حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو زُرعة الدمشقي، حدثنا أحمد بن خالد الوَهْبي، حدثنا محمد بن إسحاق، عن الزُّهرْي، عن عبيد الله بن عبد الله بن أَبي ثور، عن ابن عباس، عن عمر بن الخطاب قال: استأذنتُ على رسول الله ﷺ، فدخلتُ عليه في مَشْرُبة وإنه لمضطجع على خَصَفَة، وإنَّ بعضَه لَعَلى التراب، وتحت رأسه وسادةٌ محشوَّةٌ ليفًا، وإنَّ فوق رأسه لإهابَ عَطِين، وفي ناحية المَشْرُبة قَرَظٌ، فسلَّمتُ عليه ثم جلستُ، فقلت: يا رسولَ الله، أنت نبيُّ الله وصفوتُه، وخِيرتُه من خلقه، وكسرى وقيصر على سُرُرِ الذَّهب وفُرُشِ الحرير والدِّيباج؟! فقال: "يا عمرُ، إنَّ أولئك قد عُجِّلَت لهم طيّباتُهم، وهي وَشِيكةُ الانقطاعِ، وإِنَّا قومٌ قد أُخِّرَت لنا طيّباتُنا في آخرتنا" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7072 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7072 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے (ان کے حجرے میں) داخل ہونے کی اجازت طلب کی، میں آپ ﷺ کے پاس ایک بالا خانے میں داخل ہوا جہاں آپ ﷺ کھجور کے پتوں سے بنی چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے اور آپ کے جسم مبارک کا کچھ حصہ مٹی پر تھا، آپ کے سر کے نیچے چمڑے کا ایک تکیہ تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، آپ کے سر کے قریب رنگا ہوا چمڑا لٹک رہا تھا اور کمرے کے ایک گوشے میں ببول کے پتے (چمڑا رنگنے کے لیے) پڑے تھے، میں نے آپ ﷺ کو سلام کیا اور پھر بیٹھ گیا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ کے نبی، اس کے برگزیدہ اور اس کی مخلوق میں سب سے بہترین ہستی ہیں جبکہ کسریٰ اور قیصر سونے کے تختوں اور ریشم و دیباج کے بستروں پر (عیش کر رہے) ہیں؟! تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمر! کیا تم اس پر خوش نہیں کہ ان لوگوں کو ان کی پاکیزہ چیزیں دنیا ہی میں دے دی گئی ہیں اور وہ جلد ہی ختم ہو جانے والی ہیں، جبکہ ہم وہ قوم ہیں جن کے لیے ہماری پاکیزہ نعمتیں ہماری آخرت کے لیے اٹھا رکھی گئی ہیں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله (1) بن موسى أخبرنا إسرائيل، عن هِلال الوزّان، عن أبي بِشر، عن أبي وائل، عن أبي سعيد الخُدْري قال: قال رسول الله ﷺ: "من أكلَ طيّبًا، وعمل في سُنَّة، وأَمِنَ الناسُ بَوائِقَه، دخل الجنَّةَ" قالوا يا رسولَ الله، إنَّ هذا في أُمتك اليومَ كثير، قال: "وسيكونُ في قرونٍ بعدي" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7073 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7073 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص پاکیزہ اور حلال کھانا کھائے، سنت پر عمل کرے اور لوگ اس کے شر و نقصانات سے محفوظ رہیں تو وہ جنت میں داخل ہو گیا۔“ صحابہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آج آپ کی امت میں ایسے لوگ کثرت سے موجود ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور میرے بعد آنے والے زمانوں میں بھی ایسے لوگ ہوں گے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّري بن خُزَيمة، حدثنا عمر بن حفص بن غِياث، حدثنا أبي، حدثنا الأعمش، حدثني ثابت بن عُبيد، حدثني القاسم بن محمد، قال: قالت عائشةُ: كان رسولُ الله ﷺ يدخلُ على بعضِ أزواجِه وعندها عُكَّةٌ من عسل، فيَلعَق منها لعقًا، فيجلس عندها، فأرابَهم ذلك، فقالت عائشةُ لحفصةَ ولبعض أزواج النبيِّ ﷺ، فقُلْنَ له: إنما نجدُ منك رِيحَ المَغافير، فقال: "إنها عَسَلٌ ألعَقُها عند فلانةَ، ولستُ بعائدٍ فيه" (3)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7074 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7074 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی بعض ازواج کے پاس تشریف لے جاتے اور ان کے پاس شہد کا ایک برتن ہوتا تھا جس سے آپ ﷺ شہد نوش فرماتے اور ان کے پاس بیٹھے رہتے، اس بات نے دوسری ازواج کو فکر مند کر دیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا اور نبی کریم ﷺ کی بعض دیگر ازواج سے (مشورہ) کیا، پھر ان سب نے آپ ﷺ سے عرض کی: ہمیں آپ ﷺ سے مغافیر کی بو آتی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”(ایسا نہیں ہے) بلکہ وہ شہد تھا جو میں نے فلاں (زوجہ) کے پاس پیا تھا اور اب میں دوبارہ ایسا نہیں کروں گا۔“
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن المُحرِم ببغداد، حدثنا أحمد بن إسحاق بن صالح الوزَّان، حدثنا أبو النعمان محمد بن الفضل، حدثنا حماد بن سَلَمة، أخبرنا ثابت وحُميد (1)، عن أنس بن مالك قال: كان لأمِّ سُلَيم قَدَحٌ، فلم أدعْ شيئًا من الشراب إلَّا قد سقيتُ رسولَ الله ﷺ فيه: العسلَ واللبنَ والنَّبيذَ والماءَ (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7075 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7075 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس ایک پیالہ تھا، میں نے پینے والی ایسی کوئی چیز نہیں چھوڑی جو میں نے اس پیالے میں رسول اللہ ﷺ کو نہ پلائی ہو بشمول شہد، دودھ، نبیذ اور پانی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا رَوْح بن عُبَادة، حدثنا بِسطامُ بن مسلم، قال: سمعتُ معاوية بن قرّة يقول: قال أبي: لقد غَبَرْنا (3) مع رسول الله ﷺ وما لنا طعامٌ إلَّا الأسودانِ، قال: وهل تدري ما الأسودانِ؟ قال: لا، قال: التمرُ والماءُ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7076 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7076 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
معاویہ بن قرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک عرصہ گزارا اور ہمارے پاس کھانے کے لیے سوائے ”اسودین“ (دو کالی چیزوں) کے کچھ نہ تھا، انہوں نے پوچھا: کیا آپ جانتے ہیں کہ ”اسودین“ سے کیا مراد ہے؟ جواب دیا: کھجور اور پانی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بكّار بن قُتيبة القاضي، حدثنا صفوان بن عيسى، حدثنا محمد بن عَجْلان، عن القعقاع بن حَكيم، عن القاسم بن محمد، عن عائشة قالت: إن كان ليأتي على آل محمد ﷺ الشهرُ ونصفُ الشهر، وما يُوقَد في بيوتهم نارٌ لمصباحٍ ولا لغيرِه، قلت لها: ما كان يُعيشُكم؟ قالت: التمرُ والماءُ (2).
