حدیث نمبر: 7251
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّري بن خُزَيمة، حدثنا عمر بن حفص بن غِياث، حدثنا أبي، حدثنا الأعمش، حدثني ثابت بن عُبيد، حدثني القاسم بن محمد، قال: قالت عائشةُ: كان رسولُ الله ﷺ يدخلُ على بعضِ أزواجِه وعندها عُكَّةٌ من عسل، فيَلعَق منها لعقًا، فيجلس عندها، فأرابَهم ذلك، فقالت عائشةُ لحفصةَ ولبعض أزواج النبيِّ ﷺ، فقُلْنَ له: إنما نجدُ منك رِيحَ المَغافير، فقال: "إنها عَسَلٌ ألعَقُها عند فلانةَ، ولستُ بعائدٍ فيه" (3)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7074 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی بعض ازواج کے پاس تشریف لے جاتے اور ان کے پاس شہد کا ایک برتن ہوتا تھا جس سے آپ ﷺ شہد نوش فرماتے اور ان کے پاس بیٹھے رہتے، اس بات نے دوسری ازواج کو فکر مند کر دیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا اور نبی کریم ﷺ کی بعض دیگر ازواج سے (مشورہ) کیا، پھر ان سب نے آپ ﷺ سے عرض کی: ہمیں آپ ﷺ سے مغافیر کی بو آتی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”(ایسا نہیں ہے) بلکہ وہ شہد تھا جو میں نے فلاں (زوجہ) کے پاس پیا تھا اور اب میں دوبارہ ایسا نہیں کروں گا۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأطعمة / حدیث: 7251
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،وأخرجه بنحوه أحمد 43 / (25852)، والبخاري (4912) و (5267) و (6691)، ومسلم (1474) (20)، وأبو داود (3714)، والنسائي (4718) و (5584) و (8856) و (11544)، وابن حبان (4183) من طريق عطاء بن أبي رباح، عن عبيد بن عمير، عن عائشة.» [ترقيم الرساله 7251] [ترقيم الشركة 7169] [ترقيم العلميه 7074]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده صحيح. وأخرجه بنحوه أحمد 43 / (25852)، والبخاري (4912) و (5267) و (6691)، ومسلم (1474) (20)، وأبو داود (3714)، والنسائي (4718) و (5584) و (8856) و (11544)، وابن حبان (4183) من طريق عطاء بن أبي رباح، عن عبيد بن عمير، عن عائشة.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے اسی طرح امام احمد (43 / 25852)، بخاری (4912، 5267، 6691)، مسلم (1474)، ابو داؤد (3714)، نسائی (4718، 5584، 8856، 11544) اور ابن حبان (4183) نے عطاء بن ابی رباح کے طریق سے، عبید بن عمیر سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه مطولًا ومختصرًا أحمد 40/ (24316)، والبخاري (5268) و (6972)، ومسلم (1474) (21)، وأبو داود (3715) من طريق هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة.
تفصیلِ روایت: اسے تفصیل کے ساتھ اور مختصر طور پر امام احمد (40 / 24316)، بخاری (5268، 6972)، مسلم (1474) اور ابو داؤد (3715) نے ہشام بن عروہ کے طریق سے، اپنے والد (عروہ بن زبیر) سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔
قوله: "عُكّة" بضم العين: وعاء من جلد.
اہم نکتہ: لفظ "عُکَّہ" (عین کے پیش کے ساتھ) چمڑے کے اس برتن کو کہتے ہیں جس میں گھی وغیرہ رکھا جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7251 سے ماخوذ ہے۔