کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: دونوں فریقین حاکم کے سامنے بیٹھیں گے
أخبرني الحسن بن حَليم (3) المروزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرني مصعب بن ثابت بن عبد الله بن الزُّبير، عن أبيه: أنَّ أباه عبد الله بن الزُّبير كانت بينه وبين أخيه عمرو بن الزُّبير خُصومةٌ، فدخل عبدُ الله بن الزُّبير على سعيد بن العاص وعمرُو بن الزُّبير معه على السرير، فقال سعيدٌ لعبد الله: هاهنا قال: لا، قضاءُ رسولِ الله وسنةُ رسول الله ﷺ: أَنَّ الخصمين يَقعدانِ بين يَدَي الحاكم (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7029 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے اور ان کے بھائی عمرو بن زبیر کے درمیان جھگڑا تھا، تو عبداللہ بن زبیر، سعید بن عاص کے پاس گئے جبکہ عمرو بن زبیر ان کے ساتھ تخت پر بیٹھے ہوئے تھے، سعید نے عبداللہ سے کہا: یہاں (تخت پر) آجائیں، انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ رسول اللہ ﷺ کا فیصلہ اور آپ ﷺ کی سنت یہ ہے کہ دونوں فریق حاکم کے سامنے (برابر) بیٹھیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأحكام / حدیث: 7205
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لضعف مصعب بن ثابت
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف مصعب بن ثابت، أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفزاري، وعبدان هو عبد الله بن عثمان بن جبلة.» [ترقيم الرساله 7205] [ترقيم الشركة 7124] [ترقيم العلميه 7029]
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثنا محمد بن عبد الله بن نُمير، حدثنا أبو معاوية، عن الأعمش، عن القاسم، عن أبيه، عن عبد الله قال: من عَرَضَ له قضاءٌ فليقضِ بما في كتاب الله، فإن جاءه أمرٌ ليس في كتاب الله فليقضِ بما قضى به نبيُّه، فإن جاءه أمرٌ ليس في كتاب الله ﷿ ولم يقضِ به نبيُّه ﷺ، فليقضِ بما قاله الصالحون، فإن جاءه أمرٌ ليس في كتاب الله ولم يقض به نبيُّه ﷺ ولم يقضِ به الصالحون فليَجتهِدْ رأيَه، فإن لم يُحسِنُ، فليُقِرَّ ولا، يستحيي (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. والقاسم: هو ابن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7030 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس کے سامنے کوئی فیصلہ آئے تو وہ اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کرے، اگر ایسا معاملہ آئے جو اللہ کی کتاب میں نہ ہو تو وہ اس کے مطابق فیصلہ کرے جس کا فیصلہ اس کے نبی ﷺ نے کیا ہو، اگر ایسا معاملہ آئے جو نہ اللہ کی کتاب میں ہو اور نہ اس کے نبی ﷺ نے اس کا فیصلہ کیا ہو، تو وہ اس کے مطابق فیصلہ کرے جو صالحین نے کہا ہو، اور اگر ایسا معاملہ آئے جو نہ اللہ کی کتاب میں ہو، نہ نبی ﷺ نے اس کا فیصلہ کیا ہو اور نہ صالحین نے، تو وہ اپنی رائے سے اجتہاد کرے، اور اگر اسے صحیح بات سمجھ نہ آئے تو (فیصلہ کرنے کے بجائے) اقرار کر لے اور شرم نہ کرے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأحكام / حدیث: 7206
درجۂ حدیث محدثین: رجاله ثقات القاسم: هو ابن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود
تخریج حدیث «رجاله ثقات القاسم: هو ابن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود، وأبوه عبد الرحمن قد اختلف في سماعه من أبيه عبد الله بن مسعود.» [ترقيم الرساله 7206] [ترقيم الشركة 7125] [ترقيم العلميه 7030]
