المستدرك على الصحيحين
كتاب الأطعمة— کھانے کا بیان
ذِكْرُ مَعِيشَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ باب: نبی کریم ﷺ کے طرزِ زندگی اور معیشت کا تذکرہ
حدیث نمبر: 7255
أخبرنا أحمد بن أحْيَد الفقيه ببخارى، حدثنا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حدثنا أحمد بن مَنيع، حدثنا إسحاق بن يوسف الأزرق، حدثنا مِسْعَر، عن هِلال الوزّان، عن عُرْوة، عن عائشة قالت: ما أكلَ محمدٌ ﷺ في يوم أكلتينِ إلَّا إحداهما تمرٌ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7078 - صحيححافظ طلحہ بابر
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک دن میں کبھی دو مرتبہ پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا مگر یہ کہ ان دو کھانوں میں سے ایک کھجور ہوتی تھی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. مسعر: هو ابن كدام، وهلال الوزان: هو ابن أبي حميد.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
نوٹ / توضیح: مسعر سے مراد ابن کدام اور ہلال الوزان سے مراد ابن ابی حمید ہیں۔
وأخرجه البخاري (6455) عن إسحاق بن إبراهيم، عن إسحاق الأزرق، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے (6455) میں اسحاق بن ابراہیم سے اور انہوں نے اسحاق الازرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه مسلم (2970) (25) من طريق وكيع، عن مسعر، به بلفظ: ما شبع آل محمد ﷺ يومين من خبز برٍّ إلَّا وأحدهما تمر.
حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم نے (2970) میں وکیع کے طریق سے مسعر سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: "آلِ محمد ﷺ کبھی دو دن لگاتار گندم کی روٹی سے سیر نہیں ہوئے، مگر یہ کہ ان میں سے ایک دن کھجور ہوتی تھی"۔
واستدراك الحاكم له ذهول.
فنی نکتہ / علّت: اس روایت پر امام حاکم کا استدراک کرنا ان کی بھول ہے (کیونکہ یہ پہلے ہی بخاری و مسلم میں موجود ہے)۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
نوٹ / توضیح: مسعر سے مراد ابن کدام اور ہلال الوزان سے مراد ابن ابی حمید ہیں۔
وأخرجه البخاري (6455) عن إسحاق بن إبراهيم، عن إسحاق الأزرق، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے (6455) میں اسحاق بن ابراہیم سے اور انہوں نے اسحاق الازرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه مسلم (2970) (25) من طريق وكيع، عن مسعر، به بلفظ: ما شبع آل محمد ﷺ يومين من خبز برٍّ إلَّا وأحدهما تمر.
حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم نے (2970) میں وکیع کے طریق سے مسعر سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: "آلِ محمد ﷺ کبھی دو دن لگاتار گندم کی روٹی سے سیر نہیں ہوئے، مگر یہ کہ ان میں سے ایک دن کھجور ہوتی تھی"۔
واستدراك الحاكم له ذهول.
فنی نکتہ / علّت: اس روایت پر امام حاکم کا استدراک کرنا ان کی بھول ہے (کیونکہ یہ پہلے ہی بخاری و مسلم میں موجود ہے)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7255 سے ماخوذ ہے۔