المستدرك على الصحيحين
كتاب اللباس— لباس کے متعلق روایات
كَانَتِ الْأَنْبِيَاءُ يَسْتَحِبُّونَ أَنْ يَلْبَسُوا الصُّوفَ باب: انبیاء علیہم السلام اونی لباس پہننا پسند فرماتے تھے
أخبرنا علي بن عبد الله الحَكِيمي ببغداد، حَدَّثَنَا العباس بن محمد بن حاتم (2) الدُّوري، حَدَّثَنَا الحسن بن بِشر، حَدَّثَنَا إسحاق بن سعيد بن عمرو بن سعيد القُرشي، عن أبيه، عن أُمِّ خالد بنتِ خالد قالت: أُتي رسولُ الله ﷺ بثياب فيها خَمِيصة، فقال لأصحابه: "مَن ترونَ أحقُّ بهذه الخَمِيصة؟ " فسكتوا، فدعا أُمَّ خالد، فأَلبَسَها إياها، ثم قال: "أَبْلِي يا بُنَيَّةُ وأَخْلِقي، وأَبْلِي وأَخْلِقي، أَبْلِي وأَخْلِقي"، قال: وكان فيها عَلَمٌ أحمر، فأقبلَ يقول: "يا أمَّ خالد، سَنَا" (3). والسَّنَا بالحبشية: الحَسَن.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7392 - على شرط البخاري ومسلمسیدہ ام خالد بنت خالد رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ کپڑے لائے گئے جن میں ایک کالی چادر (خمیصہ) بھی تھی، آپ ﷺ نے اپنے صحابہ سے دریافت فرمایا: ”تمہارے خیال میں اس چادر کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟“ سب خاموش رہے، پھر آپ ﷺ نے ام خالد کو بلایا اور انہیں وہ چادر خود پہنا دی، پھر فرمایا: ”اے میری بیٹی! اسے پہن کر پرانا کرو اور پھاڑو (یعنی تمہاری عمر لمبی ہو)“ آپ ﷺ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی، اس چادر پر سرخ رنگ کے نقش و نگار تھے، آپ ﷺ فرمانے لگے: ”اے ام خالد! سنا“ اور حبشی زبان میں «سنا» کا مطلب خوبصورت ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: (2) قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "حبان" بن گیا ہے۔
(3) حديث صحيح وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل الحسن بن بشر - وهو البجلي - وقد توبع.
درجۂ حدیث: (3) یہ حدیث صحیح ہے اور یہ سند حسن بن بشر (بجلی) کی وجہ سے متابعات اور شواہد میں حسن ہے، اور ان کی متابعت کی گئی ہے۔
وسلف الحديث برقمي (2398) و (4294).
نوٹ / توضیح: یہ حدیث نمبر (2398) اور (4294) پر گزر چکی ہے۔