أخبرنا الحسن بن يعقوب العدل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا سعيد بن أبي عَروبة، عن قَتَادة، عن سعيد بن أبي بُرْدة، عن أبيه، عن جَدِّه أبي موسى: أنَّ رجلينِ ادَّعَيا بعيرًا أو دابَّةً إلى النبي ﷺ، وليس لواحدٍ منهما بيِّنةٌ، فجعله النبيُّ ﷺ بينَهما (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه. وقد خالف همَّامُ بن يحيى بن سعيدَ بن أبي عَروبة في متن هذا الحديث:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7031 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے نبی کریم ﷺ کے پاس ایک اونٹ یا جانور کا دعویٰ کیا اور کسی ایک کے پاس بھی گواہ نہیں تھا، تو نبی کریم ﷺ نے وہ جانور ان دونوں کے درمیان (نصف نصف) تقسیم فرما دیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأحكام / حدیث: 7207
درجۂ حدیث محدثین: حديث مُعَلٌّ عند أهل الحديث مع الاختلاف في إسناده على قتادة
تخریج حدیث «حديث مُعَلٌّ عند أهل الحديث مع الاختلاف في إسناده على قتادة، كما أن أبا بردة لم يسمعه من أبيه أبي موسى كما بيَّناه في تعليقنا على "مسند أحمد".» [ترقيم الرساله 7207] [ترقيم الشركة 7126] [ترقيم العلميه 7031]
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن أيوب (ح) وأخبرني أبو الوليد وأبو بكر بن قُرَيش، حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا هُدْبة بن خالد، حدثنا همَّام بن يحيى، عن قَتَادة، عن سعيد بن أبي بُرْدة، عن أبيه، عن أبي موسى: أنَّ رجلينِ ادَّعيا بعيرًا، فأقام كلُّ واحدٍ منهما شاهدَينِ، فقسمه النبيُّ ﷺ بينَهما (2). وهذا الحديث أيضًا صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7032 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے ایک اونٹ کا دعویٰ کیا اور ان میں سے ہر ایک نے دو دو گواہ پیش کر دیے، تو نبی کریم ﷺ نے وہ اونٹ ان دونوں کے درمیان تقسیم فرما دیا۔
یہ حدیث بھی شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأحكام / حدیث: 7208
درجۂ حدیث محدثین: حديث مُعَلٌّ كما سبق.
تخریج حدیث «حديث مُعَلٌّ كما سبق.» [ترقيم الرساله 7208] [ترقيم الشركة 7127] [ترقيم العلميه 7032]
أخبرنا الحسن بن حَلِيم (1) المروزي، حدثنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرني أسامة بن زيد [عن] (2) مولى أمِّ سَلَمة، عن أمِّ سَلَمة قالت: أتى رجلان النبيِّ ﷺ يَتَدارآنِ في مواريثَ بينهما، ليس لهما بيّنةٌ، فأمرهما النبيُّ ﷺ أن يقتسما ويتوخَّيا، ثم يَستَهما، ولْيُحلِلْ كلُّ واحدٍ منهما صاحبَه (3). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ومولى أمٍّ سَلمة: هو عُبيد الله بن أبي رافع المخرَّج في "الصحيحين".
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7033 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ دو آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آئے جو وراثت کے معاملے میں ایک دوسرے سے تکرار کر رہے تھے اور ان کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا، تو نبی کریم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ (تقسیم میں) انصاف کریں، حق تلاش کریں، پھر قرعہ اندازی کریں اور ہر ایک دوسرے کو معاف کر دے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأحكام / حدیث: 7209
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن من أجل أسامة بن زيد: وهو الليثي
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل أسامة بن زيد: وهو الليثي، ومولى أم سلمة: هو عبد الله بن رافع، جاء مسمّى في مصادر التخريج، وليس هو عُبيدَ الله بن أبي رافع كما ذهب إليه المصنِّف بناءً على ما أورده في الرواية التالية.» [ترقيم الرساله 7209] [ترقيم الشركة 7128] [ترقيم العلميه 7033]