هذا حديث على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7077 - على شرط مسلم
هذا حديث على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7077 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آلِ محمد ﷺ پر ایک ماہ اور آدھا ماہ (ڈیڑھ مہینہ) اس حال میں گزر جاتا تھا کہ ان کے گھروں میں نہ چراغ کے لیے آگ جلتی تھی اور نہ کسی اور مقصد (کھانا پکانے) کے لیے، (راوی کہتے ہیں) میں نے ان سے پوچھا: آپ لوگوں کا گزارہ کس چیز پر ہوتا تھا؟ انہوں نے فرمایا: ”کھجور اور پانی پر۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أحمد بن أحْيَد الفقيه ببخارى، حدثنا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حدثنا أحمد بن مَنيع، حدثنا إسحاق بن يوسف الأزرق، حدثنا مِسْعَر، عن هِلال الوزّان، عن عُرْوة، عن عائشة قالت: ما أكلَ محمدٌ ﷺ في يوم أكلتينِ إلَّا إحداهما تمرٌ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7078 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7078 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک دن میں کبھی دو مرتبہ پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا مگر یہ کہ ان دو کھانوں میں سے ایک کھجور ہوتی تھی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا عبد الأعلى، أخبرنا سعيد الجُرَيري، عن عبد الله بن شَقيق، قال: جاورتُ أبا هريرة سنتين فقال: يا ابنَ شَقيق، أترى هذه الحُجَر - لحُجَرِ النبي ﷺ فوالله لقد رأيتُنا عندها وما لأحدٍ منا طعامٌ يملأ بطنَه، حتى إنَّ أحدَنا ليأخذُ الحَجَرَ فيشدُّه على أخْمَصِه بالحبل أو بالعُقْلة من العُقَل، فوالذي نفسي بيده، لقد رأيتُني وقَسَمَ النبيُّ ﷺ بيننا تمرًا، فأصاب كلَّ واحد منا سبعُ تَمَرات، وكان في سَبْعِي حَشَفَةٌ، فما يَسُرُّني تمرةٌ جيدة بها، قال: قلتُ: لِمَ يا أبا هريرة؟ قال: لأنها شَدَّتَ لي من مَضَاغي فجعلتُ أعلُكُها (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7079 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7079 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن شقیق سے روایت ہے کہ میں دو سال تک سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا پڑوسی رہا، انہوں نے فرمایا: اے ابن شقیق! کیا تم نبی کریم ﷺ کے ان حجروں کو دیکھ رہے ہو؟ اللہ کی قسم! میں نے وہ وقت دیکھا ہے جب ہم ان حجروں کے پاس ہوتے تھے اور ہم میں سے کسی کے پاس اتنا کھانا نہ ہوتا تھا جو اس کے پیٹ کو بھر سکے، یہاں تک کہ بھوک کی شدت سے ہم میں سے کوئی پتھر لے کر اسے رسی یا کسی بندھن سے اپنے پیٹ کے گڑھے (خالی پیٹ) پر باندھ لیتا تھا، پس اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! میں نے وہ وقت بھی دیکھا ہے جب نبی کریم ﷺ نے ہمارے درمیان کھجوریں تقسیم کیں تو ہم میں سے ہر ایک کے حصے میں سات سات کھجوریں آئیں، میرے حصے میں آنے والی سات کھجوروں میں ایک ”حشفہ“ (انتہائی خشک اور گھٹیا معیار کی کھجور) تھی، مگر مجھے اس کے بدلے ایک بہترین کھجور ملنا بھی پسند نہ تھا، (راوی کہتے ہیں) میں نے پوچھا: اے ابوہریرہ! ایسا کیوں؟ انہوں نے فرمایا: ”اس لیے کہ وہ میرے جبڑوں کے لیے زیادہ سخت تھی (یعنی دیر تک منہ میں رہتی تھی) تو میں اسے مسلسل چباتا رہتا تھا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا علي بن عيسى، حدثنا الحسين بن محمد القبَّاني، حدثنا أبو كُريب، حدثنا ابن أبي عَدي، حدثنا محمد بن أبي حُميد، عن محمد بن المُنكدِر، عن عُرْوة، عن عائشة قالت: كانت تأتي علينا أربعونَ ليلةً، وما يُوقَد في بيت رسولِ الله ﷺ مِصباحٌ ولا غيره. قال: قلنا: أيْ أُمَّاه، فبِمَ كنتم تَعيشون؟ قالت: بالأسودَين التمرِ والماءِ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7080 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7080 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم پر مسلسل چالیس راتیں گزر جاتی تھیں اور رسول اللہ ﷺ کے گھر میں نہ چراغ جلتا تھا اور نہ ہی کوئی اور آگ، (راوی کہتے ہیں) ہم نے عرض کی: اے ام المومنین! پھر آپ لوگوں کی زندگی کیسے گزرتی تھی؟ انہوں نے فرمایا: ”دو کالی چیزوں یعنی کھجور اور پانی پر۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