حدیث نمبر: 7579
أخبرنا علي بن عبد الله الحَكِيمي ببغداد، حَدَّثَنَا العباس بن محمد بن حاتم (2) الدُّوري، حَدَّثَنَا الحسن بن بِشر، حَدَّثَنَا إسحاق بن سعيد بن عمرو بن سعيد القُرشي، عن أبيه، عن أُمِّ خالد بنتِ خالد قالت: أُتي رسولُ الله ﷺ بثياب فيها خَمِيصة، فقال لأصحابه: "مَن ترونَ أحقُّ بهذه الخَمِيصة؟ " فسكتوا، فدعا أُمَّ خالد، فأَلبَسَها إياها، ثم قال: "أَبْلِي يا بُنَيَّةُ وأَخْلِقي، وأَبْلِي وأَخْلِقي، أَبْلِي وأَخْلِقي"، قال: وكان فيها عَلَمٌ أحمر، فأقبلَ يقول: "يا أمَّ خالد، سَنَا" (3). والسَّنَا بالحبشية: الحَسَن.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7392 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدہ ام خالد بنت خالد رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ کپڑے لائے گئے جن میں ایک کالی چادر (خمیصہ) بھی تھی، آپ ﷺ نے اپنے صحابہ سے دریافت فرمایا: ”تمہارے خیال میں اس چادر کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟“ سب خاموش رہے، پھر آپ ﷺ نے ام خالد کو بلایا اور انہیں وہ چادر خود پہنا دی، پھر فرمایا: ”اے میری بیٹی! اسے پہن کر پرانا کرو اور پھاڑو (یعنی تمہاری عمر لمبی ہو)“ آپ ﷺ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی، اس چادر پر سرخ رنگ کے نقش و نگار تھے، آپ ﷺ فرمانے لگے: ”اے ام خالد! سنا“ اور حبشی زبان میں «سنا» کا مطلب خوبصورت ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب اللباس / حدیث: 7579
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل الحسن بن بشر» [ترقيم الرساله 7579] [ترقيم الشركة 7488] [ترقيم العلميه 7392]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: حبان.
نوٹ / توضیح: (2) قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "حبان" بن گیا ہے۔
(3) حديث صحيح وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل الحسن بن بشر - وهو البجلي - وقد توبع.
درجۂ حدیث: (3) یہ حدیث صحیح ہے اور یہ سند حسن بن بشر (بجلی) کی وجہ سے متابعات اور شواہد میں حسن ہے، اور ان کی متابعت کی گئی ہے۔
وسلف الحديث برقمي (2398) و (4294).
نوٹ / توضیح: یہ حدیث نمبر (2398) اور (4294) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7579 سے ماخوذ ہے۔