حدثنا أبو نصر أحمد بن سهل الفقيه ببخاري، حدثنا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حدثنا محمد بن أبي بكر وأحمد بن المِقدام، قالا: حدثنا الفُضيل بن سليمان، حدثنا أسامة بن زيد، حدثني عُبيد الله بن أبي رافع مولى أمِّ سَلَمة، قال: سمعتُ أمَّ سَلَمةَ تقول: كنتُ عند النبيِّ ﷺ فجاءه رجلانِ يختصمانِ في ميراثٍ بينهما، وليس لواحدٍ منهما بينِّةٌ، وقال كلُّ واحدٍ منهما لصاحبه: يا رسول الله، حَقِّي هذا الذي طلبتُه لفلان، قال: "لا، ولكن اذهبا فتَوخَّيا ثم استَهِما، ثم اقسِما، ثمَّ لْيُحلِلْ كلُّ واحدٍ منكما صاحبَه" (4).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7034 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس تھی کہ دو آدمی وراثت کے معاملے میں جھگڑا کرتے ہوئے آئے اور ان میں سے کسی کے پاس گواہ نہیں تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”لیکن تم دونوں جاؤ اور (تقسیم میں) حق تلاش کرو، پھر قرعہ اندازی کرو، پھر اسے تقسیم کرو، اور تم میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کو معاف کر دے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأحكام / حدیث: 7210
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، الفضيل بن سليمان - وهو النميري - ليِّن، وقد خالف جميعَ من رواه عن أسامة بن زيد، حيث سمَّى مولى أم سلمة عُبيدَ الله بن أبي رافع، والصوابُ رواية الجمهور عن أسامة بن زيد أنَّ اسمه عَبد الله بن رافع، كما تقدَّم في تخريج الحديث السابق.» [ترقيم الرساله 7210] [ترقيم الشركة 7129] [ترقيم العلميه 7034]
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا عبد الوارث، عن عطاء بن السائب، عن أبي يحيى، عن ابن عباس: أنَّ رجلًا ادَّعى عند رجل حقًّا، فاختَصَما إلى نبي الله ﷺ، فسأله البيِّنةَ، فقال: ما عندي بيِّنةٌ، فقال للآخر: "احلِفْ"، فحَلَفَ فقال: والله ما له عندي شيء، فقال رسولُ الله ﷺ: "بَلَى، هو عندَك، ادفع إليه حقَّه" ثم قال له رسول الله ﷺ: "شهادتُك بأنْ لا إله إلَّا اللهُ كفّارةٌ ليمينِك" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7035 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کے ذمہ کسی حق کا دعویٰ کیا، پس وہ دونوں اپنا مقدمہ لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ ﷺ نے مدعی سے گواہ طلب کیے تو اس نے عرض کیا کہ میرے پاس کوئی گواہ نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے دوسرے شخص سے فرمایا: ”تم قسم اٹھاؤ“، اس نے قسم اٹھاتے ہوئے کہا: اللہ کی قسم! اس کا میرے ذمہ کچھ بھی نہیں ہے۔ تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں (ایسا نہیں ہے)، بلکہ اس کا حق تمہارے ہی ذمہ ہے، لہٰذا اس کا حق اسے ادا کر دو“، پھر رسول اللہ ﷺ نے اس (مدعی) سے فرمایا: ”تمہاری یہ گواہی کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، تمہاری (اس ناحق) قسم کا کفارہ ہے (یعنی تمہارے اسلام کی برکت سے اللہ نے معاملہ ختم کر دیا)۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأحكام / حدیث: 7211
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف لاضطراب عطاء بن السائب في متنه وسنده
تخریج حدیث «ضعيف لاضطراب عطاء بن السائب في متنه وسنده، وتفرّده به، وقد عدَّ الإمام الذهبي هذا الحديث في "ميزان الاعتدال" 3/ 72 من مناكيره.» [ترقيم الرساله 7211] [ترقيم الشركة 7130] [ترقيم العلميه 7035]
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو نُعيم وأبو حذيفة، قالا: حدثنا سفيان، عن الحسن بن عمرو، عن محمد بن مسلم بن السائب (1)، عن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ: "إذا رأيتَ أمَّتي تَهَابُ، فلا تقول للظالم: يا ظالمُ، فقد تُوُدِّعَ منهم" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7036 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم دیکھو کہ میری امت (حق بات کہنے سے) ڈرنے لگی ہے اور وہ ظالم کو ”اے ظالم“ نہیں کہہ پاتی، تو سمجھ لو کہ ان سے رخصت طلب کر لی گئی ہے (یعنی وہ اللہ کی مدد و نصرت سے محروم کر دیے گئے ہیں)۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأحكام / حدیث: 7212
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لانقطاعه
