
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن» [ترقيم الرساله 7582] [ترقيم الشركة 7491] [ترقيم العلميه 7395]
أخبرنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف العدل، حَدَّثَنَا يحيى بن أبي طالب، أخبرنا زيد بن الحُبَاب، أخبرنا الحسين بن واقد، حدثني عبد الله بن بُرَيدة، عن أبيه، قال: كان رسولُ الله ﷺ يَخطُبُ، فأقبل الحسنُ والحسينُ عليهما قميصان أحمران، فجعلا يَعثُرانِ ويقومانِ، فنزل فأخذَهما فوَضَعَهما بين يديه، قال: "صدق اللهُ ورسولُه: ﴿إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ﴾ [التغابن: 15]، رأيتُ هذَينِ فلم أصبِرْ"، ثم أَخذ في خُطبتِه (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7396 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ اسی اثنا میں حسن اور حسین رضی اللہ عنہما تشریف لائے، وہ دونوں سرخ قمیص پہنے ہوئے تھے اور (چلتے ہوئے) لڑکھڑا کر گرتے اور سنبھلتے تھے، آپ ﷺ منبر سے نیچے تشریف لائے، انہیں اٹھایا اور اپنے سامنے بٹھا لیا، پھر فرمایا: ”اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے: ﴿إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ﴾ ”بے شک تمہارے مال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں۔“ [سورة التغابن: 15] میں نے ان دونوں کو دیکھا تو مجھ سے صبر نہ ہو سکا“، پھر آپ ﷺ نے اپنا خطبہ شروع فرمایا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب اللباس / حدیث: 7583
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قوي
تخریج حدیث «إسناده قوي، رجاله لا بأس بهم» [ترقيم الرساله 7583] [ترقيم الشركة 7492] [ترقيم العلميه 7396]