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لانقطاعه، محمد بن مسلم - وهو أبو الزبير المكي - لم يسمع من عبد الله بن عمرو كما قال ابن معين وأبو حاتم وابن عدي، وقد أدخل أبو شهاب الحناط بينهما عمرَو بن شعيب كما سيأتي، وعمرو أيضًا لم يسمع من جدِّ أبيه عبد الله بن عمرو. أبو ...» [ترقيم الرساله 7212] [ترقيم الشركة 7131] [ترقيم العلميه 7036]
أخبرني محمد بن علي (1) بن دُحَيم الشَّيباني، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدثنا مالك بن إسماعيل النَّهْدي، حدثنا الأجلح، عن الشَّعبي، عن عبد الله بن الخليل، عن زيد بن أرقم: أنَّ عليًّا بعثه النبيُّ ﷺ إلى اليمن، فارتفع إليه ثلاثةٌ يتنازعون ولدًا، كلُّ واحد يَزعُمُ أنَّه ابنُه. قال: فخَلَا باثنين، فقال: أتَطيبانِ نَفْسًا لهذا الباقي بالولد؟ قالا: لا، وخَلَا باثنين، فقال لهما مثلَ ذلك، فقالا: لا، فقال: أُراكم شُركاءَ متشاكِسون (2) وأنا مُقرِعٌ بينكم، فأقرعَ بينهم فجعلَه لأحدِهم، وأغرَمَه ثُلُثَي الدِّيَة للباقين. قال: فذكر ذلك للنبي ﷺ، فضحك حتى بَدَتْ نَواجِذُه (3). قد أعرض الشيخان ﵄ عن الأجلح بن عبد الله الكِندي أصلًا، وليس في رواياته بالمتروك، فإنَّ الذي يُنقَم عليه به مذهبُه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7037 - الأجلح ليس بالمتروك
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو نبی کریم ﷺ نے یمن بھیجا، وہاں ان کے پاس تین آدمی ایک بچے کے متعلق جھگڑا لے کر آئے، ان میں سے ہر ایک کا یہ دعویٰ تھا کہ وہ اسی کا بیٹا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے باری باری ان میں سے دو دو کو علیحدگی میں بلا کر پوچھا کہ کیا تم اس تیسرے ساتھی کے حق میں بخوشی بچے سے دستبردار ہوتے ہو؟ ان سب نے انکار کر دیا۔ تب آپ نے فرمایا: ”مجھے تو تم ایسے شرکاء نظر آتے ہو جو ایک دوسرے کی بات ماننے کو تیار نہیں «شُرَكَاءَ مُتَشَاكِسُونَ»، اب میں تمہارے درمیان قرعہ اندازی کروں گا“، چنانچہ آپ نے قرعہ ڈالا تو وہ بچہ ایک کے نام نکلا، آپ نے وہ بچہ اسے دے دیا اور اسے حکم دیا کہ وہ باقی دو ساتھیوں کو (بچے کی) دیت کا دو تہائی حصہ ادا کرے۔ راوی کہتے ہیں کہ جب اس واقعے کا تذکرہ نبی کریم ﷺ سے کیا گیا تو آپ ﷺ اس قدر ہنسے کہ آپ ﷺ کی داڑھیں مبارک نظر آنے لگیں۔
شیخین نے اجلح بن عبداللہ الکندی سے اصلاً اعراض کیا ہے، حالانکہ ان کی روایات متروک نہیں ہیں، ان پر جو اعتراض کیا جاتا ہے وہ ان کے مخصوص نظریات (مذہب) کی بنا پر ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأحكام / حدیث: 7213
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لاضطرابه
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لاضطرابه، وقد سلف بيانه برقم (2865).» [ترقيم الرساله 7213] [ترقيم الشركة 7132] [ترقيم العلميه 7037]
حدثنا أبو الفضل محمد بن إبراهيم المزكِّي، حدثنا أحمد بن سَلَمة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جَرير، عن منصور، عن مجاهد، عن يوسف مولى الزُّبير، عن عبد الله بن الزُّبير، قال: كانت جاريةٌ لزَمْعَةَ يَطَؤُها، وكانت تُظَنُّ برجلٍ آخرَ أنه يقع عليها، فمات زَمْعةُ وهي حاملٌ، فولدت غلامًا يُشبهُ الرجلَ الذي كان يُظَنُّ به (1)، فذكرت سَوْدةُ للنبي ﷺ، فقال: "أما الميراثُ فله، وأما أنتِ فاحتَجِبي منه، فإنه ليس لك بأخٍ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7038 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ زمعہ کی ایک لونڈی تھی جس سے ان کے تعلقات تھے، اس لونڈی کے بارے میں یہ گمان بھی کیا جاتا تھا کہ ایک دوسرا شخص بھی اس کے پاس آتا ہے۔ جب زمعہ کا انتقال ہوا تو وہ لونڈی حاملہ تھی، پھر اس کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کی شکل و شباہت اس دوسرے مشکوک شخص سے بہت ملتی جلتی تھی۔ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے اس کا تذکرہ نبی کریم ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جہاں تک وراثت کا تعلق ہے تو وہ اسی بچے کا حق ہے (کیونکہ وہ صاحبِ فراش کا ہے)، لیکن اے سودہ! تم اس سے پردہ کرو کیونکہ (شرعی طور پر) وہ تمہارا بھائی نہیں ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأحكام / حدیث: 7214
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح دون قوله: "فإنه ليس لك بأخٍ" وهذا إسناد ضعيف
تخریج حدیث «حديث صحيح دون قوله: "فإنه ليس لك بأخٍ" وهذا إسناد ضعيف، يوسف مولى الزبير: هو ابن الزبير القرشي الأسدي مولاهم، وقد روى عنه اثنان ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان، وقال الحافظ: مقبول، وقد انفرد بهذه اللفظة، ولا يحتمل تفرده، وقد ضعفها بعضُ أهل العلم، كما بيَّناه في "مسند ...» [ترقيم الرساله 7214] [ترقيم الشركة 7133] [ترقيم العلميه 7038]
أخبرني الحسن بن حَليم المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرني ابن جُريج، أخبرنا زياد بن سعد، عن هِلال بن أسامة: أنَّ أبا ميمونة سُليمًا، من أهل المدينة رجلُ صِدْقٍ - قال: بينا أنا جالسٌ عند أبي هريرة جاءته امرأةٌ فارسية معها ابنٌ لها، وقد طلَّقها زوجُها، فقالت: يا أبا هريرة، ثم رَطَنَت فقالت بالفارسية: زوجي يريد أن يذهبَ بابني، قال: فجاء زوجُها فقال: من يُحاقُّني؟ فقال أبو هريرة: إنِّي لا أقولُ في هذا إلَّا أَنِّي سمعتُ أنَّ امرأةً جاءت إلى النبي ﷺ وأنا قاعدٌ عنده، فقالت: فِداكَ أبي وأمِّي يا رسول الله، إِنَّ زوجي يريدُ أن يذهبَ بابني، وهو يَسقِيني من بئر أبي عِنَبة، وقد نَفَعَني، فقال: "استَهِما عليه" فقال زوجُها: من يُحاقُّني في ولدي يا رسولَ الله؟ فقال النبي ﷺ: "يا غلامُ، هذا أبوك، وهذه أمُّك، فخُذْ بيدِ أيِّهما شئتَ" فأخذ الغلامُ بيد أمِّه، فانطلقت به (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7039 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ابومیمونہ کہتے ہیں کہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ ان کے پاس ایک فارسی خاتون آئی جس کے ساتھ اس کا بیٹا تھا، اسے اس کے شوہر نے طلاق دے دی تھی۔ اس نے اپنی فارسی زبان میں کلام کرتے ہوئے کہا: ”اے ابوہریرہ! میرا شوہر میرے بیٹے کو مجھ سے چھین کر لے جانا چاہتا ہے“، اسی دوران اس کا شوہر بھی آگیا اور کہنے لگا: ”کون ہے جو میرے بچے کے معاملے میں مجھ سے جھگڑا کرے گا؟“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں اس بارے میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا سوائے اس کے جو میں نے خود سنا ہے کہ ایک عورت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی جبکہ میں وہیں بیٹھا ہوا تھا، اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان، میرا شوہر میرے بیٹے کو لے جانا چاہتا ہے حالانکہ یہ مجھے بئر ابی عنبہ سے پانی پلا کر نفع پہنچاتا ہے“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم دونوں اس پر قرعہ اندازی کر لو“، شوہر نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے بیٹے کے بارے میں مجھ سے کون جھگڑا کر سکتا ہے؟ تب نبی کریم ﷺ نے اس بچے سے فرمایا: ”اے لڑکے! یہ تمہارا باپ ہے اور یہ تمہاری ماں ہے، تم ان دونوں میں سے جس کا چاہو ہاتھ تھام لو“، چنانچہ اس لڑکے نے اپنی ماں کا ہاتھ پکڑ لیا اور وہ اسے لے کر چلی گئی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأحكام / حدیث: 7215
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفزاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان بن جبلة، وعبد الله: هو ابن المبارك، وابن جريج: هو عبد الملك بن عبد العزيز.» [ترقيم الرساله 7215] [ترقيم الشركة 7134] [ترقيم العلميه 7039]